Daily Mashriq

بس یہی کسر باقی رہ گئی تھی

بس یہی کسر باقی رہ گئی تھی

ایک وفاقی وزیر نے بھرے پروگرام میں جس طرح ایک مقتدر ادارے کو سیاست میں ملوث کرنے اور آرمی ایکٹ کی ایوان میں حمایت پر سیاسی جماعتوں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کا ترکی بہ ترکی جواب تو موقع پر مل گیا لیکن اس واقعے سے ایک ایسی بحث چھڑ گئی ہے جو ملکی سیاست، پارلیمان اور مقتدر ادارے، ملک وقوم کسی کے حق میں بھی بہتر نہیں۔ سیاسی تنقید اور سیاسی معاملات میں اداروں کو اس طرح کھلم کھلا ملوث قرار دینا کسی طور قابل قبول امر نہیں۔ جہاں تک سیاستدانوں کی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کی بات ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں اور عوام اس سے بخوبی واقف ہیں، البتہ وفاقی وزیر نے جس علامت کیساتھ اس کا اظہار کیا ہے یہ قابل اعتراض امر ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کو پارلیمان سے منظور کراتے وقت وزیر موصوف کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں پر تنقید اور ان کی مخالفت کیوں یاد نہ آئی۔ تحریک انصاف کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ ان کو حزب اختلاف کی ان جماعتوں کی حمایت لینی پڑی جس کا وہ نام لینے کے بھی روادار نہ تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ پارلیمان سے ایکٹ کی خود حمایت کرنے والی حکمران جماعت کو دوسری جماعتوں کی حمایت قابل اعتراض نظر آتی ہے۔ وزیراعظم اور پارٹی قیادت کو اس قسم کے غیرذمہ دار عناصر کو میڈیا میں جانے پر پابندی لگانی چاہئے اور میڈیا کو اس قسم کے تمام عناصر کا بائیکاٹ کر دینا چاہئے جو ماحول کو خراب کرنے کا باعث بننے سے شہرت کے حامل بن چکے ہیں۔ سیاسی اختلافات کا اظہار اور تنقید شائستگی اور دلیل کیساتھ ہونا چاہئے، تضحیک آمیز رویہ اور شورشرابہ کرنا دلیل سے عاری ہونے اور بھونڈے پن کا عکاس ہے جس کا مظاہرہ خود میڈیا کی ساکھ کیلئے بھی مثبت نہیں۔

قرضہ حسنہ کا اجرائ۔۔؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کو ان کے پاؤں پرکھڑا کرنا وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں کا مرکز ومحور ہے، جو لوگ باوقار زندگی جینا چاہتے ہیں اور ہاتھ پھیلانے کے بجائے محنت کو ترجیح دیتے ہیں، حکومت ان سے تعاون جاری رکھے گی، صوبے کے مالی طور پر کمزور چھوٹے درجے کے کاروباری طبقے کو قرضہ حسنہ کی فراہمی کیلئے آئندہ بجٹ میں مزید فنڈز مختص کئے جائیں گے اور پروگرام کو دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جس فلاحی تنظیم کے اشتراک سے قرضہ حسنہ سکیم کا اجراء کیا ہے اس حوالے سے ابھی یہ بات سامنے نہیں آئی کہ آیا یہ پروگرام واقعی وہ قرضہ حسنہ ہے جسے اسلام میں سراہا گیا ہے یا پھر ایک ایسے پروگرام کو قرضہ حسنہ کا نام دیا گیا ہے جس میں قرض کی واپسی اصل زر کی نہیں ہوتی بلکہ خاص اضافی رقم سروس چارجز اور انتظامات کے نام پر وصول کی جاتی ہے، اس حوالے سے علمائے کرام سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد ہی اگر اس کے قرضہ حسنہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جاتا تو بہتر تھا۔ بہرحال اگر یہ حقیقی معنوں میں قرضہ حسنہ کی سکیم ہے تو یہ نہایت احسن قدم ہے جس کی توسیع کیلئے نہ صرف حکومت کو مزید تعاون کرنا چاہئے بلکہ معاشرے کے ثروت مند طبقات کو بھی اس میں حصہ لینا چاہئے اور اسے منظم طریقے سے آگے بڑھانا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سود سے پاک معیشت ہی میں کامیابی وبقاء ہے اور سودی نظام دنیا وآخرت دونوں کی بربادی کا باعث اور مؤجب تباہی ہے۔ معاشرے میں سود کی لعنت کے خاتمے کیلئے بلاسود قرضوں کے اجراء اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے مخیر حضرات کے تعاون سے قرضہ حسنہ کی سکیمیں متعارف کرانا ہے، کاروباری طبقے کو قرضہ حسنہ میسر آئے تو وہ نہ صرف خود روزگار اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے قابل ہوسکیں گے بلکہ ان کی مساعی سے مزید کاروبار اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور فلاحی معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی۔

گیس کی لوڈشیڈنگ اور حکومتی ذمہ داریاں

خیبر پختونخوا اسمبلی میں جنرل منیجر سوئی گیس کی صوبے میں گیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر پر ارکان کو بریفنگ دینے کے حوالے سے طلبی صوبے میں گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے سنگین مسئلے کے حل کی طرف پیشرفت کی سعی ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں گیس کی کافی پیداوار ہونے کے باوجود صوبے کے عوام کو گیس کی بندش بصورت لوڈشیڈنگ وکم پریشر آئین وقانون کی خلاف ورزی ہے۔ صوبے کی پیداوار سے صوبے کے عوام کی ضرورت پہلے پوری کرنا قانون کا تقاضا ہے جس کی گیس وبجلی دونوں شعبوں میں پامالی ہو رہی ہے۔ عوام کے حقوق غصب ہونے کا نوٹس لینا حکومت اور ایوان کا فرض ہے جس میں ہونے والی کوتاہی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ جی ایم سوئی گیس کی ایوان میں پیشی کے وقت جہاں ممبران کو لوڈشیڈنگ کے گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتے مسئلے پر احتجاج کرنا چاہئے وہاں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کا اس صورتحال کے تدارک کے حوالے سے اپنے اختیارات کو پوری طرح بروئے کار لاتے ہوئے محکمے کو پابند کرنے اور اس امر کی ضمانت لینے کی ضرورت ہے کہ صوبے کے عوام کو گیس کی فراہمی یقینی بنے۔

کیچڑ میں گھرا تھانہ غربی

ہمارے اخبار کے صفحہ دو پر تصویر شہر کے عنوان سے شامل تصویر میں غربی تھانے کے اندر جس قسم کے کیچڑ کی نشاندہی کی گئی ہے اس قسم کا منظر شدید بارشوں میں کسی دیہی علاقے ہی میں دیکھنے کا اتفاق ہو سکتا ہے لیکن یہاں شہر کے ایک ایسے تھانے کی چاردیواری کے اندر اتنے گڑھے پڑچکے ہیں اور کیچڑ ہے کہ قدم رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔ غربی تھانہ میں صرف مقدمات درج کرانے والے یا پھر پولیس والے ہی نہیں آتے بلکہ تھانے کے اندر ڈرائیونگ سکول اور خاص طور پر پولیس اسسٹنٹ لائن میں آنے والے شہریوں کی صبح شام قطاریں لگی رہتی ہیں۔ پولیس کے محکمے کو ملنے والے بجٹ کی رقم کہاں جاتی ہے اور متعلقہ حکام تھانے کی چاردیواری کے اندر کی حدود کی فرش بندی کیوں نہیں کرتے یہ سوال اپنی جگہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہم پولیس پر تنقید کا تو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر ان کے مسائل ومشکلات پرکم ہی توجہ دیتے ہیں۔ غربی تھانے میں آنے والوں اور پولیس اہلکاروں کو اس مشکل سے چھٹکارا دلانے کیلئے جتنا جلد ممکن ہوسکے اس کی فرش بندی ہونی چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ تھانہ غربی کے احاطے کو پختہ کرنے میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی۔ اس ضمن میں اگر فنڈز کی کمی کا مسئلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا وزیر خزانہ خصوصی فنڈز دیکر حل کریں تو بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں