Daily Mashriq

قوم کی تربیت بھی ضروری ہے

قوم کی تربیت بھی ضروری ہے

شکایت تو بہت جلد ہوجاتی ہے کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں ہے،شکر گزاری بڑی دیر سے بڑی مشکل سے جنم لیتی ہے۔شکر گزاری کی عادت ڈالنی پڑتی ہے،اپنی کمتری کو،کمزوری کو غلطی کو تسلیم کرنا پڑتا ہے، اس کیلئے بڑی بہادری کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ بہادری ہر کوئی مجتمع نہیں کر سکتا سو معاملات کا ڈھب کبھی سدھرتا ہی نہیں۔ اپنے ملک کے معاملات دیکھیں تو ہر جانب یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ہم کبھی اپنے ملک کے، اس کے فراہم کردہ تحفظ کے،اپنی آزادی کے شکر گزار نہیں ہوئے۔ہم نے کبھی اپنے گریباں میں نہیں جھانکا کہ کیا ہم میں سے کسی نے بھی اس ملک کا حق ادا کرنے کی کوششیں کی۔ کیا کبھی کوئی جستجو کی کہ اس ملک کو میں بھی کچھ دے سکوں۔ ہم مانگتے ہی رہے،توقع ہی کرتے رہے، یہ مل جائے وہ مل جائے، خود کبھی پلاسٹک کا ایک لفافہ سڑک پر پھینکنے کے بجائے کوڑے دان میں نہیں ڈالا لیکن اپنے لئے ہر قسم کی سہولت مانگتے ہیں اور نہ ملنے پر ناراض ہوتے ہیں۔ہم بڑے عجیب قسم کے لوگ ہیں،دنیا میںخیرات کرنے والی اولین اقوام میں شامل ہیں جو بہت مشکل کام ہے۔ اپنے مال کو ہاتھ سے جانے دینا آسان نہیں،لیکن کمال یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے سے اچھی بات نہیں کرتے۔کسی طور قطار نہیں بناتے،کبھی کوڑا، کوڑے دان میں نہیں ڈالتے، ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر بیٹھ جاتے ہیں کبھی انتظار گاہوں میں نہیں بیٹھتے، کوئی بات کہے تو اسے معاف کر دینے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ بدلہ لینے کے ایک سو ایک بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہم کون لوگ ہیں، بدعنوانی کی کہانیاں سنیں تو سیاستدانوں کی عقل پر انگشت بدانداں رہ جاتے ہیں۔ انگلیاں کیا،کمپیوٹر حساب نہیں کرسکتا کہ ان کی بدعنوانی کے ہندسے شمار سے باہر نکل جاتے ہیں اور دوسری طرف یہ عالم ہے کہ چند بیوروکریٹس کوبینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مدد وصول کرنی اتنی ضروری محسوس ہوئی کہ انہوں نے دوران سروس ہی اپنے لئے امداد کا آغاز کروا لیا۔ ایسی بلندی اور ایسی پستی، کمال ہی ہے۔ ابھی ہم میاں نوازشریف، آصف زرداری اور کئی دوسرے سیاستدانوں کی کمال کارروائیوں کو شمار کرتے نہ تھکتے تھے کہ یہ کہانی سامنے آگئی اور یہ کہانیاں یہیں ہی محدود نہیں۔ بدعنوانی اس معاشرے میں تہہ درتہہ موجود ہے۔جس سموگ کے حوالے سے ہم ابھی تشویش کا شکار ہیں کہ اس قدر آلودگی اب آنکھوں پر پھیپھڑوں پر اثرانداز ہورہی ہے۔بدعنوانی کے حوالے سے باقاعدہ تحقیق ہونی چاہئے کہ آخر اس قدر زیادہ بدعنوانی کیوں ہے۔ صرف سیاستدانوں تک ہی محدود نہیں، بیوروکریسی کے حلقوں میں ہی سمائی نہیں بلکہ ایک کلرک، ایک اردلی، ایک دوکاندار، ایک فقیر تک پھیلی ہوئی ہے۔ کہانیاںاتنی ہیں، ایسی ہیں کہ آنکھیں حیرت سے پھیل کر حلقوم سے باہر نکل آتی ہیں، اس حکومت سے جتنی اُمیدیں ہم وابستہ کئے بیٹھے تھے وہ ہم نے اچانک ہی اپنے ہاتھ کھول کر یوں اُڑا دیں جیسے انار کلی نے اپنے ہاتھ سے کبوتر اُڑا دیا تھا۔ جب شہزادہ سلیم نے اس سے پوچھا کہ اس سے کبوتر کیسے اُڑ گیا تو دوسرا کبوتر ہاتھ میں پکڑے ہوئے،انار کلی نے ہاتھ کھول کر کہا کہ یوں۔ ہم نے بھی ذرا انتظار کیا،نہ ملک میں سڑکوں کو سونے کا حاشیہ لگا، نہ بادلوں میں چاندی کے تار پھرے، نہ فقیروں کی زندگی بدلی اور ہماری ساری اُمیدیں پگھل گئیں۔ ہم مایوس ہوگئے، ناشکر گزار بھی ہوئے اور کلہ گزاریاں بڑھتی چلی گئیں۔ہم خوش تو ہوئے کہ وہ لوگ گرفت میں آئے جو بادشاہوں جیسی زندگیاں گزارتے تھے لیکن تیل کی قیمت بڑھتی چلی گئی۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھیں، کسی کو یہ یاد نہ آیا کہ نوازشریف نے اپنے ابتدائی حکومتی دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے جن شرائط پر قرضہ حاصل کیا ان میں ایک شق یہ بھی تھی کہ ملک میں تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ایسی ہم آہنگی ہو جائیگی کہ صارف کونسا ذریعہ توانائی استعمال کریں اس سے کوئی فرق ہی نہ پڑے گا۔ قوموںکی یاداشت کمزور ہوتی ہے، کمزور قوموں کا حافظہ اور بھی کمزور ہوتا ہے۔ غریب اور کمزور قوموں کا حافظہ ہوتا ہی نہیں اور ہم بحیثیت قوم تیسری قسم میں شامل ہوتے ہیں۔ اس حکومت نے بھی کوئی ایسا کمال نہیں دکھایا۔ ابھی تک تو ہم ان کی صلاحیتوں کے حوالے سے ہی مشکوک ہیں۔یہ اپنی کارکردگی سے بھی ایسا ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔ اسلئے تشویش بڑھتی چلی جارہی ہے۔ میاں نوازشریف کی صحت اور ان کے اثاثوں کے بارے میں سوالات اُبھرتے رہے ڈوبتے رہے۔ سچ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ یہ بھی بھولتا چلا جائے گا۔میاں نواز شریف قصہ پارینہ ہوتے جائینگے اور ان کے وارثان سیاست کے میدان میں متحرک ہوتے چلے جائینگے، یہ دنیا کا دستور ہے۔اس تبدیلی میں کسی کے سر کوئی سہرا ہے تو بس اتنا ہی ہے کہ اس تبدیلی کے پھل سے کچھ زر کا جوس نکالا جا سکتا ہے۔ اگر نکال لیا جائے توپاکستان کیلئے بہتری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔اس وقت پاکستان کو اس زر کی ضرورت ہے جو اس سے چرایا گیا سو آصف علی زرداری سے میاں صاحبان سے اور نامی گرامی رئیل سٹیٹ مالکان سے اگر اس ملک کا کچھ لوٹا ہوا پیسہ برآمد کیا گیا تو بہت اچھا کیا اور بھی ممکن ہو تو اچھا ہے تاکہ پاکستان کا بھلا ہو اور لوگوں میں احساس کمتری کو سکون ملے لیکن اس کیساتھ ساتھ اس قوم کی تربیت بھی ہونے کی ضرورت ہے۔ورنہ کچھ بھی ہوکتنا بھی ہو کبھی کافی نہ ہوسکے گا۔کیونکہ شکایت کرنے والے ہر حالت میں پریشان ہی رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں