Daily Mashriq

معاشرے کے بچوں پر اثرات

معاشرے کے بچوں پر اثرات

یہ بچے جو ہمارے آنگنوں میں بڑے ہو رہے ہیں ان کی باتیں سن کر میں کئی بار سوچ میں ڈوب جاتی ہوں زندگی ان کے لئے کیسی بے رنگ ہے ۔ ان کی زندگیوں میں آگہی کا مٹیا لا پن ہے کسی خواب کا کوئی روپیلا رنگ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ انہیں کہو کہ درختوں کی اوٹ سے کبھی بونے جھانک کر انہیں اچھی بری باتیں کرتے دیکھتے ہیں تو یہ ہم پر ہنس دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو اتنا بھی معلوم نہیں ایسی کوئی بات نہیںہوتی۔ بونے تو دراصل ہوتے ہی نہیں انہیں کہانی سنائو کہ درختوں کے پتے توڑو تو درخت واویلا کرتے ہیں تویہ کہتے ہیں کہ کیا آپ کو واقعی نہیں معلوم ۔ درختوں میںایسی کوئی حیات نہیں ہوتیں۔ یہ پھیکے سے بچے ہیں نہ انہیں پریوں کی آس ہے اور نہ کسی جادو کی امید ۔ ان کے لیے زندگی بس سیاہ اور سفید میں زندہ رہتی ہے ۔ مجھے ان بچوں پر ترس آتا ہے اور ان بچوں کو ہم جیسے لوگوں پر ہنسی آتی ہے۔ جب ہم انہیںسمجھاتے ہیں کہ اچھائی کرنے کی ضرورت اس لیے ہے کہ اچھائی پلٹ کر اپنی جانب آتی ہے تو وہ ہنس دیتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوا کرتا تو بھلا اچھے لوگوں کے ساتھ کبھی کوئی برائی ہوا کرتی ۔ اس دنیا کا تو یہ دستور ہے کہ اچھے لوگوں کے ساتھ برا ہی ہوتا ہے ۔ یہ بچے نہیں ہیں کیونکہ ان کی معصومیت کو تو آگہی کا دلدل کھا گیا ہے ۔ ہمیں اتنا علم نہیں ہوا کرتا تھا ذہانت کی دلیل تھی کہ بچہ علم کی جستجو میںرہتا تھا آگہی وادراک کی تلاش میں رہتا تھا۔ وہ جن چیزوں کو دیکھتا تھا ان کی جڑ کا سراغ لگانے کی کوششیں کرتا تھا اس کواس جستجو کے نتیجے میں کتنی ہی منزلوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ دھیر ے دھیرے زندگی کے راز اس پر کھلے اور وہ دانائی کی منازل طے کرتا جاتابچہ بڑا ہوجاتا ۔ اور اب عجب گورکھ دھندہ ہے۔ انٹرنیٹ اور گوگل سے ہر ایک علم تک رسائی رکھنے والے ان بچوں کونہ حیرت ہوتی ہے نہ بے یقینی انہیں توامید کی بھی عادت نہیں۔ امید کی عادت کیسے ہو امید کے لئے تو کبھی کبھار غیریقینی کیفیت ہونا ضروری ہوتاہے اوریہ ہر ایک شے کو پرکھنے کی کسوٹیاں لیے بیٹھے ہیں گویا آڑھت کے کسی بازار میں ترازو لگائے بیٹھے ہوں۔ جوسودا طلب کرے گا اسے پورے تول کا ملے گا انہیں نہ جھونگے کا علم ہے اورنہ رہی شوق ، یہ بس ایسے ہی ہیں میںانہیں دیکھ کر دکھی رہتی ہوں یہ کیسے بیچارے ہیںان کی بیچارگی ہماری ہی ویعت کر دہ ہے ۔ کبھی سوچتی ہوں کہ بھلا ہم نے اپنے ہی بچوں کے ساتھ یہ زیادتی کیوں کی ان کے ننھے ہاتھوں میں آگہی کے اتنے بڑے ہتھوڑے کیوں دے دئیے کہ یہ زندگی کی ایک ایک پرت کوپرکھتے رہیں۔ کھودتے اور کریدتے رہیں نہ خوابوں کے رنگ ہیں نہ حیرت کے دھندلکے ہاں خواہش کے دندناتے گھوڑے ہیں جو کبھی کبھی ان کی معصومیت کو بھی کچل کر رکھ دیتے ہیںکتنی ہی بار پلٹ پلٹ کر میرے جیسے ان کے بڑے ان بچوں کو اس امید کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ یہ کوئی ہماری جیسی بات کرینگے وہ باتیں جو ہم کیاکرتے تھے جب ہم درختوں کے دوست بن جاتے تھے پھر ہمارے گھروں کے آنگنوں کے وہ اونچے اونچے درخت سرجھکا کر جھوم جھوم کر ہم سے باتیں کرتے ان کی شاخوں پر بیٹھے پرندے اس گفتگو میں شامل ہوجاتے جب ہم زمین میں اس امید میں گھڑے کھودا کرتے کہ ان سے ابھی کوئی بونا برآمد ہوگا اور ہماری جیبوں میں ڈھیر ساری مصری بھر دے گا۔ ان بونوں سے ملنے کے لئے ہم کتنے بیتاب ہوا کرتے تھے۔ ہمارے خوابوں کے ساتھی وہ درخت جن کے ہم نام رکھا کرتے تھے جن کی شاخوں کے جھومنے سے ہمارے دل جھونے لگتے اور وہ بادل جن کی شکلیں تلاش کرتے کرتے پر ستان کی خبر ملتی تھی ۔ سوچتی ہوں اس وقت ہم کتنی چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر خوش ہوجایا کرتے تھے۔ جب ایک روپے میں سولہ ٹافیاں خرید کر ہم خود کو امیر سمجھ لیتے ۔اور چاکلیٹ کا مطلب محض جوبلی ہوا کرتا تھا جب شام کو پانچ بجے کا کارٹون ہفت اقلیم تھا اور رات کو سات بجے دکھائے جانے والے انگریزی سیریل ایک اور ہی جہاں کا واحد دریچہ ہم حیرت سے ان اونچی عمارتوں کودیکھتے اورمجھے یاد ہے کہ بچپن میں پہلی دفعہ امریکہ جانے کے بعد ہم نے پورا سال اس ڈیڑھ مہینے کی یاد دہرانے میں گزارا تھا جو ہم امریکہ گزار آئے تھے۔ تب واقعی وہ حیرت کدہ تھا اور اب ان بچوں نے ٹی وی پر ساری دنیا ہی گھوم رکھا ہے انہیں کہیں بھی لے جائو کچھ دکھالائو انہیں اچنبھا ہی نہیںہوتا انہوںنے سب کچھ پہلے دیکھ رکھا ہے۔ کیسی بے رنگ زندگی ہے ان کی ۔ میں انہیں دیکھتی ہوں تو دل دکھتا ہے ان کی زندگی ہم سے بہت مختلف ہے ان کی انگلیوں کی پورو ں پر احساس نہیں دھڑکتا ۔ انہیں ہماری طرح چھو کر دیکھنے کی عادت نہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم اپنے بچوں کو بھی وہ بچپن نہیںدے سکتے جو ہم نے گزارا ہے ۔شاید انہیں ادراک بھی نہیں۔ ان کی معصومیت ہم ان سے چھین چکے ہیں اور اسے واپس لوٹانے کا کوئی راستہ نہیں ۔ یہ نئے دور کے ماڈرن بچے ہیں جوسارا دن کمپیوٹر سے باتیں کرتے گزارتے ہیں۔ جو فون پر مسلسل گیم کھیلتے ہیں ۔ انہیں معلوم ہے پٹھو گرم کیسے کھیلا جاتا ہے ۔یہ بھاگتے نہیں ہیں ویڈیو گیم میں انکی انگلیوں کے اشارے پر کوئی تصویر بھاگتی ہے ۔ میں ان کے بے رنگ بچپن کو دیکھ کر اکثر اداس ہوتی ہوں لیکن انہیں اس بچپن کے بے رنگ ہونے کا کوئی قلق نہیں یہ خوش ہیں اور کئی بار اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے اتراکر کہتے ہیں آپ کا بچپن تو بہت عجیب تھا ۔ نہ ٹی وی تھا نہ کمپیوٹر ، نہ موبائل فون ، آخرلوگ وقت کیسے گزارتے تھے اور ہم چپ کر جاتے ہیں ہمیں تو وقت کا پتاہی نہ چلتا تھا ہمیںان کی زندگی عجب لگتی ہے اورانہیں ہماری شاید یہ وقت کا تبدیلی کی حیرت ہے جو ہمیشہ دوطرفہ ہوا کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں