Daily Mashriq


ناکام انقلاب اور ناتمام خواہش

ناکام انقلاب اور ناتمام خواہش

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے کے بعد لندن سے واپس پہنچے تو انہیں صاحبزادی مریم نواز سمیت سرکاری اداروں نے اپنے حصار میں لے کر اڈیالہ جیل پہنچا دیا اور یوں سابق وزیراعظم کی زندگی کے ایک اور پرصعوبت دور کا آغاز ہوگیا۔ اڈیالہ جیل میں میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر ایک ہی مقدمے میں مقید ہیں۔ میاں نواز شریف کی آمد پر شہباز شریف کی قیادت میں لاہور میں احتجاج تو ضرور ہوا مگر یہ احتجاج انقلاب یا توڑ پھوڑ کی شکل اختیار نہ کر سکا اور یوں معاملہ مظاہرین اور سیکورٹی اداروں کے درمیان آنکھ مچولی سے آگے نہ بڑھ سکا۔ شہباز شریف نے بھی قانونی اور آئینی حدود میں رہ کر احتجاج کرکے نہ صرف خود کو بلکہ حالات کی رسی پر ڈولتی ہوئی ریاست کو مشکل میں ڈالنے سے گریز کیا۔ نگران حکومت نے پابندیاں عائد کرکے غیر ضروری طور پر تحریک کا سماں بنانے کی کوشش کی تھی مگر یہ اس کے باوجود نتیجہ ولے بخیر گزشت رہا۔ اگر شہباز شریف دس لاکھ کا مجمع بھی جمع کرتے تب بھی تو مظاہرین نے پرامن طور پر منتشر ہونا تھا؟۔ اگر منصوبہ اس کے سوا کچھ اور تھا تو پھر خواہش کی اس کلی کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے جو بن کھلے مرجھا گئی۔ میاں نوازشریف نے جب پاکستان کیلئے رخت سفر باندھا تو یوں لگ رہا تھا کہ وہ ایک انقلاب کی تمنا میں آرہے ہیں۔ وہ اپنی واپسی کے دن کو یادگار اور ریفرنڈم بنا کر رکھ دینا چاہتے ہیں۔ عوام سے اُٹھ کھڑے ہونے کی اپیلوں میں ان کا یہی مقصد جھلک رہا تھا حالانکہ پاکستان میں انقلاب کی ناتمام رہ جانے والی خواہشات کے حوالے سے ان کے سامنے پاکستان اور اس سے باہر بے شمار مثالیں موجود تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بینظیر بھٹو ایک انقلاب کی خواہش لئے پاکستان لوٹ آئیں تھیں۔ ان کے استقبالی ہجوم کو دس لاکھ کا مجمع کہا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی زبان پر کوری اکینو بننے اور جنرل ضیاء الحق کو مارکوس بنانے کی خواہش بار بار جھلکتی تھی اور وہ بار بار مخالف کو مارکوس قرار دے رہی تھیں۔ خوابوں اور خواہشات کی بات اور۔۔ مگر یہ فلپائن نہیں پاکستان تھا نہ بینظیر بھٹو کوری اکینو بنیں، نہ ضیاء الحق مارکوس بننے پائے۔ بینظیر بھٹو بھی امریکہ اور ضیاء الحق اور ان کے نظام کیخلاف اپنا ذاتی انتقام اور غصہ باہر ہی چھوڑ آئیں۔ انہوں نے ضیاء الحق کے غیر جماعتی پارلیمانی سسٹم کیساتھ مفاہمت کی راہ نکالی اور وہ وزیراعظم محمد خان جونیجو کی جنیوا معاہدے کے حوالے سے طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوئیں۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نہ تو انقلاب برپا ہوتے ہیں اور نہ پہاڑ روتے ہیں۔ انقلاب ایک دھماکے، اتھل پتھل کا نام ہوتا ہے۔ خون پانی کی طرح بہتا ہے اور لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں انسانوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جانے کے بعد سرکاری فورسز ایک مقام پر پہنچ کر خلق خدا پر گولی چلانے سے انکاری ہو جاتے ہیں اور باغی اور انقلابی ہجوم جبر کی علامتوں کے حصار گراتا ہوا ان پر قابض ہو جاتا ہے۔ خاک نشین تخت پر اور تخت نشین دربدر ہو جاتے ہیں ایران کی حقیقی اور عرب سپرنگ کے جعلی انقلاب تک مناظر ایک جیسے ہی دیکھے گئے ہیں۔ اس انقلاب کیلئے ایک خونخوار شخصی حکمران اور آمر مطلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام خمینی بننے کیلئے ایک رضا شاہ پہلوی کی ضرورت ہوتی ہے تو مسز کوری اکینو بننے کیلئے مارکوس درکار ہوتا ہے۔ جبر اور جماؤ کا ماحول ضرورت ہوتا ہے۔ آمر کی جیلیں اور عقوبت خانے درکار ہوتے ہیں۔ حقوق انسانی کی بدترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ چاہئے ہوتا ہے۔ اظہار پر ہی نہیں سوچوں اور افکار پر بھی پابندی درکار ہوتی ہے۔ طلوع صبح کو ایک سیاہ رات کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویا کہ حالات ایک پریشر ککر کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر عوامی جذبات کے بھاپ کا دباؤ اسے ایک دھماکے سے اُڑا دیتا ہے۔ اسی کو انقلاب کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایوب خان،یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسے تھکے ہارے ڈکٹیٹر موجود رہے ہیں مگر اب تو وہ دھندلا خاکہ بھی باقی نہیں رہا۔ آئین بحال ہے، آئینی عہدوں پر لوگ فائز ہیں۔ پارلیمنٹ کا ایک حصہ سینیٹ اپنا کام کر رہی ہے۔ انتخابی عمل میں مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتیں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ اسلئے اب اظہار رائے کی آزادیاں سلب تو کیا ہوں گی بلکہ فرد کو حاصل آزادیاں حدود وقیود کے پیمانے سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ اس لئے پاکستان کا مسئلہ ٹارزن بننے سے حل ہونے والا نہیں۔ جو لوگ نواز شریف کو ٹارزن بننے کے مشورے دینے اور ان کی واپسی کو یوم حساب بنانے کے خواہش مند تھے ان کے ذہنوں میں انقلاب کی ایسی ہی خواہش کا لاوہ پک رہا تھا اسی لئے وہ پہلے نوازشریف اور اس کے بعد شہباز شریف کو ٹارزن بنے رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ نواز شریف کیساتھ کچھ تو ان کے روایتی اور دیرینہ مشیروں نے اور کچھ نئے نویلے ڈالر خور لبرل حامیوں نے ایک بار پھر ’’قدم بڑھاؤ نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ والا ہاتھ کر دیا اور یوں ان کے انقلاب منزل تک تو نہ پہنچ سکا اور ان کا تیرہ جولائی الطاف حسین کے بائیس اگست کی طرح بے کیف اور بے رنگ گزر گیا۔ میاں نوازشریف اور الطاف حسین دونوں کا المیہ یہ ہوا ان کا اعتماد زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ انہیں سیاسی حلقہ ارادت نے یہ باور کرایا تھاکہ ان پر افتاد آن پڑی تو انسان تو کیا ہمالیہ بھی روئے گا حالانکہ پہاڑ رویا نہیں کرتے۔ سویلین بالادستی کے خواب کی تعبیر خاک وخون کے سمندر کی مسافت پر نہیں بلکہ چند قدم کی دوری پر ہے۔ جس دن سیاسی قیادت اپنی اسٹیبلشمنٹ پر قابو پانے کیلئے دنیا کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو سہارا لینا چھوڑ کر اپنے فیصلے اپنی ضرورتوں کے تحت کرنے اور خود اپنے اندر جمہوری کلچر کو رواج دے گی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ سے طاقت کی ریت ذرہ ذرہ ہو کر نکلنا شروع ہوگی مگر یہ صرف اخلاقی طاقت کے ذریعے ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں