Daily Mashriq


ن لیگ، مزاحمت کے نعروں پر انتخابی سیاست

ن لیگ، مزاحمت کے نعروں پر انتخابی سیاست

اگرچہ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن لاہور ایئرپورٹ پر نواز شریف کے طیارے کے پہنچنے اور شہباز شریف کی ریلی کے بروقت نہ پہنچ پانے کے بارے میںکہتے ہیں کہ اس طرح شہباز شریف نے نواز شریف اور مریم نواز کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے ۔ تاہم ان کا یہ طعنہ اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ نواز شریف نے اس موقع کو مزاحمتی تحریک کے آغاز کے لیے استعمال کرنا چاہا تھا جس میں جلاؤ گھیراؤ ہونا اور مارا ماری ہوتی لیکن نواز شریف کے بیانات سے اس نہج کی مزاحمت کا اظہار نہیں ہو رہا ۔ نواز شریف کا آنا بھی طے شدہ تھا اور شہباز شریف کا طیارے کے پہنچنے پر لیگیوں کا اجتماع لانا بھی طے شدہ تھا۔ تو پھر یہ بھی طے شدہ سمجھا جانا چاہیے کہ جس قدر شو آف پاور ہوا وہ بھی طے شدہ تھا۔ دوبئی میں قیام کے دوران تک میاں صاحب کے پاس سیٹلائٹ فون تھا اور شہباز شریف بھی اس سہولت سے خالی نہیں ہیں۔ میاں شہباز شریف اور نواز شریف بھی یہ رسک نہیں لے سکتے تھے کہ ایئر پورٹ کے قریب لاشیں گریں۔ان کا مقصد محض یہ دکھانا تھا کہ ان کی پارٹی مقبول عوام ہے تاکہ اس بڑے اجتماع کو ٹیلی وژن پر دیکھ کر ان کی پارٹی کے ممکنہ ووٹروںکو حوصلہ ملے ۔ اور انتخابات میں ان کی پارٹی سرخرو ہو۔ میاں نواز شریف اور شریف خاندان کی سیاست کی بنیاد مسلم لیگ ن ہے جسے خطرے میں ڈالنا یا اس کے ووٹ بینک میںکمی انکو بنیادی اثاثے سے محروم کر سکتی ہے۔ حمزہ شہباز نے نواز شریف کے استقبال کی کال دیتے ہوئے خاص طور پرکہا تھا کہ پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز بھی سارے پاکستان سے لاہور آئیں۔ یہ ٹکٹ ہولڈرز اپنے اپنے علاقوں سے روانہ بھی ہوئے ‘ کچھ وقت پر پہنچے اور کچھ نہ پہنچ سکے یہ اور بات ہے۔ لیکن ٹکٹ ہولڈرز وہ لوگ ہیں جو پارٹی ٹکٹ کے لیے چندہ بھی دے چکے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں انتخابی مہم پر خرچ بھی کر چکے ہیں۔ ان سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ توڑ پھوڑ اور مارا ماری کی سرگرمیوں میں شامل ہونے یا اپنے کارکنوں کی اس حوالے سے حوصلہ افزائی کرتے لہٰذا اس اجتماع کا ہونا اور پرامن رہنا بھی طے شدہ سمجھا جانا چاہیے۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا جا چکا ہے کہ مسلم لیگ ن ہی شریف خاندان کی سیاسی زندگی کا واحد سہارا ہے۔ اس کے کارکنوں کو خطرے میں ڈالنا جس سے وہ بددل ہو جائیں یا انہیں مزاحمت پر اکسانا جس کے نتیجے میں انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان لازمی ہو جائے ان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اور اس کا اہتمام شہباز شریف اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں نے کافی حد تک خوبی سے کیا ہے۔ لیکن میاں نواز شریف کے ’’استقبال‘‘ کی کال دے کر میاں شہباز شریف نے ایک رسک ضرور لیا ہے کہ پارٹی کے کارکنوں کو دو تین دن کے لیے انتخابی مہم کے لیے الگ کر دیاہے بلکہ تھکا دیا ہے اور ان کے جوشیلے کارکنوںکو بددل کر دیا ہے جو مزاحمتی کارروائی کے لیے کمرکس کے آئے تھے۔ اس سے ان کے امیدواروں کی انتخابی مہم متاثر ہو سکتی ہے۔ لاہور کے اجتماع میں یک جہتی اور جوش و خروش کا مظاہرہ زیادہ تر میاں شہباز شریف کی ریلی تک تھا ، ایئرپورٹ پر پہنچنے کی کوشش کے چند اِکا دُکا واقعات ہی ٹی وی پر نظرآئے۔ مسلم لیگ ن کی حکمت عملی اب بھی یہی لگتی ہے کہ نواز شریف کے بیانات کے ذریعے کارکنوں میں جوش و خروش پیدا کیا جائے اور شہباز شریف کی کارکردگی کے بیانات کی روشنی میں پارٹی کے امیدوار انتخابی مہم چلاتے رہیں۔

متعلقہ خبریں