Daily Mashriq

بی بجلی داغ مفارقت دے جاتی ہے

بی بجلی داغ مفارقت دے جاتی ہے

گھر میں مہمان موجود ہوں اور بی بجلی داغ مفارقت دے جائے تو بڑی شرمندگی ہوتی ہے لیکن دل کو یہ اطمینان ضرور رہتا ہے کہ مہمان جہاں سے آئے ہیں وہاں بھی تو لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہم سب کا مشترکہ المیہ ہے۔ مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے اس لئے اس کے آرام کا سب کو خیال ہوتا ہے۔ بیاہ شادی کے موقعوں پر مہمان چونکہ تھوک کے حساب سے آتے ہیں اس لئے ان کی خبر گیری کرنا کچھ زیادہ ہی مشکل ہوتا ہے۔ پہلے شادی کی تاریخ عام طور پر سردیوں کے موسم میں رکھی جاتی تھی۔ طویل راتیں اور چھوٹے دن اور پھر اس زمانے میں لوڈشیڈنگ کہاں تھی۔ بارات کیساتھ مزدور بڑے بڑے گیس لیمپ اُٹھا کر چلتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دولہا کیلئے گھوڑے پر سوار ہونا اور سر پر سہرا باندھنا ضروری تھا۔ سہرا بھی اس طرح کا ہوتا جس میں لاتعداد چھوٹے چھوٹے بلب لگے ہوتے۔ انہیں روشن رکھنے کیلئے گھوڑے کے پہلو میں سر پر بڑی سی بیٹری اُٹھائے ایک مزدور چل رہا ہوتا۔ دولہا کیلئے چائنا کی دو گھوڑا بوسکی کا لباس ہوتا۔ پاؤں میں بوٹ یا پشاوری چپلی ہوتی اور اگر راستے میں کسی دوسری بارات سے آمنا سامنا ہو جاتا تو گھوڑوں پر بیٹھے دونوں دولہا بھائی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے۔ یہ بھی ایک رسم تھی دونوں ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے۔ اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا، دولہا کے پیچھے بیٹھے ہوئے شہ بالا کو اُتار دیا جاتا۔ پھر بڑے بوڑھے درمیان میں پڑ کر صلح صفائی کرا دیتے دونوں دولہا صاحبان کا آپس میں معانقہ کروایا جاتا۔ دلہن کے گھر پہنچ کر دولہا میاںکو لڑکی کا بھائی جب دودھ کا پیالہ پیش کرتا ہے تو اس وقت بھی اچھی خاصی دھینگا مشتی دیکھنے میں آتی ہے۔ جیسے ہی دولہا تھوڑا سا دودھ چکھ کر پیالہ منہ سے ہٹاتا ہے تو اس دودھ پر لڑکے کے دوست ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایک بات مشہور ہے کہ بارات کے وقت لڑکے کے ہاتھ سے پیالہ لیکر دودھ پینے والے کی شادی جلد ہوتی ہے۔ اس لئے شادی کے خواہشمند نوجوان یہ دودھ پینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لڑکا دودھ پی کر فارغ ہوتا ہے تو اس کے سالے صاحب اس سے پیسوں کی فرمائش کرتے ہیں جو کسی زمانے میں پچاس روپے ہوتے تھے لیکن آج کل پانچ دس ہزار سے کم پر بات نہیں بنتی۔ زمانے کی تیز رفتار ترقی سے رسم ورواج بھی متاثر ہوئے ہیں۔ آج کل بارات سے چند گھنٹے پہلے سجی سجائی گاڑی دولہا کے گھر کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے، جیسے ہی بارات کی روانگی کا وقت ہوتا ہے دولہا گاڑی میں سوار ہو کر رواں دواں ہوجاتا ہے۔ اس کے دوستوں رشتہ داروں کی گاڑیاں اس کے آگے پیچھے ایک قطار میں ہوتی ہیں۔ یوں پلک جھپکتے ہی بارات منزل مقصود پر پہنچ جاتی ہے۔جب سے آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے تو اب شادیاں صرف سردی کے موسم تک محدود نہیں رہیں۔ لوگوں کے پاس وقت کی کمی ہے اور پھر آج کل کی شادی اور شادی ہال لازم وملزوم ہو چکے ہیں۔ دن کی بھی کوئی قید نہیں رہی، جمعہ اتوار ہفتہ منگل کوئی بھی دن ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شادی کیلئے شادی ہال بک کروانا پڑتا ہے اور جو دن مل جائے وہی دن شادی کیلئے طے کر لیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے، ہر شادی ہال میں ایک عدد جنریٹر ضرور ہوتا ہے، جیسے ہی لوڈشیڈنگ کا حملہ ہوتا ہے جنریٹر آگے بڑھ کر مردانہ وار دفاع کرتا ہے بجلی کی آنکھ مچولی نے حضرت انسان کو نت نئی ایجادات سے آشنا کر دیا ہے۔ آنکھ مچولی پر یاد آیا چند دن پہلے گھر میں سفیدی کروانے کا خیال آیا، جو صاحب سفیدی کیلئے تشریف لائے وہ بڑے نازک مزاج اور رکھ رکھاؤ والے تھے جو صاحب انہیں لائے تھے انہوں نے بطور خاص ہمیں سمجھا دیا تھا کہ نو بجے یہ قہوہ پینا پسند کرتے ہیں اور پھر دس بجے کالی چائے کا ایک کنگ سائز کپ مع ایک عدد روغنی۔ انہیں دیکھ کر ہمارے لبوں پر میر کا یہ مصرعہ مچلنے لگا۔ نازک مزاج آپ قیامت ہیں میر جی۔ وہ صاحب چیونٹی کی رفتار سے کام کرتے رہے۔ ہم انہیں قہوہ چائے اپنے اپنے اوقات پر مہیا کرتے رہے لیکن انہیں خوش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ایک دن چونے کی برش زمین پر رکھ کر بڑے غور سے ہماری طرف دیکھنے لگے، ہم پریشان ہوگئے، دل میں سوچا شاید کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ ابھی ہم اپنے دفاع کیلئے کچھ جملے ترتیب دے ہی رہے تھے کہ ان کی کرخت آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی۔ آپ کے ہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ صورتحال انہیں کسی طرح بھی گوارا نہیں تھی۔ ہم نے عرض کیا جناب اگر ہمارے ہاں لوڈشیڈنگ ہوتی ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ اور پھر یہ صرف ہمارا مسئلہ تو نہیں ہے، سارے وطن عزیز میں یہی صورتحال ہے۔ ہر گلی کوچے میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں لیکن توانائی کا یہ بحران حل ہونے میں نہیں آتا، بس ہمہ یاراں دوزخ والی بات ہے۔ انہوں نے میری بات سن کر ایک زوردار قسم کا قہقہہ لگایا اور پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے آپ کس دنیا میں رہتے ہیں، آپ کو ابھی تک یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ لوڈشیڈنگ کہاں نہیں ہوتی۔ ان کی بات سن کر حیرت سے ہمارا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، دل میں ایک ہوک سی اُٹھی کہ کاش اس گلی میں ہمارا گھر بھی ہوتا جہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی۔ پھر اپنے ہاتھوں سے چونے کی میل اُتارتے ہوئے بولے میں پچھلے دنوں ایک ایسے علاقے میں کام کرتا رہا ہوں جہاں ایک لمحے کیلئے بھی بی بجلی نہیں جاتی، پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے اب اس علاقے کا نام مت پوچھئے گا۔

متعلقہ خبریں