Daily Mashriq


خوشبو سفر میں ہے کسی رفتار کے بغیر

خوشبو سفر میں ہے کسی رفتار کے بغیر

نوابزادہ نصراللہ خان یاد آگئے جو ملکی سیاست میںجوڑ توڑ کے ماہر تھے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ توڑ سے زیادہ جوڑ میں یقین رکھتے تھے اور جب بھی آمریت کیخلاف سیاسی اتحاد کی ضرورت پڑتی تو وہ آگ اور پانی کو ایک ساتھ رکھنے میں کمال مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک دوسرے کی مخالف جماعتوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے وقت کے حکمرانوں کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجانے کا ناممکن کام کرتے اگرچہ ایکدوسرے سے ناراض سیاسی رہنماؤں کے پاس جاجا کر انہیں کتنی مشکلات پیش آتیں، دوسرا کوئی ہوتا تو شاید حوصلہ ہار جاتا مگر چونکہ وہ ادب کے رسیا تھے، شعر وشاعری سے بے پناہ لگاؤ تھا اسلئے اکثر تقریروں میں یا پھر نجی محفلوں میں بھی برموقع اور برمحل اشعار سنا کر حالات کو اپنے حق میں کرنے کا ہنر جانتے تھے بلکہ خود بھی شاعر تھے اس لئے مخالف سیاسی رہنماؤں کو اکٹھا کرتے ہوئے انہیں کبھی کبھی جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا، انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا

یہ تو نے کیا کہا ناصح، نہ جانا کوئے جاناں میں

ہمیں تو رہرؤوں کی ٹھوکریں کھانا، مگر جانا

ان دنوں ملک میں ایک بار پھر ایک طرف سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے کچھ پش رفت ہورہی ہے تو کہیں صرف توڑنے کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، ابھی حال ہی میں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کو خط لکھ کر پختون قیادت کو اکٹھاکرنے اور متفقہ لائحہ عمل کے تحت سیاسی حالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی ہے جس پر میں پہلے ہی کالم لکھ کر پختونخوا میپ اور بعض جماعتوں سے بوجوہ خارج کئے جانے والے یا پھر بعض کو شوکاز نوٹس دیئے جانے کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کی توجہ مبذول کرا چکا ہوں اور گزارش کر چکا ہوں کہ اتحاد واتفاق کیلئے بنیادی نقطہ اپنی اناؤں کی قربانی دینا ہے بصورت دیگر یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکے گی۔ مقام شکر ہے کہ قومی وطن پارٹی کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو بھی خط لکھ دیا گیا ہے، البتہ اسفندیار ولی خان کو جو خط لکھا گیا تھا اس کا جواب کیا آیا ہے تاحال اس پر میڈیا خاموش ہے کہ بقول انور فریدی

سینہ بہ سینہ کرتی ہے صدیوں کا وہ سفر

چلتی ہے جو خبر کسی اخبار کے بغیر

کھلتے ہیں پھول دشت میں، جنگل میں، کوہ میں

خوشبو سفر میں ہے کسی رفتار کے بغیر

ایک جانب آفتاب شیرپاؤ پختون قیادت کو اکٹھا کرنے کا کشٹ اُٹھا رہے ہیں تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمن نے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اپنی رنجشیں بھلا کر ایک بار پھر ہاتھ ملانے کیلئے تگ ودو شروع کر دی ہے، مگر ایسا لگتا ہے کہ ناراضگیوں کے پہاڑوں پر پڑی برف پگھلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ان کے دلوں کے پتھر موم ہو جائیں گے، مسئلہ وہی اناؤں کا ہے اور یہ کم بخت انا چیز ہی ایسی ہے کہ دل میں کچھ کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہ ہونے کی کیفیت طاری رہتی ہے چونکہ دونوں جماعتوں کے ماضی کیساتھ ملنے، بچھڑنے، پھر ملنے، پھر چھوڑ کر چلے جانے کے واقعات جڑے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ میثاق جمہوریت کی ایک دستاویز بھی بیچ میں اصولی طور پر ناراضگیوں کے مستقل خاتمے کی بنیاد بنی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ میثاق بھی دراصل فریب ہی تھا جس کا مقصد جنرل مشرف کو بلیک میل کرکے این آر او کا حصول تھا اس لئے اس دستاویز کی وقعت بھی سب جانتے ہیں یوں حالات پر احمد فراز کا تبصرہ کمال کا ہے کہ

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کیلئے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کیلئے آ

سو اب تازہ حالات ایسے نہیں کہ مزید آنیا جانیاں دکھائی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے بھی عارضی طور پر ہی سہی، ہتھیار پھینک دیئے ہیں یعنی انہوں نے بھی دونوں رہنماؤں کو ایک ساتھ بٹھانے کیلئے پانچ ماہ کی مہلت مانگ لی ہے، خدا جانے ایسی کونسی بات ہے کہ مہلت پانچ ماہ پر محیط ہوگئی ہے، بقول بندر ابن راقم (استاد سودا کے شاگرد تھے)

اے باغباں نہیں ترے گلشن سے کچھ غرض

مجھ کو قسم لے چھیڑوں اگر برگ وبرکہیں

اتنا ہی جانتا ہوں کہ میں اور عندلیب

آپس میں درد دل کہیں، ٹک بیٹھ کر کہیں

ویسے مولانا فضل الرحمن کو ان دنوں اپنی فکر پڑ گئی ہے اور وہ یہ کہ ایک طرف دو رہنماؤں کو جوڑنے کی فکر لاحق ہے تو خود ان کیساتھ سراج الحق نے’’ڈاڈی‘‘ کر دی ہے یعنی جماعت اسلامی نے ایم ایم اے کیساتھ اپنا جوڑ توڑ دیا ہے اور اس سے علیحدگی کا اعلان کر کے ایم ایم اے کو ایک بار پھر بکھیرنے کی بنیاد رکھ دی ہے، جس پر جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے اس فیصلے سے اسلام مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک میں اسلام مخالف قوتیں کونسی ہیں؟ اگر جمعیت کے موقف کو درست مان لیا جائے تو کیا جماعت اسلامی (خدانخواستہ) یہی چاہتی ہے؟ منیر نیازی نے شاید ایسے ہی موقعوں کیلئے کہا تھا

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

متعلقہ خبریں