Daily Mashriq


سیاحت کو محفوظ بنانے کے مجوزہ اقدامات

سیاحت کو محفوظ بنانے کے مجوزہ اقدامات

پہاڑی راستوں، دریائوں، ندی نالوں اور جنگلات کے قدرتی ڈھانچے سے ناآشنا سیاح وقتا فوقتا مختلف حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں میں سیاحت کافی تیزی سی بڑھی ہے۔ موسم گرما میں یہاں کی سرسبز ٹھنڈی وادیاں اور سرما میں برف پوش چوٹیاں سیاحوں کو یہاں کھینچ لاتی ہیں۔محکم سیاحت کے اندازے کے مطابق سالانہ لاکھوں سیاح آتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے ساتھ ساتھ مسائل جیسے ٹریفک جام‘ ہوٹلوں کی کمی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حادثات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔شہر سے جانے والے سیاحوں کو خطرناک مقامات کے حوالے سے اکثر آگاہی نہیں ہوتی اور وہ خود سے بھی اس پر شاید اس لئے توجہ نہیں د ے پاتے کہ وہ سیاحتی مقامات کے حسین نظاروں میں کھو جاتے ہیں۔ سیاحوں کے عدم احتیاط کے باعث رونما ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جس کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو چیک پوسٹوں پر علاقے میں سیاحتی مقامات کے دورے کے موقع پر ممکنہ خطرات سے آگاہی کیلئے معلوماتی پمفلٹ دئیے جائیں، علاوہ ازیں حساس مقامات پر احتیاط کرنے کے انتباہ کیساتھ ممکنہ خطرات بورڈ پر تحریر کئے جائیں اور سیاحوں کو اس ضمن میں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے۔ جو لوگ سیاحت کیلئے کسی مقام کا انتخاب کریں ان کی اپنی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس علاقے کے بارے میں مناسب معلومات حاصل کریں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر مبہوت ہوکر خود حفاظتی کی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کو مطالعاتی وتفریحی دوروں پر لے جانے والے منتظمین بھی ان کی حفاظت اور معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری پر توجہ دیں۔ ٹور آپریٹرز کو بھی احتیاطی تدابیر سے سیاحوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو خصوصی ذمہ داریاں دی جائیں۔ سیاحوں کی گاڑیوں کی احتیاطی چیکنگ کا اگر انتظام کیا جاسکے تو یہ احسن ہوگا۔ آزاد کشمیر میں پیش آنے والا واقعہ نہایت افسوسناک تھا جس میں پل پر گنجائش سے زیادہ جمع ہونے والے سیاحوں کی لاعلمی ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ اس طرح کا کوئی واقعہ کہیں بھی رونما ہونا ناممکن نہیں۔ بنابریں احتیاط کے طور پر ٹورازم کارپوریشن خیبر پختونخوا کو اس امر پر خاص طور پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاحوں کے جان ومال وآبرو کی حفاظت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو صوبے کے پر فضا اور حسین مقامات کی سیاحت پر مائل کیا جاسکے۔ بائیکاٹ مری قسم کی مہم کی وجوہات کی صوبے کے کسی سیاحتی مقام پر ہونے کے امکانات تک کی روک تھام کیلئے مقامی کاروباری افراد کو پابند بنایا جائے کہ وہ کسی بھی صورت خیبر پختونخوا کی روایتی مہمان نوازی اور خوش اخلاقی کے کلچر کی پوری طرح پابندی کریں اور سیاحوں کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے خندہ پیشانی سے درگزر کریں۔محفوظ سیاحت کے لئے یہ اقدامات ضروری ہیں۔دریائوں اور ندی نالوں میں نہانے سے گریز کیا جائے۔پانی کے قریب پتھروں پر چڑھنے سے گریز کیا جائے۔نمی اور پھسلن والی جگہوں پر تصاویر بالخصوص سیلفی نہ لی جائیں۔بغیر تربیت دریا اور ندی نالوں میں گرنے والوں کو بچانے کے لیے چھلانگ لگانے سے اجتناب کی ضرورت ہے۔خطرناک پیدل راستوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔دریائوں اور ندی نالوں کی گہرائی کو کم ہرگز نہ سمجھیں، پتھر سے اگلا قدم انتہائی گہرا ہو سکتا ہے۔مقامی افراد اور تفریحی مقامات پر آویزاں تنبیہی ہدایت ناموں کو درگزر نہ کریں۔لینڈ سلائیڈ والی جگہوں پر گاڑی پہاڑ کے نزدیک کھڑی نہ کی جائیں۔بارش میں لینڈ سلائیڈ عجلت میں عبور کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

متعلقہ خبریں