Daily Mashriq


رویت کا جھگڑا ختم نہیں ہوتا

رویت کا جھگڑا ختم نہیں ہوتا

خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں شوال کا چاند نظر آنے کی روشنی میں پشاور سمیت صوبے کے اکثر اضلاع میں جمعہ کے روز جزوی عید منائی گئی۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت کراچی میٹ کمپلیکس میں ہوا۔اجلاس میں مرکزی اور زونل رویت ہلال کمیٹی کے اراکین سمیت محکمہ موسمیات کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی حصے سے شوال المکرم کا چاند نظر آنے کی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں عید الفطر 16 جون بروز ہفتہ ہوگی۔ مسجد قاسم علی خان کے ذرائع کے مطابق دو درجن سے زائد افراد نے گواہی دی جس کی روشنی میں مسجد قاسم علی خان سے مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے عید کاعلان کیا۔خیبر پختونخوا میں رمضان المبارک کا آغاز مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق کرنے سے اس امر کی توقع تھی کہ عید الفطر کی خوشیاں ایک ساتھ منائی جاسکیں گی لیکن امکانات معدوم ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر صوبہ بھر سے رویت کی کافی تعداد میں شہادتیں موصل ہوئیں جس کی بناء پر مسجد قاسم علی خان کی غیر سرکاری کمیٹی نے عیدالفطر کا اعلان کیا جن کے اعلان پر صوبے میں جزوی طور پر عید منائی گئی گو کہ صوبے میں اس قسم کی عید کی روایت نئی نہیں لیکن اس مرتبہ ایک ساتھ روزے رکھنے کے باوجود آخری وقت پر نفاق اور انتشار کی کیفیت افسوسناک ہے۔ چونکہ یہ ایک نازک دینی معاملہ ہے اور ہر فریق کا اپنا موقف اور دلائل ہیں اور یہ ہمارا منصب بھی نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے کہ کسی ایک فریق کے موقف کی تائید کی جائے البتہ جو عقلی اور سائنسی بنیادوں پر جو اعتراضات سامنے آتے ہیں اس کی روشنی میں اس پر بحث کی ضرورت ضرور ہے کہ آیا اس قدر معلومات کی موجودگی کے باوجود آخر یہ تنازعہ ہوتا کیوں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلے کو مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا اور دوم یہ کہ کوئی فریق دوسرے فریق کی بات تک سننے کو تیار نہیں ۔ رویوں اور انا پرستی کی بنا پر یہ مسئلہ لا ینحل ہے جس کے باعث عیدالفطر جیسا مبارک دن بھی پھیکا اور کہیں کہیں تو بحث مباحثہ اور بد مزگی تک کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں ہر دور کی حکومت وقت کی اپنی مصلحت اور اس اہم مسئلے کے حل میں بے حسی کے باعث یہ معاملہ جوں کاتوں چلا آرہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایک مجموعی تضاد اور مخالفانہ رویہ ان عناصر کے لئے ممد و معاون ٹھہرتا ہے جو کسی بھی وجہ سے حکومت وقت سے نالاں ہوتے ہیں اور مخالفت کی وجہ تلاش کرنے کی سعی میں ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی خیبر پختونخوا میں اس قسم کے عناصر نے عام لوگوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر اختلافی عید ہونے پر زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ بہر حال یہ ایک خالصتاً دینی اور شرعی معاملہ ہے اسے اس کے تقاضوں کے مطابق دیکھنے اور اس کی روشنی ہی میں اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز میں اس سلسلے میں درد مندی کے ساتھ کسی سعی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس ضمن میں اگر امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کی اس رائے کو بنیاد بنا لیا جائے تو اتفاق کی نہ صرف بہتر صورت نکل سکتی ہے بلکہ پورے عالم اسلام میں ایک دن روزہ رکھنے اور اکٹھی عید کرنے کا خواب بھی پورا ہوسکتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے قول کے مطابق ’’ مطلع مختلف ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اگر مغربی ممالک والے چاند دیکھ لیں تو مشرقی ممالک والوں کو اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ ‘‘ (امام ابو حنیفہؒ۔ در مختار جلد اول صفحہ 149) ۔ دور جدید میں دنیا کے جس کونے میں رویت ہو جائے تو اس کی اطلاع لمحوں میں پوری دنیا کو دینا کوئی مشکل نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کا یہ قول اس لئے بھی اور زیادہ موزوں ہے کہ اختلاف کرنے والوں کا تعلق انہی کے مکتبہ فکر سے ہے۔ لہٰذا اختلاف کے خاتمے کے لئے اگر ان کی رائے کو دونوں ہی فریق مان کر اس پر اتفاق کرلیں تو وطن عزیز کے مسلمانوں کو اور خاص طور پر خیبر پختونخوا کے مسلمانوں کو اس ناخوشگوار صورتحال سے نجات مل سکتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے مناسب اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں سینٹ کی کمیٹی کی ہدایات کے باوجود کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کرکے اس کی سربراہی روٹیشن سے چاروں صوبوں کو تفویض کی جائے اور کمیٹی کے لئے مدت کا تقرر کیا جائے جیسی تجاویز قابل توجہ اور قابل عمل تھیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پر توجہ نہیں دی گئی اور معاملہ جوں کا توں پڑا رہا۔ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور وعدے کے مطابق کمیٹی کی تشکیل نو کو التواء میں ڈالنے کی پالیسی پر کار بند رہے اور ان کی حکومت مدت اقتدار مکمل کرکے چلی گئی مگر چاند دیکھنے کے معاملے میں تنازعہ برقرار رہا۔ یہ نہایت افسوناک امر ہے کہ قوم کو اس اہم مذہبی فریضے کے حوالے سے تقسیم کرنے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ موسمیات کے کردار پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے جس کے اعلانات کی وجہ سے قوم تقسیم ہو رہی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے یہ مشورہ بڑا صائب ہے کہ رمضان اور عید سعودی عرب کے ساتھ نتھی کیا جائے۔ بہر حال اس پر فیصلہ تو جید علمائے کرام سے مشاورت کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے ۔سینٹ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کی جاتی اور موجودہ کمیٹی کے ارکان پر آئندہ کم از کم پانچ سے سات سال تک دوبارہ کمیٹی میں شامل کئے جانے پر مکمل پابندی لگانے کی تجویز پر عمل درآمد کیا جاتا تو اس سال دو دو عیدوں کی نوبت نہ آتی کیونکہ جب تک موجودہ کمیٹی قائم ہے ملک میں رمضان اور عید کے ایک ہی روز انعقاد کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا اور اب تک اس کمیٹی کی وجہ سے جتنے شرعی روزے قضا ہوئے یا پھر عید کے دن روزے رکھوا کر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نفی کی گئی اس کے گناہ ثواب کی ذمہ داری بھی اسی کمیٹی کے ارکان پر عائد ہوگی اور روز قیامت جو پرسش ہوگی اس میں عام لوگوں کا کتنا قصور ہوگا اس پر بھی جید علمائے کرام ہی بہتر طور پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ بہر حال ہماری دعا ہے کہ عام لوگوں کی لغزش کو اللہ رب العزت معاف فرمائے اور ہمارے علمائے کرام کو متفقہ فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں