Daily Mashriq


سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کو زینب قتل کیس کی سماعت سے روک دیا

ویب ڈیسک:سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کو زینب قتل کیس کی سماعت روکتے ہوئے کہاکہ ہائی کورٹ کے پاس ازخود نوٹس کا اختیارنہیں،جبکہ کیس کا حل نہ ہونا حکومت اور پولیس کی ناکا می ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے زینب قتل کیس پہلی اور مختصر سماعت کی، سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کو سماعت سے روکتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس ازخود نوٹس کا اختیار نہیں۔

واضح رہے کہ زینب قتل کیس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ میں زینب قتل پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب سے کہا کہ واقعے پر پوری قوم غم زدہ ہےبتایا جائے کہ اب تک کیا پیش رفت کی گئی۔

عدالت کوبتایا گیا کہ کیس کی تحقیقات اور تفتیش جاری ہیں، ڈیرھ سال میں اس نوعیت کے8واقعات ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل آئی جی سے کہا کہ اگر آپ اپنی تحقیقات چیمبر میں بتانا چاہتے ہیں تو بتا دیں،کیس میں کوئی بھی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی۔

ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ ملزم کی گرفتاری کا وقت نہیں دے سکتے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ملزم پولیس مقابلے میں مارا جائے بلکہ مجرم کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ معاملات پر پارلیمنت سے ابھی تک کوئی قانون پاس نہیں کیا گیا۔

پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث مجرم بری ہو جاتے ہیں،اور ملزمان کو تحقیقات میں نقائص کا فائدہ ہوتا ہے،پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان اجنبیت ختم ہونی چاہیے،بار بار کہہ چکا ہوں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے،اصلاحات کے معاملےپر اراکین ملنا چاہیں تو تیار ہیں۔

سپریم کورٹ نے زینب قتل ازخود نوٹس کی سماعت اتوار21جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے تمام تحقیقاتی ٹیموں کو طلب کر لیا،جبکہ کیس کی اگلی سماعت لاہور میں ہوگی۔

متعلقہ خبریں