Daily Mashriq

متحرک اپوزیشن اور چیئرمین سینٹ

متحرک اپوزیشن اور چیئرمین سینٹ

جس برق رفتار ی سے حزب اختلاف کی جماعتیں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کواپنے عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ متفقہ طور پر میر حاصل بزنجو کی تعیناتی کے لیے کوشاں ہیں، اس نے ان تمام ناقدین کو خاموش کروا دیا ہے جو اس سے پہلے یہ کہتے تھے کہ موجودہ اپوزیشن کوئی مؤثر کردارادا کرنے کی اہلیت کھو چکی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کو یوں یکجا کرنے کا اصل سہراحکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو جاتا ہے کہ انہوں نے جس طرح مخالفین کی تنابیں کھینچنے اورملک کی دو بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کو پابند سلاسل کرنے کی پالیسی اپنائی ہے، اس کے بعد اپوزیشن کے پاس کوئی بہت زیادہ آپشنز باقی ہی نہیں بچے تھے۔ گو کہ گزشتہ برس منتخب ہونے والے چیئرمین سینٹ کو ظاہری طور پر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل تھی مگر ایک بلوچ ، قدر غیر معروف اور اس سے پہلے کبھی منتخب نہ ہو سکنے والے رہنما کا اس قدر بڑے منصب پر فائز ہونا یہ صاف ظاہر کر رہا تھا کہ ان کے سپانسرز بہت بڑے اور طاقتور ہیں۔

اس عدم اعتماد کی تحریک سے نہ صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اختلاف اب حکومت کے خلاف صف آراء ہونے کی ٹھان چکی ہے بلکہ اب اس کا کچھ ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پرسے بھی اعتماد اُٹھ چکا ہے البتہ ابھی اسے اس عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب کرنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ گو کہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس عددی اکثریت موجود ہے مگرہمارے ہاں خفیہ رائے شماری کے بارے ہمیشہ سے ہی خدشات موجود رہے ہیں۔ یہی خفیہ رائے شماری ہارس ٹریڈنگ کے دروازے کھولتی ہے جس میں یا تو بے شمار پیسہ استعمال کیاجاتا ہے یا پھر آج کل کسی جرم یا اخلاق باختگی پر مبنی خفیہ ویڈیوکوئی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگراس تحریک کی کامیابی کے نتیجے میں میر حاصل بزنجو چیئرمین منتخب ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،تو بلا شبہ حزب اختلاف کی جماعتیں ایک ایسا سیاستدان چننے میں کامیاب ہو جائیں گی جو دہائیوں سے ترقی پسند سیاست اور بلوچ قوم پرستی کے حوالے سے شہرت کا حامل رہا ہے۔ بزنجو کا شمار ان قوم پرست رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے مطالبات کے لیے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے آواز اُٹھائی اور کبھی کسی علیحدگی پسند تحریک یا ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے۔ ان کی جماعت، بلوچ نیشنل پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کی اتحادی رہی اوراس پارٹی کے دونوں سرکردہ رہنما، میر حاصل بزنجو اور چیئرمین ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گمشدہ افراد کے معاملے کو حل کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں مگر ان کاوشوں سے کوئی خاص نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی بھی بلوچستان حکومت میں شمولیت، بہر حال اس ضمن میں ایک اُمید افزا بات تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی اے پی حکومت میں بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال میں بھی خاصی بہتری دیکھنے کو ملی تھی البتہ پارٹی رہنماؤں کو اس کی ساکھ مزید بہتر کرنے کے لیے ابھی اقدامات کرنا ہوں گے۔دوسری طرف حال ہی میں لاپتہ ہونے والے افراد میں سے چند کی واپسی کا سہرا بی این پی ۔مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کو بھی جاتا ہے جنہوں نے موجودہ حکومت کو اس ضمن میں مؤثر اقدامات کرنے کے لیے قائل کیا۔ لاپتہ افراد کی واپسی ایک طرف، مگرحال ہی میں ان کیسز میں اضافہ بھی کافی تشویش ناک ہے۔اختر مینگل اس معاملے میں بھی آواز اُٹھاتے نظر آتے ہیں۔ دعا ہے کہ اس بحران کا شکار بلوچ خاندان کے مصائب ختم ہوں اور انہیں مزید ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اپنے لاپتہ پیاروں کے بارے میں یہ تک معلوم نہ ہونا کہ آیا وہ زندہ ہیں یا نہیں، بے حد کرب ناک ہے۔

گزشتہ ہفتے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی باونویں برسی بھی منائی گئی۔اس موقع پر ان کی1965 کی انتخابی تحریک اور ان انتخابات میں ان کی شکست کا چرچہ رہا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب تک ہم نے اپنی تاریخ سے کیا سبق سیکھاہے البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئندہ خیبر پختونخوا میںنئے ضم شدہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ایسا کچھ نہ ہو جو ماضی کی یاد تازہ کرے اور جس سے یہاں کے لوگوں اور افواج کی قربانیوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ جہاں تک بات رہی سینٹ میں تحریک عدم اعتماد کی، تو میرے لیے میر حاصل بزنجو کا چیئرمین بننا ذاتی دلچسپی کا معاملہ ہے کہ مجھے ان کے ساتھ کراچی یونیورسٹی میں بتائی گئی ایک شام اب تک یاد ہے۔وہ شام جب انہیں ضیاء الحق کی حامی جمعیت طلباء کے ایک رکن نے گولی کا نشانہ بنایاتھا اور جس کے بعد ان کا خون میں لت پت بدن اسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ قصور ان کا صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے خطاب میں غاصب آمر حکومت پر تنقیدکی تھی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی پر زور دیا تھا۔ اس سب کے بعد اب انہیں پاکستان کے ایک بہت بڑے منتخب عہدے پر براجمان ہوتے دیکھنا بہت خوش گوار اور حوصلہ افزا تجربہ ہوگا۔

(شکریہ: ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں