Daily Mashriq

اینکر پرسن قتل: پولیس کی ملزم کے خلاف نیب انکوائری کی سفارش

اینکر پرسن قتل: پولیس کی ملزم کے خلاف نیب انکوائری کی سفارش

نجی ٹی وی چینل کے اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کے قتل کے تفتیشی افسران نے ایک ارب روپے سے زائد کی جعلسازی پر ملزم عاطف زمان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی انکوائری کی سفارش کردی۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی انویسٹی گیشن طارق دھاریجو نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی شرجیل کھرل کو لکھے گئے خط میں زیرِ حراست ملزم عاطف زمان کے خلاف جعلسازی کی تحقیقات کے لیے نیب سے رابطہ کرنے کی سفارش کی ہے۔

’مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس حوالے سے ٹھوس دستاویزی شواہد سامنے آئے کہ زیر حراست ملزم عاطف زمان نے ایک ارب روپے سے زائد کی جعلسازی کی وجہ سے دوہرا قتل کیا‘۔

خط میں مزید کہا گیا ’اس غبن سے متاثر افراد کی تعداد 100 سے زائد ہے‘۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خط میں کہا گیا کہ کیس کے تمام پہلو براہ راست نیب کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ ’جیسا کہ اس جعلسازی میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد بھی بطور سرمایہ کار شامل ہیں تو پولیس پر ریکوری کے لیے شدید دباؤ ہوگا‘۔

لہٰذا تحقیقاتی افسر نے مذکورہ کیس نیب کو ارسال کرنے کی سفارش کی ہے۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی جنوبی کو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب سندھ کو میرٹ کی بنیاد پر باضابطہ طور پر جعلسازی کی تحقیقات کے لیے رابطہ کرنے پر اصرار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 9 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں نجی ٹی وی کے اینکر پرسن مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو عاطف نامی شخص نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

واقعے کے بعد ملزم نے اسی علاقے میں اپنی رہائش گاہ پر پولیس کے پہنچنے پر خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔

ملزم کے خلاف مرید عباس کی اہلیہ کی شکایت پر دوہرے قتل کا مقدمہ اور خودکشی کی کوشش کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سینیئر افسر نے انکشاف کیا کہ عاطف زمان پنجاب میں ڈبل شاہ کیس جیسا ریکٹ چلا رہا تھا جس میں لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہوئی تھی، تاہم اس نے اپنے اہم شراکت داروں کو پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے پر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 50 سے زائد افراد نے 10 سے 15 کروڑ روپے ملزم عاطف زمان کو دے رکھے تھے اور وہ تمام افراد اپنی رقم/حصے کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے، اس مبینہ جعلساز مہم کا آغاز 2015 میں ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں