Daily Mashriq


وزیراعظم فنڈ کی بندش، ڈومیسائل اور بیروزگار انجینئرز

وزیراعظم فنڈ کی بندش، ڈومیسائل اور بیروزگار انجینئرز

ہر مرتبہ کے کالم کیلئے ملنے والی شکایات اور مسائل کی تعداد اتنی ہو چکی ہے کہ تمام مسائل کو شامل اشاعت کرنے کیلئے الگ سے اخبار نکالنے کی ضرورت ہے لیکن بہرحال ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کسی کا مسئلہ رہ نہ جائے چونکہ بہت سارے مسائل ایک ہی نوعیت کے ہوتے ہیں اس لئے ایک مسئلے کی اشاعت سے دیگر کی بھی نمائندگی ہو جاتی ہے۔ بہرحال کوشش رہے گی کہ زیادہ سے زیادہ قارئین کے مسائل شامل کئے جا سکیں۔ گل بہار نمبر4 کے رہائشی سلمان لکھتے ہیں کہ گزشتہ حکومت میں قوت سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے علاج وآپریشن کیلئے ایک پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا جس میں Cocria Implant سرجری کرائی جاتی تھی جس کے اخراجات وزیراعظم فنڈ سے ادا کئے جاتے تھے۔ اس پر کل خرچہ 7لاکھ روپے آتا تھا کیونکہ اس میں جو آلہ آپریشن کے ذریعے نصب کیا جاتا ہے وہ آسٹریلیا یا دوسرے کسی ملک سے منگوانا پڑتا ہے جو بہت مہنگا ہے اور عام آدمی کے بس سے باہر ہے۔ موجودہ حکومت نے وہ فنڈ ختم کر دیا ہے جس سے بہت سے عام لوگوں کے بچے اس سہولت سے محروم ہوگئے ہیں۔ میرا بیٹا جو تین سال کا ہے اور قوت سماعت وگویائی سے محروم ہے ڈاکٹروں کے مطابق اگر پانچ سال سے پہلے اس کا آپریشن کر دیا جائے تو اس کے نارمل بچوں کی طرح سننے کے کافی چانسز ہیں اور عام بچوں کے سکول میں جا سکے گا۔ اب جبکہ یہ سہولت ہی حکومت نے ختم کر دی ہے تو میرے جیسے بہت سے لوگ پریشان ہیں کہ اب کیا کریںکیونکہ پرائیویٹ طور پر آپریشن کروانا ہمارے بس میں نہیں۔ ضلع کرم سے نائب خان کا مراسلہ ہے کہ آفریدی قبیلہ کے لاکھوں افراد تقسیم برصغیر پاک وہند سے قبل کے ضلع کرم میں رہ رہے ہیں لیکن ان کو ڈومیسائل بنانے کا حق نہیں دیا جارہا۔ یہاں کے نوجوان ڈومیسائل نہ ہونے کے باعث مرضی کے شعبوں میں نہیں جا سکتے۔ طلباء وطالبات کو کالجوں میں داخلہ نہیں ملتا جس کی بناء پر مجبوراً تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ علاقہ اے سی اور ڈی سی آفس میں ڈومیسائل فارم جمع کرنے پر 2005ء سے اب تک صرف اس وعدے پر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ وہ کیس سٹڈی کریں گے لیکن کئی سال گزر جانے کے باوجود کسی کو ڈومیسائل کا اجراء نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں مجموعی طور پر یہ صورتحال نہ ہوگی ممکن ہے بعض افراد کو کسی پیچیدگی کی بناء پر ڈومیسائل کا اجراء نہ ہو رہا ہو لیکن جو لوگ قیام پاکستان سے قبل یہاں رہ رہے ہیں ان کی نسل کو ڈومیسائل کے حق سے محروم کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ بہرحال اس ضمن میں متعلقہ حکام کو پوری تفصیلی رپورٹ طلب کرنی چاہئے اور حقدار افراد کو ڈومیسائل کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔ اگر ان لوگوں کا وہاں ڈومیسائل قانونی طور پر نہیں بن سکتا تو کہاں بن سکتا ہے اس کی رہنمائی ہونی چاہئے۔ محض ڈومیسائل نہ بننے پر تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات اور تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محرومی ناقابل برداشت امر ہے جس کی گنجائش نہیں۔ آفریدی قبیلے کے ان متاثرہ لوگوں کا اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو پھر ان کو عدالت سے رجوع کرنا چاہئے۔ تیارزہ جنوبی وزیرستان سے ایک نوجوان کو اس امر کی شکایت ہے کہ ان کے علاقے میں چھ پرائمری سکول بنائے گئے مگر اساتذہ کی دو آسامیوں کا اشتہار دیا گیا ان کا خیال ہے کہ باقی تقرریاں ملی بھگت اور رشوت لیکر کی گئی ہوگی۔ میرے تئیں سرکاری آسامیوں کو مشتہر کرنے اور تقرریوں کا ایک طریقۂ کار ہوتا ہے جس طرح سے مذکورہ نوجوان سمجھتے ہیں اس طرح اندھا دھند تقرریاں ممکن نہیں البتہ طریقۂ کار پر چلتے ہوئے کاغذی کارروائی کیساتھ ساتھ ادھر ادھر کے معاملات بھی ہوتے ہیں لیکن بہرحال اس الزام کا نوٹس لیا جانا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ واقعی ملی بھگت کا الزام درست ہے یا پھر یہ محض غلط فہمی اور اندازہ ہے۔ بہرحال معاملے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور امیدواروں کو یہ اطمینان دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کیساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوئی۔ دیر لوئیر سے شیر علی بھائی کو عمرہ پر بھیجنے والے ٹریول ایجنٹس سے شکایت ہے ان کو اور ان کی ضعیف والدہ کو ٹریول ایجنٹ نے براہ راست ٹکٹ کا بتایا اور رقم وصول کی بعد میں ان کو براہ راست فلائٹ پر نہ بھجوایا گیا جس کی وجہ سے ان کو مشکلات کیساتھ اضافی اخراجات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ٹریول ایجنٹس سے لوگوں کی شکایات ہوتی رہتی ہیں لیکن سبھی کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔ ٹریول ایجنٹس کو خوف خدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے مہمانوں کو دھوکہ دیکر چند روپے تو کما سکتے ہیں لیکن خدا کے مہمانوں کو ناراض کرنے کی جو قیمت اس دنیا اور اس دنیا میں چکانا پڑے گا وہ بہت مہنگا اور تکلیف دہ ہوگا۔ ہمارے معاشرے کی بڑی بدقسمتی ہی یہ ہے کہ ہم میں خوف خدا نہیں رہا۔ ملکی قوانین اور معاشرہ دونوں اس قدر کمزور ہیں کہ ان کی وقعت اور اثر نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ہر کس وناکس شتر بے مہار ہو چکا ہے جس کا جو جی میں آئے کرتا ہے۔ قانون کمزور نہیں لیکن نفاذ قانون بالکل بھی نہیں، قانون کی حکمرانی نہ ہو اور قانون خود اس قابل نہ ہو کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کر سکے تو فراڈ اور دھوکہ دہی کے واقعات اور امکانات دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ شہریوں کے شکایات کا مؤثر ازالہ ہونے کیلئے فوری طریقۂ کار وضع کئے بغیر اس قسم کی شکایت کا خاتمہ ہوگا اور نہ ہی بیرون ملک بھجوانے کے نام پر لوگوں سے رقم اینٹھ کر سالوں ان کا استحصال کرنیوالوں کی وارداتوں میں کمی آئے گی۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں