Daily Mashriq

دہشت گردی کے خلاف‘ جمہوریت کے حق میں یک جہتی

دہشت گردی کے خلاف‘ جمہوریت کے حق میں یک جہتی

اے این پی کے ہارون بلور ‘ ایم ایم اے کے اکرم درانی اور بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کے سراج رئیسانی کے سیاسی اجتماعات پر حالیہ دہشت گرد حملوں کے باعث سار ے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ سراج رئیسانی کی کارنر میٹنگ میں بم دھماکے کے باعث دم تحریر 133افراد کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے ۔ اور ابھی متعدد زخمی ایسے ہیں جن کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ تاہم سیاسی قیادت اور عوام کی طرف سے اس عزم کا اظہار کہ خطرات کے باوجود عام انتخابات وقت پر ہوں گے قابلِ قدر ہے۔ 25جولائی کو عام انتخابات کا پرامن انعقاد دہشت گردوں کی شکست ہو گی اور جمہوری عمل کی فتح۔ ان سانحات میں شہید ہونے والوں کی وفات پر عوامی نیشنل پارٹی نے تین دن ‘ بلوچستان حکومت نے بھی تین دن سوگ کا اعلان کیا ہے اور وفاقی حکومت نے بھی ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ان سوگ کے دنوں میں جب کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہو گی، اس صورت حال پر غورکرنا ضروری اور دہشت گردی کی نئی لہر سے عہدہ برآ ہونے کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنا ضروری ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا میں انتخابی ریلیوں کو منسوخ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف سیاسی پارٹیاں سوگ کے عالم میں ہیں دوسری طرف میں تقریریں کروں اور نعرے لگواؤں یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ تاہم پیپلز پارٹی نے بھی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی انہیں ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے حالانکہ بلاول نے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے ۔ اسی طرح اے این پی کے بعد ایم ایم اے نے بھی انتخابی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف بھی اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور نگران حکومت کا تو مینڈیٹ ہی شفاف انتخابات منعقد کروانا ہے۔ حکومت اور سیاسی قیادت کا یہ عزم اور یہ حوصلہ مندی قابلِ ستائش ہے لیکن حوصلہ مندی دانش مندی کے بغیر حوصلہ مندی نہیں ہوتی۔ خطرات کیا ہیں اور ان کے سدباب کے لیے کیا کیا جاناچاہیے ، ان باتوں کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ چیف الیکشن کمشنر نے گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے کے سربراہ سے انتخابات کے دوران دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں مشاورت کی ہے۔ انسداد دہشت گردی کے ادارے کے سربراہ نے اس سے پہلے بھی اس خطرے سے آگاہ کیا تھا کہ انتخابی عمل کے دوران تقریباً سبھی پارٹیوں کے سربراہوں کو ہدف بنائے جانے کا امکان ہے اور چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں بھی اسی رائے کا اعادہ کیا ہے۔ یعنی خطرہ اپنی جگہ موجود ہے۔ لیکن دوسری طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تاحال دہشت گردوں نے ہائی پروفائل شخصیات اور اجتماعات پر حملے نہیں کیے بلکہ چھوٹے اجتماعات اور مرکزی قیادت کی بجائے دوسرے درجے کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے اب تک ان صوبوں میں کارروائی کی ہے جہاں وفاق سے عدم توجہی کی شکایت کی جاتی ہے اور ایسی سیاسی پارٹیوںکو نشانہ بنایاہے جنہیں ان کے ماضی کی کارکردگی کے حوالے سے علاقائی پارٹیاں کہا جاسکتا ہے۔ دہشت گردوں کے مقاصد میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ان صوبوں میں احساسِ محرومی کو ہوا دیں اور ایسا تاثر قائم کریں کہ پنجاب اور سندھ کے بڑے شہروں میں تو سیکورٹی کے انتظامات ہیں لیکن خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے ابتدائی دنوں میں کم شہرت یافتہ علاقوں پر حملے کر کے سیکورٹی حکام کی توجہ ان علاقوں کی طرف مبذول کروا لیں اور چند دن کے بعد بڑے شہروں کے بڑے جلسوں اور وفاق میں حکومت بنانے کی امید رکھنے والی پارٹیوں پر حملے کریں۔ انسداد دہشت گردی کے ادارے نے سبھی اہم پارٹیوں کے سربراہوں کے دہشت گردی کے ہدف ہونے کی الرٹ جاری کر رکھی ہے۔ سیکورٹی کے اہل کار طویل عرصے کی تربیت کے بعد اس منصب پر مامور ہوتے ہیں ‘ ان کی تعداد میں یکلخت اضافہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ انہیں سارے ملک میں پھیلایاجا سکتا ہے۔اس صورت حال میںاہل سیاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک طرف خود انتخابات اور جمہوریت کے لیے آپس میں یک جہتی کا مظاہرہ کریں اور دوسری طرف عوام کو دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ جانے اور ان پر نظررکھنے کے لیے تیار کریں۔ دوسری تجویز کی طرف اہلِ سیاست کا آنا ا س لیے مشکل نظر آتا ہے کہ وہ عوام کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہیں گے اور انہیں اجتماعات میں ایک دوسرے کی نگرانی کا مشورہ دے کر لوگوں کی آپس میں رنجشیں پیدا نہیں کرنا چاہیں گے لیکن یہی ان کا امتحان ہے۔ ان کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے امکان کو ایک حقیقت سمجھیں اور عوام کو بھی اس سلسلہ میں احتیاط پر آمادہ کریں۔ یہ کہنا کہ دہشت گردی کے واقعات نگران حکومت کی یا انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے مناسب نہیں ہے۔ اس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ دہشت گردی نہ اہل سیاست کا مسئلہ ہے اور نہ عوام کا ۔ یہ نگران حکومت اورانٹیلی جنس اداروں کی کمزوری ہے۔ اس تاثرسے کچھ حاصل نہیں ہو گا سوائے دہشت گردوں کے مقاصد کو تقویت دینے کے۔ دہشت گردوں کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ان وارداتوں سے پاکستان کے اداروں اور عوام میں بداعتمادی پیدا ہو جائے۔ اہل سیاست کو اس تاثر کو زائل کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ چھوٹے صوبے نظر انداز کیے جاتے ہیں اور بیشتر سیاسی سرگرمیاں اور سیکورٹی کے انتظامات پنجاب اور سندھ کے بڑے شہروں میں ہوتے ہیں۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں خصوصاًبڑی سیاسی جماعتوں کے وفود کو اے این پی ‘ ایم ایم اے اور بلوچستان عوامی پارٹی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خیبر پختونخوا اور بلوچستان آنا چاہیے تاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کو قومی یکجہتی کا یقین دلایا جا سکے۔ ان کے حوصلے بڑھائے جائیں ‘ان کے دوروں کے پروگراموں کو وقت سے پہلے خفیہ رکھا جا سکتا ہے۔ انہیں اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ جمہوریت کی حمایت میں اور دہشت گردی کے خلاف اظہارِ یک جہتی کرنا چاہیے۔سیکورٹی کا خطرہ کتنا بڑا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم سیاسی جماعتوں پر یہ لازم ہونا چاہیے کہ وہ طے شدہ مقامات پر ہی جلسے کریں اور طے شدہ راستوں ہی سے ریلیاں نکالیں تاکہ ان مقامات اور راستوں کی سیکورٹی اہل کار پڑتال کر سکیں اور نگرانی کر سکیں۔ اہم با ت یہ ہے کہ اہلِ سیاست نگران حکومت ‘ الیکشن کمیشن اور سیکورٹی ادارے جمہوریت کے حق میں اور دہشت گردی کے خلاف مکمل یک جہتی کا اظہار کریں اور اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

متعلقہ خبریں