Daily Mashriq


امریکہ طالبان معاملت کا نازک موڑ

امریکہ طالبان معاملت کا نازک موڑ

امریکہ کی جانب سے افغانستان میں مستقل فوجی اڈے رکھنے کی خواہش کا اظہار کوئی راز کی بات نہیں اور نہ ہی یہ کسی انکشاف کے زمرے میں آتا ہے بلکہ یہ نوشتہ دیوار تھا، البتہ طالبان کا بھاری رقم کے عوض امریکہ کو اس قسم کی سہولت کی فراہمی پر آمادگی طالبان کے موقف میں نرمی اور لچک کا عندیہ ضرور ہے۔ طالبان کے موقف میں ایک نرمی پہلے ہی یہ آچکی ہے کہ وہ قبل ازیں افغانستان میں ایک بھی غیر ملکی فوجی کی موجودگی میں مذاکرات کیلئے آمادہ نہ ہونے کا بار بار اعلان کرتے آئے ہیں اب طالبان کی جانب سے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کا ایک دور ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہوا ہے جسے کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کے مصداق گردانا جا سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کی گنجائش رکھنے کا عندیہ ان کے موقف میں وہ بڑی واضح تبدیلی ہے جس سے ان مذاکرات کے آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اس کے بدلے یقیناً افغانستان کے اس تباہ شدہ بنیادی اساس کی بحالی ہی ہوسکتی ہے جسے اولاً سویت یونین مابعد افغانوں کی باہمی خانہ جنگی اور سوم افغانستان پر نیٹو اور امریکی فوج کی یلغار اور ڈیزی کٹر بموں کی قالینی بمباری سے نقصان پہنچا تھا۔ افغانستان میں عارضی قیام امن کے دنوں میں خاصی بہتری اور ترقی دیکھنے میں آئی ہے اور اگر افغانستان میں مستقل قیام امن کی راہ نظر آئے خاص طور پر طالبان اور امریکہ کے درمیان مکمل نہ سہی کسی نہ کسی حد تک مفاہمت یا کم ازکم جیو اور جینے دو کی بھی معاملت ہوجاتی ہے اور لوگوں کو اس کا یقین ہو جاتا ہے تو افغانستان کی ترقی میں اچانک سے تیزی اس لئے غیر متوقع نہیں کہ حالات سے گھبرائے ڈالروں کی جو پیٹیاں افغانستان سے بیرون ملک منتقل ہوتی رہیں افغانستان کا سرمایہ کار وہ دولت واپس لاکر افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے لگیں گے تو ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف یہی نہیں جو جو ممالک افغانستان کی تباہی وبربادی اور بدامنی میں براہ راست یا بالواسطہ ذمہ دار رہے ہیں خاص طور پر امریکہ تباہ شدہ افغانستان کی تعمیرنو میں حصہ داری کے بغیر ان کا وہاں سے نکلنا ممکن نہ ہوگا گوکہ پاکستان کے سابقہ قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی کے معاملات کا افغانستان کے حالات سے براہ راست تعلق نہیں بنتا لیکن افغانستان کے حالات کے باعث ہمارے قبائلی علاقہ جات کی معیشت سے لیکر آبادی کی منتقلی تک جس قسم کے حالات سے ہمارے قبائلی بھائی دوچار رہے دہشتگردی کیخلاف جنگ جس طرح ہمارے سرحدوں کے اندر آکر ہمارے صوبے اور خاص طور پر قبائلی اضلاع کو متاثر کرنے کا باعث بنا دنیا کو اس کا خراج دینا ہوگا اس ضمن میں ہماری حکومت کو امریکہ اور عالمی دنیا سے افغانستان کیساتھ ساتھ ہمارے قبائلی اضلاع اور صوبے میں ہونے والے نقصانات اور اس کے اثرات کے ازالے کیلئے کردار ادا کرنے کیلئے سنجیدہ رابطے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جبکہ افغانستان میں اس قسم کی معاملت ہو رہی ہے ہمیں اپنا مقدمہ پوری تیاری کیساتھ لڑنے کی ضرورت ہے امریکہ کو پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے شکایات ہوتی رہی ہیں اور اس ضمن میں پاکستان کو دباؤ میں لانے کیلئے مختلف قسم کی پابندیاں اور سختیاں عائد کی جاتی رہی ہیں اب جبکہ امریکہ کھیل سمیٹ رہا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ہمارے نقصانات کا بھی ازالہ کرے تاکہ افغانستان کے حالات سے ہمارے متاثرہونے کے نقصانات کا نہ صرف ازالہ بلکہ خطے کے حالات میں توازن قائم ہو۔ جہاں تک افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا تعلق ہے امریکہ اس سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگا امریکہ کا افغانستان آمد کا پس منظر اور مطمح نظر بھی ان اڈوں کا قیام تھا لیکن دنیا کے دیگر ممالک کی بہ نسبت افغانستان میں امریکہ کیلئے ان فوجی اڈوں کے برقرار رکھنے کی قیمت اور خطرات دونوں شاید دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ اور پُرخطرہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے سارے کے سارے گروپ اور نظامتیں مکمل طور پر امریکی اڈوں کی موجودگی اور قیام پر آمادہ کبھی نہ ہوں گی جس کی بناء پر طالبان سے معاملات کے باوجود ان اڈوں کے تحفظ اور امریکی افواج کی ان اڈوں میں موجودگی یقینی بنانے کیلئے بھی خاصے انتظامات کرنے ہوں گے اور یہ اڈے دنیا میں کسی بھی امریکی اڈوں سے بڑھ کر مہنگا سودا ثابت ہوگا اس کے باوجود بھی ان اڈوں کو لاحق خطرات میں کمی شاید ہی آسکے۔ افغانستان میں طالبان سے معاملت کے باوجود داعش کی صورت میں جو خطرہ موجود ہے وہ بھی کم دردسر نہیں اس سے نمٹنے کیلئے بھی خاصے تگ ودو اور انتظامات کی ضرورت ہوگی بہرحال امریکہ اور طالبان کے درمیان اور خطے میں قیام امن کی کوششیں مضبوط ہوسکتی ہیں جس سے خطے میں قیام امن کی راہ ہموارہوگی۔ جس کے نتیجے میں خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوگا اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بے چینی میں کمی آئے گی۔

متعلقہ خبریں