Daily Mashriq


خواب فروشوں کا نیا کاروبار

خواب فروشوں کا نیا کاروبار

دو جماعتی نظام کو آمریت کی ایک شکل کے طور پر پیش کرتے اور تیسری سیاسی قوت کی تشکیل کی حمایت میں عشرہ بھر تک پُرجوش انداز میں پرنٹ والیکٹرانک میڈیا پر غضب کرپشن کی جادو بھری کہانیوں سے پارلیمانی جمہوریت کیخلاف فضا بناتے رہنے والے صاحبان تک پچھلے چند دنوں سے جمہوریت کی کامل ناکامی کا نوحہ پڑھنے میں مصروف ہیں۔ ان کے خیال میں 5ماہ قبل اقتدار میں آنے والی تبدیلی سرکار قطعی طور ناکام ہوچکی ہے۔ ملک دیوالیہ ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں بنگلہ دیش ماڈل، صدارتی نظام اور دستور کی بڑے پیمانے پر سرجری کی ضرورت ہے۔ ایک نئی تبدیلی کے خواب فروخت کرنے میں مصروف چند خواتین وحضرات نے پہلے ایک عشرے سے عموماً اور سات سالوں سے خصوصاً پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا۔ مسلسل یہ کہا جاتا رہا کہ کرپشن اولین اور بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے ایک نقصان یہ ہوا کہ دوسرے گمبھیر مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی۔ دوسری طرف پہلے سے موجود دونوں بڑی جماعتوں سے سیاسی ہجرت کا عمل شروع ہوا اور 2018ء کے انتخابات سے قبل حیلوں بہانوں سے وہ سارے کردار تحریک انصاف میں جمع ہوگئے جن کے خاندان پچھلے دو تین سو سالوں کے دوران ہمیشہ دربار حکومت میں کرسی نشین رہے۔ محض پانچ ماہ کے دوران ایسا کیا ہوگیا کہ یہ خواب فروش اپنی محبوب جماعت اور دیوتا سمان رہنما سے مایوس ہو کر بنگلہ دیش ماڈل، صدارتی نظام اور دستور کی بڑے پیمانے پر سرجری کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ 1973ء کا دستور جیسا بھی ہے وہ اس ملک کے وجود کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے کسی طبقے کو تبدیلی کی خواہش ہے یا نئی قانون سازی کی تو وہ ہم خیال سیاسی جماعت کے ذریعے اپنی بات اور خواہشوں کو آگے بڑھانے کا حق رکھتا ہے۔ مگر یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ اس کیلئے اصل میدان پارلیمان ہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بنگلہ دیش ماڈل صدارتی نظام اور دستور کی سرجری کو ناگزیر بنا کر پیش کرنیوالے اس امر سے مایوس ہیں کہ جس جماعت کیلئے انہوں نے عشرہ بھر تک لابنگ کی وہ پارلیمان میں اس عددی اکثریت سے محروم ہے جو دستوری ترامیم کیلئے درکار ہوتی ہے۔ وزراء کے ان زریں خیالات کے بیچوں بیچ خواب فروشی کے نئے کاروبار میں مصروف افراد کے خیالات اس تاثرکو تقویت فراہم کر رہے ہیں کہ کوئی اور قوت یہ سب کہلوا رہی ہے۔ اس قوت کے مقاصد اور شناخت کی بحث اٹھائے بغیر یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ خواب فروشوں اور ان کے ہم خیالوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ایسے کثیرالقومی ملک میں اگر پارلیمانی نظام کی جگہ شخصی نظام لانے یا کسی بیرونی ماڈل کو اپنانے اور دستور سے بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اس سے جغرافیائی وحدت کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ ان عناصر اور قوتوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہمارا اصل مسئلہ ملک میں موجود طبقاتی عدم توازن ہے۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی، عدم مساوات اور انصاف کی طبقاتی بنیادوں پر فراہمی ہے۔ ان مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کو اقتدار میں آئے ہوئے ابھی مشکل سے پانچ ماہ ہوئے ہیں یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ پانچ ماہ میں وہ سب نہیں کرپائی جس کے دعوے کئے جاتے تھے لیکن پانچ ماہ کی کارکردگی کی بنیاد پر ناکامی کا ٹھپہ نہیں لگایا جا سکتا۔ مکرر عرض ہے بنگلہ دیش ماڈل صدارتی نظام یا دستور کی سرجری کو ناگزیر بنا کر کرپشن کرنیوالے اپنی اداؤں پر بھی غور کی زحمت کریں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی ان کے بقول مکمل طور پر ناکام ہو چکی اور دیوتا سمان لیڈر قیادت کا حق ادا نہیں کرپایا تو کیا وہ خود اس ناکامی میں حصہ دار نہیں؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان دوستوں کو پہلے تو عوام سے عشرہ بھر کے طوفان بدتمیزی اور دھول اُڑاتے رہنے پر معافی مانگنی چاہئے۔ انہیں کھلے دل سے اعتراف کرنا ہوگا کہ وہ پچھلے ایک عشرے کے دوران کس خودساختہ حازق حکیم کے دواخانہ کی پبلسٹی کرتے رہے بیماری کچھ تھی اور نسخہ میں لکھی ادویات کچھ اور۔۔ کم ازکم اس طالب علم کی رائے یہ ہے کہ اب بھی دانش کی معراج پر جھومتے یہ دوست بیماری کو سمجھ پائے ہیں نہ علاج بارے کوئی شدبد حاصل کر سکے ہیں۔ جانے انجانے میں وہ ایک بار پھر ان قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو جمہوریت سے خدا واسطے کا بیر رکھتی ہیں۔ اندریں حالات بہت ادب کیساتھ یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ پتلی تماشے بہت ہو چکے تجربات، پروپیگنڈے اور حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے قصہ بازی بہت ہو گئی۔ جیسے تیسے بھی تحریک انصاف کو حکومت ملی اب حکومت کرنا اور مسائل کے حل کیلئے پالیسی سازی اس کا حق ہے۔ ابھی حکومت بنے 5 ماہ ہی ہوئے ہیں گوکہ ان پانچ ماہ کی کارکردگی بہتر نہیں پھر بھی اسے موقع ملنا چاہئے۔ ثانیاً یہ کہ پاکستان کسی نئے تجربے کا متحمل ہوسکتا ہے نا دستور کی ایسی سرجری کا جو پارلیمانی نظام کے منافی ہو۔ ثالثاً یہ کہ اب اس امر کو تسلیم کر لیا جانا چاہئے کہ کرپشن صرف سیاستدانوں نے ہی نہیں کی بلکہ کرپشن کی گنگا سے ہر کس وناکس نے اشنان کیا لہٰذا بلا امتیاز احتساب ضروری ہے اس احتساب کا دائرہ خواب فروشوں اور ان کے سرپرستوں تک وسیع ہونا چاہئے تاکہ کرپشن کہانیوں کی جگالی میں جتے ان خواب فروشوں کے معاملات بھی گرفت میں آئیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دستور کی سرجری سے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگ جائیں گی تو اسے کسی اچھے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں