Daily Mashriq


افغان امن پراسیس میں تیزی

افغان امن پراسیس میں تیزی

افغانستان میں قیام امن کے مذاکرات لگتا ہے کہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کے زلمے خلیل زاد جو گزشتہ 8جنوری سے بین الافغان سیاسی سمجھوتے کیلئے سہولت کاری کیلئے علاقے کے ملکوں کے دورے پر ہیں توقع ہے کہ آج کسی وقت اسلام آباد پہنچیں گے۔ ان کیساتھ صدر امریکہ کی نائب معاون لیزا کرٹس بھی ہوں گی جو گزشتہ دو سال سے وہائٹ ہاؤس میں افغان امن پراسیس کی نگران ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکہ کے دفتر خارجہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری ایلس ویلز بھی پاکستان آنے والی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ زلمے خلیل زاد کے وفد میں شامل ہوں گی یا نہیں۔ زلمے خلیل زاد کا وفد اتوار کو بیجنگ میں تھا جہاں چین کے اعلیٰ حکام سے کابل حکومت اور طالبان کے درمیان انتظام کی امریکی تجاویز پر مذاکرات ہوئے۔ گزشتہ جمعہ کے روز امریکی نمائندہ خصوصی نے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے دہلی میں ملاقات کی جہاں میڈیا کے مطابق بھارت نے اصرار کیا کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل ’’افغانوں کے زیرِ قیادت افغانوں کے کنٹرول میں افغانوں کا اپنا‘‘ ہونا ضروری ہے۔ اتوار ہی کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دوہا میں قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے ملاقات کی۔ اگرچہ میڈیا کے مطابق امریکہ اور قطر کے وزرائے خارجہ کے درمیان گفتگو سعودی عرب اور قطر کے تنازعہ کو ختم کرنے کے بارے میںہوئی تاہم یہ بات اہم ہے کہ تحریک طالبان کے شریک بانی اور ملاعمر مرحوم کے نائب ملا عبدالغنی برادر آج کل قطر میں مقیم ہیں۔ ملابرادر پاکستان میں زیرِ حراست تھے جنہیں امریکہ کے اصرار پر رہا کیا گیا تاکہ وہ افغان امن مذاکرات میں کردار ادا کر سکیں۔ قطر میں طالبان کا دفتر بھی ہے اور وہاں افغان امن پراسیس کے سلسلہ کے دو بار مذاکرات بھی ہو چکے ہیں۔ یہ بعید ازامکان نہیں کہ امریکی وزیر خارجہ کے دورۂ قطر کے دوران افغانستان امن پراسیس بھی زیرِ غور آیا ہو۔ دوسری طرف کابل حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے گزشتہ ہفتہ چین‘ سعودی عرب اور عرب امارات کا دورہ کیا ہے اور ان حکومتوں سے کابل طالبان مذاکرات کے بارے میں مذاکرات کئے ہیں۔ میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں سے اور زلمے خلیل اور وفد کے پاکستان میں پہلے کی نسبت طویل (پانچ روزہ) قیام سے یہ اندازہ تو ہوتا ہے کہ افغان امن عمل میں تیزی آ گئی ہے‘ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ برف کسی حد تک پگھلی ہے۔ تاہم یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میںکوئی اہم کامیابی یقینی ہے۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔ پاکستان بار بار یہ وضاحت کر چکا ہے کہ طالبان کی اپنی آزاد حیثیت ہے اور وہ پاکستان کے تابع فرمان نہیں ہیں‘ مشاورت فراہم کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتکاری کی بدولت اور امریکہ کی اپنی فوج کے انخلا کی پالیسی کے اعلان کے باعث طالبان مذاکرات کی میز پر تو آئے لیکن انہوں نے اس مؤقف کا اعلان کیا کہ امریکہ سے تو وہ مذاکرات کر سکتے ہیں چونکہ امریکہ قابض قوت ہے تاہم وہ کابل حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اس لئے اس سے مذاکرات نہیںکریں گے۔ زلمے خلیل زاد کے وفد سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ پاکستان پر مزید زور دے کہ وہ طالبان کو کابل سے مذاکرات پر آمادہ کرے جس سے طالبان پہلے ہی انکار کر چکے ہیں۔ لہٰذا قیاس چاہتا ہے کہ اب طالبان سمیت تمام فریقوں کو کچھ نئی تجاویز پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یقینا افغان تنازع کے بڑے فریق طالبان‘ کابل حکومت اور امریکہ ہیں لیکن افغانستان کی صورتحال سے اس کے قریبی ہمسائے بھی متاثر ہوتے ہیں اس لئے انہیں بھی فریق شمار کیا جانا چاہئے۔ اگر معاملات اس نہج تک آ گئے ہیں کہ برف پگھلی ہے اور امن پراسیس میںتیزی نظر آرہی ہے تو ایک بار پھر تنازع کی تاریخ پر نظر دوڑانا ضروری ہونا چاہئے۔ افغانستان چالیس سال سے بدامنی کا شکار ہے۔ لاکھوں افغان جاں بحق ہو چکے ہیں اور لاکھوں ترک وطن کر چکے ہیں۔ افغانستان میں کوئی شہر کوئی قصبہ ایسا نہیں جو جنگ زدگی کی شہادت نہ دیتا ہو۔ سب سے زیادہ متاثر افغان عوام ہیں جن کے ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے جو یا تو امریکی امداد یا جہادی چندے یا سمگلنگ پر چل رہی ہے جس میں افیون کی سمگلنگ بھی شامل ہے۔ اس لئے امن عمل کا اولین مقصد افغان عوام کی زندگی میں بہتری لانا ہونا چاہئے محض جنگ بندی نہیں جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔17 سالہ جنگ کے باوجود آج بھی افغانستان کے ساٹھ فیصد یا بعض اندازوں کے مطابق چالیس فیصد رقبہ پر طالبان کو کنٹرول حاصل ہے۔ امریکہ کو بھی شکست نہیںہوئی کہ اس کی فوج آج بھی افغانستان میں موجود ہے جو کابل حکومت کی پشت پناہ ہے۔ امریکی فوج اگر افغانستان سے نکل جاتی ہے یا افغانستان میں طاقت کا توازن درہم برہم ہو جاتا ہے تو ایک بار پھر افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو جانے کا یقینی احتمال ہے۔ اس سے ایک طرف افغانستان میں ایک بار پھر تباہی پھیلے گی دوسری طرف پاکستان‘ ایران‘ چین اور روس کی طرف افغان مہاجرین کا دباؤ پڑے گا۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں داعش زور پکڑ سکتی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے خراسان کی امارت قائم کر دی ہے۔ اس لئے مناسب یہ ہوگا کہ افغان امن عمل کی ملکیت (اونرشپ) اقوام متحدہ کے حوالے کر دی جائے اور جب تک مذاکرات چلتے رہیں اور دیرپا امن یقینی ہو جائے‘ علاقے کے فریق ملکوں‘ امریکہ‘ طالبان اور کابل حکومت‘ پاکستان‘ چین‘ ایران‘ روس اور سعودی عرب کے عناصر پر مشتمل اقوام متحدہ کی امن فوج قائم کر دی جائے اور اس کیساتھ ہی افغانستان کی تعمیرنو اور اس کی معیشت کی بحالی کیلئے اقوام متحدہ کا کوئی ماسٹر پلان جاری کیا جائے تاکہ افغانستان کے عوام کو روزگار میسر آئے اور جو افغان دوسرے ملکوں میں ہجرت کر چکے ہیں انہیں اپنے وطن میں آباد ہونے کی ترغیب ہو۔

متعلقہ خبریں