Daily Mashriq


ووٹ کے حقدار اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

ووٹ کے حقدار اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

ہاں تعلیم اور سیاسی شعور کی کمی اور فقدان کے سبب عوام اس مقام پر نہیں پہنچ سکے ہیں جو اپنے ووٹ کے لئے صحیح اور مستحق امیدوار کا تعین کرسکیں۔ پاکستان میں ووٹ کے حصول کے لئے جو بنیادیں پڑی ہیں ان میں ذاتی مفادات کا حصول سرفہرست ہے۔ عوام انتخابی امیدواروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ منتخب ہو کر اور وزیر بن کر صاحب بہادر ہمارے بچوں کو روز گار دیں گے۔ ہماری گلی ‘ محلے کو پختہ کریں گے۔ ہمارے لئے ٹیوب ویل اور ہینڈ پمپس اور دیگر چھوٹے موٹے کام کریں گے۔ بعض ووٹر ذرا اوپر اٹھ کر اپنے علاقے کے لئے بجلی اور گیس کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے بعض تیز انتخابی امیدوار راتوں رات بعض مطالبات کبھی مختلف محکموں میں اپنے لوگوں کے ذریعے اور کبھی اپنے وسائل سے فوری ضرورت کے بعض مسائل حل کرکے ووٹ کھرے کرلیتے ہیں۔ یاد رہے کہ اپنے وسائل سے فراہم کردہ اشیا کی قیمت بعد میں حکومت میں آنے کی صورت میں بہت حکمت کے ساتھ دگنی وصول کرلیتے ہیں۔متذکرہ بالا وجوہات کی بناء پر پاکستان میں ووٹ کوآج تک وہ تقدس حاصل نہیں ہوسکا ہے جو اسلامی نقطہ نگاہ سے اسے حاصل ہے۔ مغربی ممالک میں عوام کے تعلیم یافتہ ہونے کے سبب سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کو ان کے منشور میں عوام کے لئے پیش کردہ مراعات اور قوم و ملک کودرپیش مسائل کو حل کرنے کی بہتر یقین دہانی کے سبب ووٹ ڈالا جاتا ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کا نعرہ لگا کر ہیلری کلنٹن جیسی مضبوط امیدوار کو ہرا دیا۔ ٹرمپ اب اپنے انتخابی منشور پر دنیا جہا ںکی مخالفت کی پروانہ کرتے ہوئے ہر وہ کام کر رہا ہے جس سے امریکیوں کو فائدہ ہو رہا ہو۔ چین جیسے ملک کے ساتھ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لئے چینی مصنوعات پر ٹیکسوں میںبے تحاشا اضافہ کرکے چینی درآمدات کو بریک لگادیا ہے۔ اسی طرح دیگر یورپی ممالک میں ہوتا ہے۔ برطانیہ نے یورپ سے الگ ہونے کے لئے ریفرنڈم کرا دیا اور الگ ہوگیا لیکن ہمارے ہاں سیاسی اور دینی دونوں طرح کے علم و شعور کے فقدان کے سبب غریب اور ان پڑھ ووٹر کو کوئی جہاں ورغلا کرلے گیا تو لے گیا۔ہم جیسے لوگ جب ان غریب عوام کو مہنگائی‘ بے روز گاری اور ضروریات زندگی کی عدم دستیابی پر روتا ہوا دیکھتے ہیں تو کوستے ہیں کہ بھگتو!۔ تم ہی لوگوں نے ان حکمرانوں کو بکس بھر بھر کے ووٹ ڈالے تھے۔ بے چارے ہونقوں کی طرح دیکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ہمیں کیامعلوم تھا کہ ان صاحبوں کو ووٹ دینے کے نتائج یوں بھی ہوں گے۔ اس دفعہ کے انتخابات میں ایک چیز واضح طور پر نظر آرہی ہے کہ پاکستانی ووٹر انشاء اللہ کافی حد تک سیاسی بلوغت کو پہنچ چکا ہے اور ان سے امید سی ہوچلی ہے کہ اس دفعہ جو لوگ بھی منتخب ہو کر آئیں گے ان کو اپنے ذاتی مفادات کے بجائے بہر حال قومی اور عوامی مفادات کو خصوصی توجہ دینا ہوگی اور عوام کے بنیادی مسائل کو ہرصورت حل کرنا ہوگا۔آنے والی حکومت کے لئے مقابلتاً اچھے لوگوں کے انتخاب کے لئے اگر ہم درج ذیل چند نکات کو ووٹ ڈالتے وقت ذہن میں رکھیں تو امید واثق ہے کہ نتائج خوشگوار ہوں گے۔٭ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ووٹ ایک امانت اور شہادت اور گواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھے گا کیونکہ حکم الٰہی ہے کہ ’’ بے شک اللہ حکم دیتا ہے کہ امانتیں (ووٹ) اہل لوگوں کے حوالے کرو۔‘‘٭گواہی اور شہادت اللہ تعالیٰ کے لئے دی جائے۔ اس میں والدین‘ اقرباء یا دوست‘ رشتہ داری برادری اور امیر غریب کا خیال نہ رکھا جائے۔

٭حق اور اسلام کے لئے گواہی نہ دینا یا چھپانا بہت بڑا ظلم اور گناہ کبیرہ ہے۔ ہمارے ہاں بعض دیندار لوگ ووٹ ڈالنا ضروری ہی نہیں سمجھتے اور بعض اوقات ڈالتے ہیں تو خالص بے دین‘ سیکولر اور لبرل حضرات کو۔ یہ صریحاً ان کی دین داری کے خلاف عمل ہے اور گناہ کا ارتکاب ہے۔٭ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام کے نام پر قائم ہواہے لہٰذا ووٹ ڈالتے وقت اس بات کاخیال سب سے پہلے رکھنا ہوگا کہ کونسی سیاسی اور مذہبی جماعت اسلامی نقطہ نگاہ سے بہتر رہے گی۔ ایسی جماعت سب سے بہتر رہے گی جو ملکی مسائل کا شعور اور انہیں حل کرنے کا عزم صمیم رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے مبادیات پر پختہ یقین رکھتی ہو اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کا منشور رکھتی ہے‘ پاکستانی عوام کے ووٹ کی سب سے بڑھ کرحقدار ہوسکتی ہے۔

٭ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ اس وقت چونکہ ساری سیاسی پارٹیوں کے رہنما الحمدللہ مسلمان ہیں اور کوئی بھی دستور پاکستان کے طفیل قرآن و سنت کے خلاف نہ بات کرسکتاہے اور نہ قانون سازی‘ لہٰذا ایسی جماعت کاانتخاب کرنا ہوگا جو پاکستان کی داخلہ اورخارجہ پالیسیوں کو ایسے خطوط پر استوار کرے کہ پاکستان دہشت گردی‘ معاشیات کی مشکلات اور سودی نظام معیشت اور قرضوں کی معیشت سے نکل کر اپنے وسائل پر انحصار کی راہ اختیار کرتے ہوئے ایک خود دار ملک کی حیثیت سے اقوام عالم میں کھڑا ہوسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انتخابات کے بعد ہر سیاسی جماعت کے دیانتدار‘ ذہین اور ماہرین پر مشتمل لوگوں کی قومی حکومت اگر تشکیل پاسکے تو شاید ملک و قوم سیاستدانوں کے درمیان اختلافات اور انتشار سے نکل کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔

متعلقہ خبریں