Daily Mashriq

سب گھٹالے ہیں جی سب گھٹالے

سب گھٹالے ہیں جی سب گھٹالے

لاہور ہائیکورٹ نے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کیخلاف بغاوت کیس کے مقدمہ کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دیدیا۔ جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ان سطور میں عرض کیا تھا ''موجودہ حکومت اور خود پرویز مشرف کے حامی خصوصی عدالت کے قیام کے قانونی تقاضوں کے حوالے سے جو ارشاد فرما رہے ہیں وہ درست تو ہیں مگر چار سوا چار سال تک کسی نے اس پہلو پر عدالت کے اندر سوال نہیں اُٹھایا اور نا ہی پرویز مشرف کے وکلاء نے عدالت کی تشکیل کے حوالے سے اس وقت کی حکومت کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ان نکات پر بات کی جو اب زبان زد عام ہیں''۔ مکرر عرض ہے جناب مشرف کو جب اکتوبر 1999ء میں منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے میں جوابدہی کی بجائے خود سپریم کورٹ نے ان کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے ظفر علی شاہ کیس میں آئین میں ترمیم کا شخصی حق عطا کردیا تھا تو بھی ان سطور میں عرض کیا ''یہ عدالتی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ہے' مستقبل میں جب کبھی منتخب جمہوری حکومت برسر اقتدار آئے تو اسے دیکھنا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا سپریم کورٹ آئین میں ترمیم کا حق فرد واحد کو عطا کرسکتی ہے''۔

بد قسمتی سے 2002ء کے انتخابی عمل کے تحت معرض وجود میں آئی پارلیمان نے جنرل پرویز مشرف کے معاملے اور سپریم کورٹ کے فیصلے ہر دو کو نظر انداز کردیا۔ یہی نہیں بلکہ اس پارلیمان نے اپوزیشن کے ایک دو بائیکاٹ کے باوجود اکتوبر 1999ء کے فوجی اقدام کو آئینی تحفظ دیا جس سے سارا عمل دستوری تحفظ حاصل کر گیا۔ صحافت اور سیاست کے ہم ایسے طالب علموں کو 2018ء اور 2013ء میں معرض وجود میں آنے والی پارلیمانوں سے یہ توقع تھی کہ اب کامل سنجیدگی کیساتھ ظفر علی شاہ کیس میں پرویز مشرف کو عطا کردہ دستوری ترمیم کے حق پر آئین کی روشنی میں سوال اُٹھایا جائیگا مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں آئین کو اصل شکل میں بحالی کیلئے مؤثر اقدامات بذریعہ آئینی ترمیم اُٹھائے مگر اس معاملے کو نظرانداز کردیا۔ جب 2013ء میں نون لیگ اقتدار میں آئی اس کے پاس بھاری اکثریت تھی، اتحادیوں کو ساتھ ملا کر وہ جنرل پرویز مشرف کے دونوں اقدامات کا آئین کی روشنی میں محاسبہ کرسکتی تھی لیکن اس نے بھی جو کیا وہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ پر کیا اور پرویز مشرف کیخلاف 2007ء کی ایمرجنسی پلس کامعاملہ سامنے رکھ کر کیس بنایا۔ نون لیگ نے اکتوبر1999ء کو کیوں نظرانداز کیا؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اولاً یہ کہ اکتوبر1999ء کے انگنت کردار اب نون لیگ میں تھے اس طرح ایمرجنسی پلس کے معاونین بلکہ مسودہ تیار کرنے والے مشرف کے وزیر قانون بھی جاتی امراء کے مجاوروں میں شامل ہو چکے تھے۔ ثانیاً یہ امر بھی اہم ہے کہ پرویز مشرف کو سنگل آئوٹ کرنے میں افتخارچوہدری اینڈ کمپنی کے اپنے ذاتی مفادات تھے تو جناب نواز شریف کا اپنا بغض و غصہ' نواز شریف اور ان کی جماعت بھولے سے بھی اکتوبر 1999ء کی بات نہیں کرتے تھے کیونکہ اس طور ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ دینے والے عدالتی بنچ پرسوال ہی نہ اُٹھتے بلکہ یہ سوال سامنے آن کھڑا ہوتا کہ آئین میں شخصی ترمیم کا حق دینے والے بنچ کے رکن افتخار چوہدری سے نون لیگ کو ایسی کیا محبت تھی کہ وہ ایمرجنسی پلس کا معاملہ تو اُٹھا رہی ہے مگر اکتوبر 1999ء کو یکسر فراموش کرچکی؟۔

وجہ صاف تھی وہ یہ کہ افتخار چودھری نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف وغیرہ کو سنائی گئی سزائوں کیخلاف اپیلیں مدت گزرنے کے باوجود سماعت کیلئے منظور کیں۔ تب یہ کہا گیا کہ اپیلیں دائر کرنے کیلئے پیغام بھی خود افتخار چودھری نے زاہد حامد اور اکرم شیخ کے توسط سے نواز شریف کو بھیجا۔ اپیل دائر ہوئی اور فیصلے کالعدم قرار پاگئے۔ یوں نواز شریف کے کھاتے میں افتخار چودھری دشمن کی بجائے دوست بن گئے۔ ایک سوال پر اس وقت بہت زیادہ بحث ہوئی کہ ''آخر جب میثاق جمہوریت میں یہ طے ہوگیا تھا کہ پی سی او ججز کو عدلیہ سے الگ رکھا جائیگا تو نواز شریف اکتوبر 1999ء کے پی سی اوججز اور نومبر2007ء کے پی سی او ججز میں فرق کیوں کر رہے ہیں۔ مگر اگلے ماہ وسال میں جب شریفین' کیانی وپاشا اور افتخار چودھری کی ٹرائیکہ بنی کئی کھیل کھیلے گئے تو اس سوال کا جواب بھی مل ہی گیا کہ محض پیپلز پارٹی سے روایتی دشمنی میں انہوں نے میثاق جمہوریت سے منہ موڑا' تب ہمارے بہت سارے دوست زرداری کے اس بیان پر آسمان سر پراُٹھاتے تھے کہ ''معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے'' مگر کسی نے اس سوال کا جواب نہ دیا کہ خود نواز شریف نے میثاق جمہوریت سے منہ کیوں موڑا، اور کیا میثاق جمہوریت سے انحراف زرداری کے بیان جیسا معاملہ نہیں؟۔

جنرل پرویز مشرف کیخلاف ایمرجنسی پلس کے معاملے کو سنگین غداری قرار دینے، مقدمہ بنانے، عدالت تشکیل دینے اور چودھری کورٹ کا اس حوالے سے فیصلہ ان سب پر بہت بحث ہوچکی۔ لاہور ہائیکورٹ کا حالیہ فیصلے پر جو بنیادی سوال اٹھ رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا صوبہ کی سطح کی عدالت سپریم کورٹ کے دائرہ کار اور اختیارات کو کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ زیادہ بہتر وضاحت تو قانونی حلقے ہی دے سکتے ہیں فی الوقت یہ ہے کہ آخر لاہور ہائیکورٹ نے اس سوال کو مدنظر کیوں نہیں رکھا کہ جن نکات پر فیصلہ دیاگیا وہ نکات مشرف کے وکلاء نے پچھلے چار سوا چار سالوں میں خصوصی عدالت میں یا سپریم کورٹ میں نہیں اُٹھائے بلکہ خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی اپیل میں بھی یہ نکتہ نہیں اُٹھایا گیا۔ یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے اہم ترین بعض رفقا موجودہ حکومت میں اہم منصبوں پر ہیں اس طور اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت روزاول سے ہی پرویز مشرف کیلئے محفوظ راستہ نکالنے کی خواہش مند تھی تو یہ غلط ہرگز نہیں۔

متعلقہ خبریں