Daily Mashriq


انکل ڈیمیج اور ناکارہ لوٹے

انکل ڈیمیج اور ناکارہ لوٹے

نام تو نہ جانے اس کا کیا تھا مگر اسے ہم انکل ڈیمیج کہتے تھے ، اسے امیرے ہمدم دیرینہ افتخارالرسول نے دریافت کیا تھا ،افتخار گزشتہ کئی برس سے امریکہ میں مقیم ہے ، میں اور وہ اکثر کارخانو مارکیٹ جا کر گھر یلو ضروریات کی اشیاء لایا کرتے تھے ، ایک روز میں نے افتخار سے کہا ، یار اب کی اتوار کے روز کا رخانو مارکیٹ جائیں گے اور ٹائلٹ صابن ، شیمپو ، ٹوتھ پیسٹ وغیرہ خریدنا ہے ، اس نے کہا اب کی بار مارکیٹ کے مقابلے میں یہ ساری اشیاء تقریباً نصف قیمت پر خریدیں گے ، میں نے حیرت سے کہا ، کیوں تم نے وہاں دکان کھول لی ہے یا پھر چوری کا مال ہاتھ لگاہے ؟ مسکراتے ہوئے جواب دیا ، ہم انکل ڈیمیج سے سستے ریٹ میں لائیں گے ۔۔۔ انکل ڈیمیج ؟ یہ کون ذات شریف ہیں ؟ افتخار نے بتایا کہ وہاں فلاں مارکیٹ میں ایک دکاندار ہے جو’’بھٹیوں ‘‘ سے جا کر Damageمال خریدتا ہے اور پھر اپنی دکان پر سستے داموںبیچتا ہے ۔ بھٹیاں دراصل جمرود اور کارخانو مارکیٹ کے درمیان اس علاقے کو کہتے ہیں جہاں بڑی بڑی سرائیں ہیں جن میں باہر سے کنٹینرز پر لایا ہوا مال اتارا جاتا ہے او رپھر تھوک کے حساب سے کارخانومارکیٹ کے دکانداروہاں سے لاکر اپنی مارکیٹوں میں فروخت کرتے ہیں ، چونکہ یہ کنٹینر ز طویل سفر طے کر کے اورپہاڑی علاقوں سے گزر کر آتے ہیں اس لئے دوران سفر ان میں اکثر کارٹن ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر Damageہو جاتے ہیں ، یوں جب ان کارٹن کو کھولا جاتا ہے تو اچھی خاصی مقدار میں مال ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہوتا ہے ۔ خصوصاً صابن ، ٹوتھ پیسٹ ، شیونگ کریم اور اسی نوعیت کی اشیاء کے یا تو ڈبے پھس جاتے ہیں ، یا پھر یہ ٹیوب بھی ٹیڑھے میٹرھے ہو جاتے ہیں ، صابن بھی ریپر کے اندر ہی حادثات سے دوچار ہو چکے ہوتے ہیں ، ان کے علاوہ وہ اشیاء جو نازک کے زمرے میں آتی ہیں ، یعنی شیشے کے برتن وغیرہ ان میں سے بھی اکثر برتن ٹوٹ جاتے ہیں اورسیٹ (set)کنڈم ہو جاتے ہیں ، حالانکہ ان کے کارٹن پر انگریزی میں Fragill-Handle with careیعنی انتہائی نازک اشیاء احتیاط بریئے ، واضح طور پر لکھا ہوتا ہے ، مگردوران سفر کو ئی کہاں تک احتیاط برت سکتا ہے ، یوں جو اشیا ناکارہ ہو جاتی ہیں وہ پھر سستے داموں حاصل کر کے انکل ڈیمیج خرید لاتا اور سستا ہی فروخت کرتا ۔ یہی وجہ تھی کہ اسے ہم لوگوں نے انکل ڈیمیج کانام دے رکھا تھا ۔ انکل ڈیمیج ان نازک اشیاء کو بھی سینت سینت کر ، سنبھال سنبھال کر رکھتا گویا انہیں ان کی ناز کی کا احساس تھا یعنی بقول شاعر

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہیں بہت کام

آفاق کی اس کا ر گہہ شیشہ گری کا

نہ جانے پھر کیا ہوا کہ Damage Uncle اچانک عدم پتہ ہوگیا ۔ اچانک گزشتہ دنوں ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے خیالصتان میں سکونت اختیار کرلی ہے اور وہاں بھی انہوں نے وہی کام شروع کر رکھا ہے لیکن اب وہ ڈیمیج کا سمیٹکس کی جگہ صرف لوٹوں کا کاروبار کرتے ہیں اب ان کی دکان میں طرح طرح کے ، بھانت بھانت کے ، مختلف رنگوں اور نسلوں کے لوٹوں کی بھر مار ہے ، وہ اپنے مشیروں کی ہدایت پر خیالصتان کے کونے کونے سے لوٹے اکٹھے کر کے ان پر نئے لیبل چسپاں کر کے خیالصتان کے عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ، خیالصتان میں انکل ڈیمیج نے ناکارہ اورناقص لوٹوںکا جو کاروبار شروع کیا ہے اس میں نہ صرف یہ کہ ان لوٹوں پر نیا لیبل چسپاں کر کے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ ان میں عمر رسید ہ اور ازکار رفتہ لوٹوں کو بھی نیا رنگ روپ دے کر ، اور ان کی ناقص کارکردگی سے لوگوں کے بے خبر رکھنے کی بھر پور سعی کی جارہی ہے ، جبکہ ان آزمودہ اورناکارہ لوٹوں کو زبردستی لوگوں پر تھوپا جارہا ہے ، حالانکہ ان لوٹوں کے پیندے بھی نہیں ہیں اور ان کی خصوصیت لڑھکنے کے علاوہ اور کوئی نہیں ، ان کے ساتھ جوزنگ لگا ہوا ہے لوگ پہلے ہی ان سے نالاں ہیں ، مگر انکل ڈیمیج اپنے کاروبار میں اس قدر زیرک ہو چکا ہے کہ اب وہ خیالصتان کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے گر بھی اچھی طرح جان چکا ہے اور کچھ اسے یہ ناقص اور ناکارہ لوٹے فراہم کرنے والے اس کی پشت پر کھڑے ہو کر ان زنگ آلود لوٹوں کو ہر قیمت پر فروخت کرنا چاہتے ہیں ۔ اور انکل ڈیمیج کو چونکہ اپنے منافع سے مطلب ہے اس لئے وہ بھی اپنے پشتیبانوں کے اشاروں پر خوشی خوشی ناچ رہا ہے ، یعنی بقول حضرت عثمان ہارونی ؒ

تو ہر دم می سرائی نغمہ وہر بار می رقصم

بہ ہر طرز کہ رقصائی منم اے یارمی رقصم

اسے اردو میں یار طرحدار یوسف عزیز زاہد نے یوں ڈھالا ہے کہ

سنائے جب بھی تو نغمہ تو میں ہر بار رقصاں ہوں

نچائے جس طرح بھی جیسے بھی اے یار رقصاں ہوں

انکل ڈیمیج کی واردات اپنی جگہ ، اس کے سر پرستوں کی باریک بینی سے بچھائی ہوئی بساط اپنی جگہ مگر خیالصتان کے لوگ انکل ڈیمیج کے طریقہ واردات کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں اورانہیں پتہ ہے کہ پرانے ، زنگ آلود اور از کار رفتہ ناقص لوٹوں کو نئے لیبل سے قبول کرنے میں ان کا نقصان ہی نقصان ہے۔ اس لئے وہ سوچ کی گہری وادی میں گھومتے ہوئے ان بھول بھلیوں سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں ۔

کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل

کل نہ پہچان سکے گی گل ترکی صورت

متعلقہ خبریں