Daily Mashriq

ہائوسنگ سکیمز ،دیر آید درست آید

ہائوسنگ سکیمز ،دیر آید درست آید

پشاور کی 66میں سے 61غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں کی نشاندہی کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور میں نئی ہائوسنگ سکیموں کیلئے مجوزہ قواعد وضوابط جلد عملی طور پر لاگو کرکے ان پر سختی سے عملدرآمد مکانات کی تعمیر کے خواہشمند شہریوں کی مشکلات کا ادراک ہوگا۔ مہنگائی کے اس دور میں گھر بنانے کا خواب نا ممکن سا خواب دکھائی دیتا ہے جو لوگ سخت محنت اور جدوجہد کر کے اراضی بیچ کر زیورات گروی رکھ کے اور زندگی بھر کی جمع پونجی اور پنشن کی رقم پلاٹ کی خریداری اور مکان کی تعمیر پر لگاتے ہیں ان کو لٹنے سے بچانے دھوکہ دہی اور بلاوجہ کی تاخیر جیسے مسائل ومشکلات سے بچانے کیلئے ایک باقاعدہ ادارے کے قیام کی ضرورت ہے۔پی ڈی اے کی جانب سے لوگوں کی مشکلات کا ادراک اور اس ضمن میں مجوزہ اقدامات سنجیدہ مساعی ہیں جس کے تحت کسی بھی ہائوسنگ سکیم میں صاف پانی کی فراہمی ، نکاسی آب، کچرا ٹھکانے لگانے ،قبرستان اور پارکوں کیلئے مقام مختص کرنا لازمی ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں شہرائو کے عمل کے باعث درپیش مسائل اور اس میں اضافہ آبادی کے بڑھتے دبائو کے باعث ہونا اپنی جگہ لیکن اس سے کہیں زیادہ مسائل عدم منصوبہ بندی کے ساتھ پشاورشہر کا مضافات میں بڑے پیمانے پر اس طرح پھیلائو ہے کہ جس میں کسی منصوبہ بندی کا دخل نہیں پشاور کے آس پاس کی زرعی اراضی اور باغات جس بڑے پیمانے پر غیر قانونی اورچھوٹی چھوٹی ہائوسنگ سکیمز کی زد میں آئے اس کے باعث آج صوبائی دارالحکومت ایک ایسی بے ہنگم بے ضبط اوربے ترتیب آبادی کا منظر پیش کررہا ہے جس کے قدیم آبادی والے حصے کا اگر کوئی علاج نہیں تو اسی کی دہائی میں اور افغان مہاجرین کی آمد کے بعد سے جس قسم کی وسعت پذیری ہوئی اس میں اور قدیم آبادی والے علاقوں میں زیادہ فرق نہیں صوبائی دارالحکومت میں بجلی، پانی ،گیس اور ٹرانسپورٹ کے مسائل سے بھی اگر زیادہ سنگین مسئلہ کوئی ہے تو وہ نکاسی آب کا وہ کھلا نظام ہے جس کی کھلی نالیاں غلاظت،پلاسٹک کے تھیلوں کے گرجانے سے بندش،بارشوں میں خاص طور پر نالیوں کا گندہ پانی سڑکوں اور گلیوں پرآنے سے اور عام دنوں میں غلاظت نکال کر نالیوں کے قریب ہی ڈالنے اور پھر اس کا سوکھ کر ہوا میں شامل ہونا فضائی آلودگی،انسانی صحت ہی کیلئے زہر قاتل نہیں بلکہ پولیو کے موذی مرض کے سامنے آنے والے واقعات کی ایک بہت بڑی وجہ بھی ہیں۔ بلا اجازت اور غیر قانونی طور پر بغیر کسی نقشہ کے گھروں کی تعمیر کے باعث لوگوں کو آمدورفت،گیس وبجلی اور آبنوشی کی سہولیات کی فراہمی ہر حکومت کو اضافی وسائل مجبوراً صرف کرنا پڑتے ہیں حالانکہ ان ساری ضروریات کو پورا کرنا زمین فروخت کرنے والے مالکان یا پھر خرید کر پلاٹ بنا کر بیچنے والوںکی ذمہ داری بنتی ہے جس محدود پیمانے پر یہ عمل ہوتا ہے اس میں تو ممکن ہی نہیں کہ ان لوازمات کا خیال رکھا جا سکے یا پھر سرکاری ادارے اس کی پابندی کروا سکیں مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پشاور کی وسعتیں نوشہرہ اور ضلع خیبر درہ آدم خیل کے دامن ضلع مہمند اور اطراف تک پہنچ گئیں مگر کسی دور حکومت میں بھی اس کا کسی محکمے ادارے اور حکمران کو خیال نہ آیا۔ہائوسنگ کے شعبے میں حکومتی اداروں کی اپنی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ اسی کی دہائی میں حیات آباد کے قیام کے بعد ساتھ ہی ریگی للمہ ٹائون شپ کا جو آغاز ہوا لے دے کے حیات آباد میں لوگ بس گئے اور بستی بن گئی مگر ریگی للمہ میں سرکاری ملازمین سرمایہ کاروں اور عام لوگوں تاخیر درتاخیر کے باعث سرمایہ ڈوب گیا اور اب بھی سوائے زون تھری کے ریگی للمہ کے کسی زون میں گھر بنانا ممکن نہیںریگی للمہ ہائوسنگ کی بدترین ناکامی اور لوگوں کی اس سے مایوسی کے بعد سرکاری شعبے میں اب کسی بڑی ہائوسنگ سکیم کی توقع ہی نہیں ۔پی ڈی اے نے جو فارمولہ نجی ہائوسنگ سکیمز کیلئے مرتب کیا ہے خود حیات آباد اور ریگی للمہ کی سکیمیں اس پر پورا نہیں اترتیں ریگی للمہ میں جتنی تاخیر ہوئی اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے اورریگی للمہ کے مختلف زونز میں بجلی ، پانی ،گیس ،مواصلات اور سیکورٹی روزمرہ اشیاء خریداری کیلئے دکانوں،مسجد،سکول،پارک وغیرہ وغیرہ کی ضرورتیں اب بھی ناپید ہیں صرف یہی نہیں سینکڑوں افراد سے پلاٹوں کی مکمل رقوم کی وصولی کے باوجود ابھی تک زمین کا تنازعہ ہی طے نہیںہو پایا ہے ماضی کی ان غلطیوں اور لوگوں کی مشکلات سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں تمام معاملات کو سدھارنے کا اولین تقاضا یہ ہے کہ سب سے پہلے تمام سرکاری ہائوسنگ سکیمز میں محولہ قواعد وضوابط لاگو کئے جائیں اور عملی طور پر ان کے نفاذ کے بعد نجی ہائوسنگ سکیمز سے ان کی سختی سے پابندی کروائی جائے تاکہ مزید ہائوسنگ سکیمز کسی قاعدے اور ضابطے کے تحت بنیں اور لوگوں کا سرمایہ ضائع نہ جائے ہائوسنگ سکیمز سالوں بعد ادھوری ہیں ان کے مالکان کی جانب سے پلاٹ لینے والوں کا استحصال بند کرایا جائے اور جتنا بھی ممکن ہوسکے سہولیات اور لوازمات کی فراہمی یقینی بنانے اور یقینی بنوانے کی سعی کی جائے۔

متعلقہ خبریں