Daily Mashriq

خواب اسی کو کہتے ہیں

خواب اسی کو کہتے ہیں

عمران خان نے ملک سے بے روزگاری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک کروڑ افراد کو نوکریاں دلوانے کا وعدہ کیا ہے۔ اور حق راستی تو یہ بات بھی ہے کہ وعدہ اس وقت تک وعدہ ہی رہتا ہے جب تک وہ پورا نہیں ہوجاتا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو پورا ہو۔ ہم سادہ دل پاکستانی ، ان قسموں اور وعدوں ہی کے سہارے تو زندہ ہیں۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میں ہمیں کتنے سبز باغ دکھائے گئے ،کتنے خواب تھے جو ہم نے دیکھے لیکن ان کی سچی تعبیروں کو کل بھی وعدہ وعدہ تھا اور آج بھی وعدہ وعدہ ہے کے مصداق ترستے رہے اور ترس رہے ہیں۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ’وعدے قسمیں پیار وفا سب باتیں ہیں باتوں کا کیا‘

وعدہ جھوٹا کرلیا چلئے تسلی ہوگئی

ہے ذرا سی بات خوش کرنا دل ناشاد کا

ماضی میں قوم والوں سے جو وعدے کئے جاتے رہے وہ سب سیاسی نوعیت کے تھے۔ عمران خان کے متعلق کہنے والے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ سیاسی لیڈر نہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی نابالغ ہے اور کچھ لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں وہ سیاست کے حروف ابجد تک سے واقف نہیں اسے کرکٹ کھیلتے رہنا چاہئے تھا مگر شومئی قسمت یا شامت اعمال سے وہ کرکٹ کا میدان اور اس کی پچ سے نکل کر ہاتھ میں بلا لئے میدان سیاست میں آدھمکا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ان سب باتوں پر کپتان کی صحت گرامی پر کوئی اثر پڑا ہے ، نہ پڑے گا اور نہ پڑنے والا ہے۔ اس نے کروڑ بھر نوکریوں کے علاوہ بے گھر لوگوں کو سستے مکان بنا کر دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو جب نوکریاں ملیں گی تو وہ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں کے مصداق پھولے نہ سمائیں گے۔ ماضی ہی میں نہیں عہد حاضر میں بھی بے روزگاری سکہ رائج الوقت کی طرح مسئلہ رائج الوقت بن کر چارہ گروں کی توجہ کا محتاج رہا۔ لیکن ملک اور قوم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے والوں نے اپنی حرص و ہوس کو پورا کرنے میں وقت صرف کردیا اور ہوشربا گرانی کی طرح بے روزگاری کا مسئلہ بھی دن بدن عفریت بن کر مایوسی پھیلاتارہا۔ بے روزگاری کو ختم کرنے یا اس قباحت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بجائے اس کے خلاف لمبی چوڑی تقریریں کی جاتی رہیں۔مگر بے روزگاری کو کوئی مائی کا لال ٹس سے مس نہ کرسکا، ایک مقرر بے روزگاری کے موضوع پر دھواں دھار تقریر کر رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ملک میں بیروزگاری نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ بے روزگار نوجوانا خود کشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ مقرر کی یہ باتیں سن کر دل لہوکے آنسو رونے لگا۔ لیکن جب ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ بھی بے روزگار ہو ؟۔ ہماری یہ بات سن کر بے روزگاری کے خلاف بولنے والا لمحہ بھر کے لئے مسکرایا اور نہایت مختصر الفاظ کہنے لگا ’’ نہیں جی ، میں بے روزگار نہیں، بے روز گاری کے خلاف تقریر کرنا ہی میرا ذریعہ معاش ہے ‘‘ جو بندہ باروزگار رہنا چاہتا ہو تو ضروری نہیں وہ سرکاری یا غیر سرکاری نوکری کرکے اپنی بے روزگاری کو ختم کردے۔ نوکری میں تو وہ آجر کا اجیر بن کر رہ جاتا ہے۔ تنخواہ دینے والا اس جیسا اور جہاں کی بنیاد پر کام لینا ضروری خیال کرتا اور تنخواہ پانے والا ملازم اپنی دو ٹکوں کی نوکری کی خاطر وہ سب کچھ کرنے پر مجبورہو جاتا ہے جو اسے کرنا زیب نہیں دیتا۔ اس بھولے باچھا کی طرح جسے سرکس والے نے بندر کی کھال پہنا کر ایک پنجرے میں بند کردیا اور ساتھ میں یہ تلقین بھی کردی کہ تم اس پنجرے میں اچھلتے کودتے رہو تاکہ تمہیں دیکھنے والے تمہاری حرکتوں سے محظوظ ہوتے رہیں۔ بھولے باچھا نے سرکس کے ہیڈ کی ہدایات کو پورا کرنے کی خاطر بندر کی کھال پہن کر اچھلنا کودنا شروع کردیا۔ لیکن اس سے اچھلنے کودنے کے دوران غلطی سرزد ہوگئی اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے شیر کے پنجرے میں جاگرا۔ اب کیا ہوگا !!شیر تو اسے چیر پھاڑ کر کھا جائے گا۔ وہ شیر کے روپ میں اپنے سامنے موت کو دیکھ کر تھر تھر کانپنے لگا۔ مگر یہ کیا شیر اس پر حملہ آور ہونے کی بجائے اس کے قریب آیا اور اس کے کان کے قریب اپنا منہ کر کے کہنے لگا ’’اوئے بھولے باچھا کے بچے، جلدی سے یہاں سے نکل بھاگ۔ ورنہ تیرے ساتھ میری نوکری بھی ختم ہوجائے گی‘‘ بھولے باچھا نے پنجرے میں قید جنگل کے بادشاہ کی یہ بات سن کر اپنی نوکری بچانے کے لئے کیا تدبیر نکالی اس کا ہمیں علم نہیں۔ ہم تو بس اس تردد کا شکار ہیں کہ وعدوں، قسموں، پیار اور وفا کے چوکے اور چھکے مارنے والا کپتان ملک سے بے روزگاری ختم کرنے کے لئے پشاور کے چڑیا گھر کی طرح کے چڑیا گھر نہ کھولنا شروع کردے ، ہمیں تشویش ہے کہ وہ اتنی ساری نوکریوں کے مواقع کیسے پیدا کرے گا اور ان لوگوں کو ٹھکانے لگانے کا کیا اہتمام کرے گا جو رشوت سفارش اور نوکریوں کو ہزاروں اورلاکھوں کے عوض بیچنے اور خریدنے کے کلچر کے پروردہ ہیں۔ نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے سے پہلے حرص و ہوس طمع لالچ اور بھوک مٹانے کا عزم لیکر بلاول بھٹو زرداری نکل کھڑا ہوا۔ اے کاش کہ وہ اپنی آدرش کو پالے، خواب دیکھنا اور خواب دکھانا بہت آسان ہوتے ہیں ، خیالی پلاؤ فوراً پک کر تیار ہوجاتے ہیں ، خیالی محلات تعمیر کرنے والوں کو کسی محنت کش مٹی گارا یا مصالحہ کی ضرورت نہیں پڑتی، ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آتا ہے، بہت دیکھ چکے ہم خواب ، بہت

جس کی کوئی تعبیر نہ ہو

خواب اسی کو کہتے ہیں

متعلقہ خبریں