Daily Mashriq

حزب اختلاف کو اشتعال دلانے کا حاصل کیا؟

حزب اختلاف کو اشتعال دلانے کا حاصل کیا؟

قومی اسمبلی کے اجلاس میں گالی کی آواز پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور حزب اختلاف کا اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ اور وزیراعظم عمران خان کا ایک ٹوئٹ میں اس عمل پر اظہار ناراضگی اور پارلیمنٹ اجلاسوں کا عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہونے کا احساس دلانا اسلئے کافی نہیں کہ اولاً تحریک انصاف ہی وہ جماعت ہے جس نے اسمبلی سے استعفے دیکر طویل بائیکاٹ جاری رکھا جبکہ وزیراعظم عمران خان وعدے کے باوجود مہینے میں ایک بار اسمبلی آکر سوالوں کا جواب دینے کے وعدے پر قائم نہیں رہ سکے سوم یہ کہ حزب اختلاف کو اس قسم کے مواقع کی تلاش ضرور ہوگی لیکن اس کی بنیاد حکومتی جماعت ہی کے اراکین کی طرف سے فراہمی حیران کن ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اب تک حزب اختلاف کی بجائے حکومتی بینچوں کی جماعت کا کردار اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جہاں تک حزب اختلاف کی جماعتوں کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس قدر تجربہ کار اور مؤثر حزب اختلاف کے باوجود حزب اختلاف کی جانب سے حکومت کو ایوان چلانے کے جو مواقع دیئے جا رہے ہیں اس کا حکومتی جماعت کو فائدہ اُٹھانا چاہئے نہ کہ عدم احتیاط اور ایک دو جملہ کہہ کر حزب اختلاف کو مشتعل کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایوان میں اب قانون سازی ہونی چاہئے اور ایوان کی کارروائی کو چلنے دیا جائے اس میں ملک وقوم اور حکمران جماعت سبھی کا فائدہ ہے۔ جہاں تک الزامات کا تعلق ہے الزام تراشی کیلئے قومی اسمبلی مناسب فورم نہیں، نیب اور عدالتیں ہیں جہاں بڑی سیاسی جماعت کی سینئر قیادت کا احتساب جاری ہے۔ اب اس امر کا انتظار کیا جانا چاہئے کہ عدالتوں میں مقدمات کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں اور مزید کون کون احتساب کی زد میں آتا ہے اور کس کے بعد کس کی باری ہے۔ خواہ مخواہ کی جملہ بازی سے ایوان کا ماحول مکدر کر کے حکومتی جماعت کچھ حاصل تو نہیں کرسکتی البتہ کچھ کھونے کی نوبت ضرور آسکتی ہے۔ جہاں تک حزب اختلاف کی جماعتوں اور قیادت کا سوال ہے ان کے پاس کھونے کیلئے اب کچھ باقی نہیں رہا اب وہ بقاء کی جنگ جیت کر واپسی کی جدوجہد میں ہیں جسے ان کو روکنے کا مناسب فورم ایوان نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اگر حزب اختلاف پر اظہار برہمی کی بجائے اپنی جماعت کے آمادہ بہ جنگ افراد کو جذبات قابو میںرکھنے کا کہیں تو یہ زیادہ بہتر اور مؤثر ہوگا اور حکومت کا مفاد بھی اسی میں ہے۔

بلاامتیاز احتساب کی ضرورت

قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا کی جانب سے شکایات ملنے پر سی ایم ہاؤس اور پختونخوا ہاؤس کے اخراجات کی انکوائری اس بنا پر مزید مستحسن اقدام ہے کہ اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کے گزشتہ حکومت میں اگر بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں ہوئی ہوں گی تو ان پر کارروائی سے امتیازی احتساب کے الزام کی شدت میں کمی آئے گی اور اگر معاملات قانون کے مطابق اور شفاف تھے تو اس سے اس امر کو تقویت ملے گی کہ الزامات کی حقیقت صرف الزام تراشی کی حد تک تھی۔ بہرحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ نیب خیبر پختونخوا نے غیر سنجیدہ شکایات پر کارروائی کا عندیہ دیا ہو۔ ہمارے تئیں احتساب ہونا چاہئے اور ہر سطح پر ہونا چاہئے، چاہے وہ ہیلی کاپٹر کیس ہو یا محکمہ جنگلات کی وسیع اراضی کے غیرقانونی تحویل کا معاملہ یا پھر دیگر معاملات حقیقی اور بلاامتیاز احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جانا چاہئے۔

غیر حقیقت پسندانہ یقین دہانی مناسب نہیں

ضم شدہ قبائلی علاقوں کے عوام کو تمام حقوق کی فراہمی سے متعلق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی یقین دہانی متعلقہ اضلاع کے لوگوں کیلئے اطمینان کا باعث لمحہ ضرور ہے۔ گورنر کی جانب سے انضمام کے بعد پہلے والی مراعات کو بھی جاری رکھنے کی یقین دہانی سمجھ سے بالاتر امر ہے۔ جب انتظامی ہیئت ہی تبدیل ہو جائے اور ضم ہونے کے عمل کی تکمیل ہو تو سابقہ مراعات کا نہ تو جواز باقی رہ جاتا ہے اور نہ ان مراعات کا وجود باقی رہنا چاہئے۔ بہتر ہوگا کہ مبالغہ آرائی اور غیر حقیقت پسندانہ یقین دہانیوں سے گریز کیا جائے اور حقیقی اور قابل عمل امور ہی کی یقین دہانی کرا کے ان کی تکمیل پر توجہ دی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی عوام کیساتھ پہلے ہی بہت سے ایسے وعدے ہو چکے ہیں جن کے پورا نہ ہونے پر قبائلی عوام بداعتمادی کا شکار ہیں۔ قبائلی عوام سے مزید ایسے وعدے نہ کئے جائیں جن کو پورا نہ کیا جاسکے، قبائلی عوام حکومت سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتے ہوں گے سوائے اس کے کہ اُن کو بھی شہری علاقوں کے عوام کے برابر سہولیات اور مراعات دی جائیں یہ اُن کا حق بھی ہے اور اس کیلئے کوشش کرنا حکمرانوں کی ذمہ داری بھی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکام قبائلی عوام کو سبزباغ دکھانے کی بجائے اُن کو اُن کا جائز حق دینے کو یقینی بنائیں گے۔

متعلقہ خبریں