Daily Mashriq

حادثے کے بعد نینوپارٹیکل انجکشن معذوری سے بچاسکتے ہیں

حادثے کے بعد نینوپارٹیکل انجکشن معذوری سے بچاسکتے ہیں

مشی گن: کسی حادثے میں حرام مغز (اسپائنل کورڈ) متاثر ہونے کے بعد بسا اوقات جسمانی مدافعتی (امیون) نظام ازخود معذوری کی وجہ بنتا ہے۔ لیکن وہ دن دور نہیں جب کسی حادثے کے فوراً بعد نینو ذرات سے بھرا ایک ٹیکہ امنیاتی نظام کو روک کر متاثرہ شخص کو معذوری سے بچاسکے گا۔

لیکن حادثے کے بعد امنیاتی نظام کے خلیات بسا اوقات اعصابی اور دماغی نظام میں چلے جاتے ہیں اور اپنی بھرپور سرگرمی دکھاتے ہیں۔ اس طرح اعصابی خلیات (نیورونز) کو نقصان پہنچتا ہے اور انسان اپاہج بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔ اکثر حالات میں شدید چوٹ سے اعصابی تار اور اس سے وابستہ نظام تباہ ہوجاتا ہے اور مریض مفلوج ہوجاتا ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرین نے ’’پولی لیکٹائڈ کوگلی کولائیڈ‘‘ نامی ایک پولیمر استعمال کیا ہے جو ازخود ختم ہوجاتا ہے یعنی مکمل طور پر بایو ڈیگریڈیبل ہے۔ اس سے بنے نینوپارٹیکلز(انتہائی چھوٹے ذرات) میں کوئی دوا شامل نہیں ہوتی۔ ان کا کام بس اتنا ہوتا ہے کہ وہ چوٹ والی جگہ پر جاکر امنیاتی خلیات کو باندھ کر انہیں دماغ تک جانے سے روکتے ہیں۔ اس طرح ازخود مفلوج ہونے کا عمل روکا جاسکتا ہے۔نینو پارٹیکل انجیکشن کی کامیاب آزمائش چوہوں پر کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ انسانوں پر کامیابی کے بعد ایک پین نما انجکشن میں ذرات کو شامل کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایکسیڈنٹ کے فوری بعد ٹیکہ لگانے کے بہترین نتائج سامنے آتے ہیں اور اسی لیے نیم طبی عملے کے پاس اس کا ہونا بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں