Daily Mashriq

کارخانو چیک پوسٹ کا واقعہ

کارخانو چیک پوسٹ کا واقعہ

کارخانوچیک پوسٹ کے قریب دھماکہ کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں، بعض اطلاعات کے مطابق دھماکہ چیک پوسٹ کے قریب خالی پلاٹ میں ہوا جبکہ دوسری اطلاع کے مطابق پولیس اہلکار مقامی گنڈا ماروں کو روک کر تلاشی لے رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے بم حملہ کردیا۔ واقعے کی نوعیت جو بھی ہو پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔ غالب امکان یہی ہے کہ چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا گیا پولیس نے بھی ابتدائی طور پر یہی بتایا تھا بعد میں مؤقف میں تبدیلی لائی گئی۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق بھی دستی بم حملہ تھا، اس مؤقف کو تقویت اسلئے بھی ملتی ہے کہ اس واقعے میں دس افراد زخمی ہوگئے جن میں سے ایک خاتون اگلے روز انتقال کر گئیں۔ واقعے میں گنڈا ماروں کی موجودگی اتفاقی تھی یا پھر منصوبہ بندی کیساتھ ایک ایسے وقت بم پھینک کر افراتفری پیدا کر کے پوری پولیس فورس کی توجہ ہٹا کر کسی مقصد کی برآوری تھی اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ پولیس نے اس واقعے کو مشکوک بنانے کی کوشش کیوں کی اس سوال پر بھی غور کرنا چاہئئے۔ کیا سمگلروں اور پولیس کی لڑائی ہوئی تھی یا کوئی اور معاملہ تھا جب تک معاملے کی جامع تحقیقات سے اس کی تہہ تک نہ پہنچا جائے اور وجوہات سامنے نہ لائی جائیں شکوک وشبہات کا ازالہ ممکن نہ ہوگا۔ اس واقعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گنڈے ماری کی ابھی روک تھام نہیں کی گئی بلکہ گنڈے ماروں نے مال کی منتقلی کا وقت تبدیل کردیا ہے جو پولیس کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس حملے میں زخمی ایک خاتون گنڈے مار بھی شامل ہے جو غالباً حیات آباد میں پولیس پر حملے میں ملوث تھی۔ اس واقعے کے کئی پہلو ہیں جن میں ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے جس سے نکلے ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا، ویسے بھی دیکھا جائے توگزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ چند روز قبل کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی مسجد ومدرسہ میں خودکش دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اور مسجد امام سمیت 15افراد جاں بحق اور19زخمی ہوگئے تھے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ 19دسمبر کو لنڈی کوتل میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں فرنٹیرکور کا اہلکار شہید ہو گیا تھا۔ قبل ازیں16دسمبر کو صوبائی اسمبلی کے باہر بم دھماکے میں11افراد زخمی ہوگئے تھے۔ بھارت سے کشیدگی تو معمول کی بات ہے افغانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی امن نہیں جب بھی اس طرح کی صورتحال ہوتی ہے پاکستان میں اس قسم کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کارخانون چیک پوسٹ کے واقعے کے محرکات جو بھی ہوں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریاں ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہیں عوام اور ان کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی دارالحکومت کے مضافات اور صوبے کے دیگر علاقوں میں تلاشی کی کارروائیاں اور نگرانی کا عمل تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں