Daily Mashriq

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیںگے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیںگے

مصحفی ہم تو سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

غلام صمدانی مصحفی کا یہ شعر بلاوجہ یاد نہیں آیا بلکہ اس کا کارن اب تک کے ایک عمومی بیانئے میں تبدیلی ہے جو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے ہاتھوں سرزد ہوئی ہے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اب تک یہی باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ملک میں یہ جو ہر چند سال بعد کبھی انتخابات کی وجہ سے اور کبھی''ایویں''ہی حکومتیں بدل جاتی ہیں تو ان کے پیچھے کچھ اور عوامل ہوتے ہیں اور اصل حکمران وہ نہیں ہوتے بلکہ بعض نامعلوم قسم کی قوتیں ہوتی ہیں جو ظاہراً حکمرانوں کو بطور''کٹھ پتلی'' کردار ادا کرنے پر آگے رکھتی ہیں اور عوام اس نظریئے کو ایک عرصے سے قبول بھی کرتے آرہے ہیں تاہم اب سراج الحق نے ان اصل قوتوں کی نشاندہی کر کے قوم پر احسان عظیم یوں کیا ہے کہ عوام جو ان قوتوں سے بے خبر تھے بالآخر ان کا چہرہ دیکھنے میںکامیاب ہوگئے ہیں۔ سراج الحق نے گزشتہ روز منصورہ میں لوئر دیر اور کوئٹہ کے جی آئی یوتھ کے ذمہ داران کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب اور بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر اصل حکومت نیپرا،اوگرا اور پیمرا کی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران پارٹیوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک ہی در کی فقیرہیں،ان کے ظاہری اختلافات عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ہیں،موجودہ حکومت کی یہی پالیسیاں رہیں تو کل کو بھارتی آرمی چیف مظفر آباد کی بجائے اسلام آباد پر قبضہ کی دھمکی بھی دے سکتا ہے۔امیر جماعت نے جہاں اصل حکمرانی نیپرا،پیمرا اور اوگرا کے گلے میں ڈال دی ہے ساتھ ہی اگر وہ نادرا کا تذکرہ بھی کر دیتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا جبکہ ان لوگوں کے دل پر مرہم لگ جاتا جو نادرا سے بھی تنگ آچکے ہیں، خصوصاً یہ ادارہ پنجاب اور سندھ میں مقیم پختونوں کیساتھ جس قسم کا سلوک روا رکھے ہوئے ہے اس کی باز گشت بھی اکثرمیڈیا پر سنائی اور پڑھائی دیتی ہے، ویسے خدا لگتی کہئے تو ان کے اس تازہ نظریئے کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے کیونکہ آج کل ملک میں انہی اداروں کی ''حکمرانی'' ہے اس پر مرزا غالب کا یہ شعر منفی معنوں میں برتنے کا بھی کوئی جواز نہیں رہا کہ

منحصر ہو موت پر جس کی اُمید

نااُمیدی اس کی دیکھا چاہئے

اسلئے سراج الحق کی اس بات سے اتفاق ممکن نہیں دکھائی دیتا کہ وزیراعظم قوم کو مایوس کر رہے ہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیراعظم غموں سے نجات پانے کا کارآمد نسخہ سمجھا رہے ہیں، ایسے موقعوں پر بھی شعرائے کرام باز نہیں آتے اور لوگوںکے دلوںمیں شکوک پیدا کرنے کیلئے کہہ دیتے ہیں کہ

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیںگے

مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

حالانکہ بعض سمجھدار تو یہاں تک کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے کہ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں،مگر جو نظریۂ سکون قبر وزیراعظم نے ایجاد کیا ہے اس کے پیچھے بھی کئی عوامل کارفرما ہیں جن کا ان دنوں نہ صرف ایم کیو ایم والے سابقہ تجربات کی بناء پر اظہار کرتے ہوئے پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ سرکار کے دیگر حلیف بھی پرزے نکال کر اپنی ناراضی ظاہر کر رہے ہیں اور حکومتی پارٹی کے متعدد اہم رہنمائوں کی دوڑیں لگ رہی ہیں۔جہاں تک ایم کیو ایم کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی وزارت سے مستعفی ہونے کا تعلق ہے اس حوالے سے تو ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی کہہ دیا ہے کہ انہیں بہت پہلے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا،گویا پرانے اور آزمودہ نسخے پر عمل کر کے حکومت کو ''ناکو چنے'' چبوا دینے چاہئے تھے،یہ طریقہ واردات توایم کیو ایم کی گھٹی میں روزازل سے ڈال دیا گیا ہے، جس کی بناء پر وہ ہر دور میں اسی طرح ''سیاسی بلیک میلنگ''کو استعمال کر کے اپنا الو سیدھا کرتی آئی ہے،اب بھی اگرچہ بظاہر شکایت یہ ہے کہ ان کیساتھ کئے ہوئے وعدے پورے نہ ہونے کی وجہ سے وہ وزارت چھوڑنے (تاہم حکومت کیساتھ اتحاد برقرار رکھنے) پر مجبور ہوئے ہیں،ان وعدوں میں ایم کیو ایم کے مختلف علاقوں میںمراکزکی تاحال بندش، کراچی کیلئے ترقیاتی پیکج وغیرہ شامل ہیں جبکہ ایک وجہ ایک خاتون کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کی وزارت میں مداخلت کے حوالے سے سامنے آنے والی خبریں ہیں، تاہم بعض واقفان حال کے مطابق ایم کیو ایم وزارت جہازرانی یعنی کراچی بندرگاہ کا اختیار ماضی کی طرح اپنے ہاتھ میں رکھنے پر مصر ہے جو ماضی میں ایم کیو ایم کیلئے ہمیشہ پرکشش رہا ہے اور جس سے مبینہ طور پر نہ صرف روزانہ کروڑوں کی آمدن سابق قائد ایم کیو ایم کو لندن بھیجی جاتی تھی بلکہ متعلقہ وزیر بھی ''مالا مال'' ہو کر آج کل امریکہ میں مقیم ہیں، تاہم اصل حقیقت جو بھی ہو چونکہ موجودہ حکومت اپنے انہی حلیفوں کے ووٹوں کی بنیاد پر،جو اب ناراض دکھائی دے رہے ہیں، ٹکی ہوئی ہے اسلئے خان صاحب ماضی میں اپنے اس بیانئے سے بھی ''یوٹرن'' لے چکے ہیں جو وہ ایم کیو ایم کے حوالے سے اختیار کرتے ہوئے الطاف حسین کیخلاف دستاویزی ثبوتوں کیساتھ لندن یاترا بھی کرچکے تھے اور بعد میں فیصل واؤڈا بھی وہاں برطانوی حکام کیساتھ ملاقاتیں کر کے ایم کیو ایم کیخلاف تادیبی کارروائیوں کیلئے سرگرم رہے، اب کیا کیا جائے یہ کم بخت سیاسی مجبوریاں بھی عجیب ہیں کہ بندہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کا شکار ہوجاتا ہے۔

کیا حسن اتفاق ہے تیری گلی میں ہم

اک کام سے گئے تھے کہ ہر کام سے گئے

متعلقہ خبریں