Daily Mashriq

وفاقی وزیر کا درست موقف

وفاقی وزیر کا درست موقف

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری وفاقی حکومت کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی حمایت پر تحفظات کا اظہار اس لئے سنجیدہ امر ہے کہ خود ایک اہم حکومتی رکن کو جاری صورتحال میں حکومتی حکمت عملی سے اتفاق نہیں۔ ان کا یہ موقف بجا ہے کہ جب معاملہ عدالتوں اور ن لیگ کے درمیان ہے تو حکومت کیوں جج ارشد ملک کے بیان کی حمایت میں پریس کانفرنس کر رہی ہے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ وزرا کو ان معاملات پر نہیں بولنا چاہیے۔جج کی مبینہ ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد اس حوالے سے متعلقہ فریق اور مخالف فریق کے درمیان بحث ومباحثہ سوال وجواب اور اعتراضات کی تو گنجائش ہے مگر چونکہ ایک فریق کا تعلق عدلیہ سے ہے اور وہ سرکاری ملازم ہیں اس لئے قانونی طور پر انہوں نے اپنامدعا تحریری طور پر عدالت کو پیش کردیا ہے ان کی وضاحت سے مطمئن ہونا یا نہ ہونا اب عدالت کی صوابدید ہے نیز اس معاملے کو نمٹانا بھی عدالت ہی نے ہے اس سارے عمل میں اگر کسی حکومتی کردار کی گنجائش ہے وہ یہ ہے کہ حکومت مبینہ ویڈیوز کے اصلی یا جعلی ہونے کی تحقیقا ت کراتی اور ان کا فرانزک ٹیسٹ کر کے رپورٹ عدالت اور عوام کے سامنے لاتی لیکن حکومت اس ذمہ داری کی ادائیگی کی بجائے فریق بنی ہوئی ہے جس کی نہ تو ضرورت تھی اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ حکومت ایسے معاملے میں فریق بنے جس میں حکومت دراصل فریق نہیں بہتر ہوگا کہ اب اس معاملے کو عدالت ہی کو جائز ہ لینے دیا جائے اس معالے میں پہلے ہی متعلقہ فریق کو عدالت طلب کر چکی ہے اور معاملے کو آگے بڑھانے اور منطقی انجام تک پہنچانے کی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے حکومت اگر اپنے ہی وزیر کا مشورہ مان لے تو بہتر ہوگا۔

صحت انصاف کارڈکے حامل مریضوں کی مشکلات

شانگلہ میں صحت انصاف کارڈ پر اتوار کے روز مریضوں کو علاج وآپریشن کی سہولت نہ ملنا قابل توجہ امر ہے جس سے مریضوں کی مشکلات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ اطلاعات کے مطابق سٹیٹ لائف کا شانگلہ میڈیکل کمپلیکس میں قائم صحت انصاف کارڈکادفتر بندہونے سے دوردراز سے آنے والے مریض ہسپتال سے مایوس واپس لوٹ جاتے ہیںاورایمرجنسی کی صورت میں صحت انصاف کارڈ رکھنے والے مریض قرض لیکر پرائیویٹ ہسپتالوں میںعلاج معالجے اور آپریشن کرانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں بلکہ شاید پورے ملک میں خیبر پختونخوا حکومت اور صحت کارڈ کے حامل افراد انشورنس کمپنی کے سب سے بڑے کلائینٹ ہیں علاج معالجہ آپریشن اور مریضوں کا کسی بھی وقت ہسپتال آنا کسی طے شدہ وقت میں ممکن نہیں اس لئے متعلقہ انشورنس کمپنی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے صحت انصاف کارڈ کے صارفین کو رابطے کی سہولت فراہم کرے اور مطلوبہ خدمات کی انجام دہی یقینی بنائے۔شانگلہ جیسے دور دراز علاقے کی طرح دیگر علاقوں میں بھی مریضوں کی اس قسم کی مشکلات اگرچہ سامنے نہیں آئیں لیکن اس نظیر کے مطابق اس کا امکان ہے اس معاملے کا صوبائی حکومت وزیر صحت اور محکمہ صحت کو نوٹس لینا چاہیئے اور کمپنی کو ضروری انتظامات کی ہدایت کرلینی چاہیئے صورتحال کے تناظر میں اور صحت انصاف کارڈ کے جملہ مریضوں کی مشکلات کے ازالے کیلئے تعطیلات کے دوران بھی کمپنی کے نمائندوں کی موجودگی وخدمات کو یقینی بنایا جائے۔

بھارتی عدلیہ کا قابل تقلیدقدم

بھارت کے صدرنے عدالتوں کے فیصلوں کو علاقائی زبانوں میں ترجمہ کرانے، قانونی خواندگی میں اضافہ کرنے اور قانونی ضابطوں کو سہل بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ نہ صرف لوگوں کو انصاف دلانا اہم ہے بلکہ یہ بھی کہ جس زبان کو جانتے اور سمجھتے ہیں اسی زبان میں انہیں مقدمے کی معلومات فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے مختلف علاقائی زبانوں میں فیصلے کی نقل جاری کرنے کے حکم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شاید ایک نظام ڈویلپ کیا جاسکتا ہے جس کے تحت فیصلوں کی مصدقہ نقول مقامی یا علاقائی زبان میں ہائی کورٹوں کے ذریعہ دستیاب کرائی جائیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی صدر کے مشورے اور عدالتوں کی جانب سے اس پر عملدرآمد میں پیشرفت کونظیر بناتے ہوئے پاکستان میں بھی اس پر عملدرآمد پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔عدالتی فیصلوں کو سمجھنا اور ان کی تشریح تو بہت دور کی بات ہے عدالتی فیصلے کو پڑھنا بھی بہت مشکل کام ہے۔عدالتی زبان اور اصلاحات کو سمجھنا بڑے بڑے انگریزی دانوں کے بس کی بات نہیں کجا کہ عام آدمی اسے سمجھ سکے اس مشکل کے حل اور سائلین کو ان کی زبان میں عدالتی فیصلے کی کاپی ملنا انصاف کے عمل اور سائیلین کے درمیان ایک مضبوط رابطہ اور اعتماد کا باعث ہوگا۔

متعلقہ خبریں