Daily Mashriq

ملکی حالات اورعمران خان کا دورہ امریکہ

ملکی حالات اورعمران خان کا دورہ امریکہ

ہرگذرتے دن کے ساتھ مملکت خداداد پاکستان کے حالات میں ایسا اتارچڑھاو آرہا ہے کہ کوئی کتنا ہی صاحب بصیرت کیوں نہ ہو وہ کوئی ٹھوس اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے اوراس گتھی کوالجھانے والوں نے اس کی اگلی کیا شکل بنا رکھی ہے؟ تاجروں کی ایک منظم ہڑتال کے بعد جج ارشد ملک کی ویڈیولیکج کے معاملے پرآج سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے اورکل ہالینڈ کے شہر ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے جج عبدالقوی احمد یوسف بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکیس کا فیصلہ سنائیں گے جبکہ ہفتے کواس خطے اورپاکستان کے لئے سب سے اہم دن ہوگا جب عمران خان امریکی صدرڈانلڈ ٹرمپ کی دعوت پرامریکہ پہنچیں گے اورتین دن قیام کے دوران وہ پیر کے روزواشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات کرینگے۔

پاکستان میں پائے جانے والے سیاسی ہیجان میں اگرمریم نوازاوران کے ہمنوا میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج ارشد ملک کے بارے میں اپنی پیش کردہ ویڈیوز کوکامیابی سے ثابت کرتے ہیں تواس کا سارا فائدہ انہیں ہوگا ورنہ اگر وہ سپریم کورٹ اوراس کے بعد فارنزک کے مرحلے پرضروری شواہد لانے میں ناکام ہوتے ہیں توپھران کے لئے یہ معاملہ فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے اورماہرین قانون کے مطابق پھر ان کو کچھ نئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی نظریں بھی ہم پرہی ہونگیں۔ عمران خان کا دورہ امریکہ جس کی دعوت انہیں صدرڈانلڈ ٹرمپ دے چکے ہیں کو اس طرح سے منظم کرنے اورامریکی صدر کواس پر آمادہ کرنے میں ان کے داماد جیریڈ کوشنر کا کردار سب سے اہم ہے جنہیں ان کے ایک پاکستانی دوست نے راضی کیا۔ یقینا اس دورے کے معاملے پرامریکی محکمہ خارجہ کے اظہارلاعلمی سے متعلق بیان کے بعد خود وائٹ ہاوس کی جانب سے اس کی تصدیق نے اس کی اہمیت بڑھادی ہے پاکستان کا مشرقی دشمن بھارت اس دورے کے معاملے پرسخت پریشان لگ رہا ہے اوراس کی پوری کوشش ہے کہ ایک ایسے موڑ پرجب پاکستان میں اندروانی خلفشار عروج پر ہے اس کے معاشی حالات انتہائی خرابی کی سطح کو چھوچکے ہیںایسے میں اگر وزیراعظم پاکستان کا متوقع امریکی دورہ کسی طرح ناکام ہوجائے تو مزہ ہی آجائے لیکن کیا کیا جائے کہ سب کچھ کسی کی خواہشوں کی بنیاد پرنہیں ہوتا۔ پاکستان کی افغانستان میں بڑھتی اہمیت اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ افغانستان سے ستمبرسے پہلے نکلنے کی اپنی خواہش پر پاکستان کی مدد سے عمل چاہتا ہے افغانستان میں پاکستان کی مدد سے طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کے بعد اب امریکہ پاکستان، سعودی ممالک، چین اورروس وغیرہ سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے اپنے زیراثرافغان سیاسی اورعسکری گروپوں کو ایک جگہ بٹھانے میں اس کی مدد کریں۔ امریکہ اس خطے میںپاکستان کی مدد سے اپنے اتحادی افغانستان اورخصوصا ہندوستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا بھی خواہاں ہے، ماضی کے دوروں سے مختلف اس دورے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی بڑا گراونڈ ورک ہوتا نظر نہیں آیا۔ ایسے میں اس دورے سے سیاسی بیانات ہی کی زیادہ توقع کی جارہی ہے امریکہ اورپاکستان میں مقیم دونوں ملکوں کے تعلقات کے ماہر یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان صدرٹرمپ سے اپنی اندرونی سیاسی مشکلات، بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور امریکی مارکیٹ تک رسائی کے لئے مدد مانگ سکتا ہے جبکہ امریکہ اگرایسے میں ڈاکٹرشکیل آفریدی کی بات کرتا ہے تو عمران خان ڈاکٹرعافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھاسکتا ہے تاہم یہ سب لوگ یہ بات بھی تواتر سے کرتے ہیںکہ دونوں رہنمائوں کے غیرمتوقع طرز زندگی کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ دونوں انتہائی غیرروایتی شخصیتوں کے مالک ہونے کی بدولت کسی بھی وقت ـ"کچھ بھی" کہہ اور کرسکتے ہیں۔ اس دورے سے توقعات وابستہ کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آ ج تک کبھی امریکہ نے کسی معاملے پرموقف اپناتے ہوئے اس میں سچ اوراخلاقیات کے عنصر کو نہیں بلکہ اپنے مفاد کو ہی مد نظر رکھا بھارت نے کشمیر اوراسرائیل نے فلسطین میں جتنا بھی ظلم کیوں نہ کیا ہو امریکہ ان کے ان اقدامات سے صرف نظر کرتا رہااورجب معاملہ پاکستان کا ہو تو امریکہ نے ایف اے ٹی ایف ہو یا آئی ایم ایف کی شرائط کو سخت رکھنے میں باضابطہ کردار ادا کرکے انہیں اپنے لئے استعمال کیا ۔ پاکستان کو مستقبل کی مزید مشکلات سے بچانے کے لئے عمران خان کو امریکہ کو یہ باور کرانا ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف اپنے عزائم کو ترک کردے ۔پاکستان میں بھی اگروزیراعظم عمران خان کو اس دورے کے لئے ایک خاص طرز عمل کے لئے تیار کیا جاتا ہے توبہتر ہوگا کہ انہیں بنیادی معلومات دے کر خود ہی معاملے سے نمٹنے کے لئے آزاد چھوڑ دیاجائے ، اس سارے دورے میں امتحان سارا کا سارا عمران خان کی ذہانت کا ہے کہ وہ کیسے صدرٹرمپ سے نمٹتے ہیں۔ واشنگٹن میں بھارتی لابی اورمیڈیا میں اس کا اثرورسوخ بھی عمران خان کو بہت ساری مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے اوروہ اگران مشکلات سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر مستقبل میں کوئی انہیں مشکل سے دوچارنہیں کرسکتا۔ امریکہ کے لئے ہندوستان اہم ہے جس کے ساتھ اس کی ایک سوبیالیس ارب ڈالرکے مقابلے میں ہمارے ساتھ صرف چھ ارب ڈالر کی تجارت کو دیکھ کریہ معلوم کرنا مشکل نہیں کہ اس کا جھکائو کس طرف ہوگا۔ایسے میں ساری توقعات عمران خان سے وابستہ ہیں کہ وہ اپنے ساتھ کیا لاتے ہیں؟ ۔

متعلقہ خبریں