Daily Mashriq


امت‘ قوم اور قبیلے

امت‘ قوم اور قبیلے

بر صغیر پاک و ہند میں جہاں کہیں کوئی پختون ملے تو اس سے اس کی قومیت کے بارے میں پوچھو‘ وہ جھٹ سے کہے گا‘ میری قومیت افغانی ہے۔ خیبر پختونخوا میں قیام پاکستان سے قبل اور بعد پٹوار کے کھاتوں میں سارے پختونوں کی قومیت آج افغان لکھی اور لکھوائی جاتی ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پختون جہاں کہیںبھی رہائش پذیر ہے وہ پختون قوم کاحصہ ہے۔ اگرچہ لسانیات‘ تاریخ اور اقوام و قبائل کی ساخت و تشکیل اور کیمسٹری وغیرہ پر نظر رکھنے والے اہل دانش کے ہاں قوم کی تعریف کے حوالے سے موشگافیاں موجود ہیں لیکن اتنی بات شاید متفق علیہ ہے کہ قوم اور قومیت کے تعین کے لئے نسل اور زبان دو بنیادی عناصر ہیں۔ ہاں اس کے علاوہ بھی کئی ایک چیزیں ہر قوم کی قومیت کو مزید پختہ اور مستحکم کرتی ہیں۔

قرآن کریم میں قوم اور امت کا لفظ بار بار استعمال ہواہے اس حوالے سے جو بنیادی نکتہ بیان ہواہے وہ یہ ہے کہ دنیا کے سارے انسان بنیادی طور پر آدمؑ اور حوا کی اولاد ہونے کے سبب ایک ہی قوم اور ملت ہیں۔ لیکن پھر شیطان نے سر کشی اور نا فرمانی کرکے اپنا پہلا ساتھی قابیل کو ورغلا کر دنیا میں دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی۔ اسی دور سے لے کرآج تک ہابیل و قابیل کی تقسیم حق و باطل اور خیر و شر کی کشمکش کی صورت میں انسانیت کو دو قوموں میں تقسیم کرتی چلی آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسانوں کی دو قوموں حزب اللہ اور حزب الشیطان کاذکر فرمایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عام طور پر مسلمان مورخین نے اپنی کتب میں تاریخ کا آغاز آدمؑ بلکہ بعض نے تو پیدائش زمین و آسمان سے کیاہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اسلام کا آغاز جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہوتاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے کے حالات شک و اشتباہ سے خالی نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے دنیامیں تاریخ نویسی کا کوئی خاص اہتمام بھی نہیں تھا۔ اور یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ دنیا کی تمام قوموںاور مذاہب میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے اور مسلمان ہی ایک ایسی قوم ہے جس کی تاریخ شروع سے لے کر آخر تک بتمام و کمال محفوظ اور موجود ہے۔

اسی تناظر میں پشتون قوم کے پاس جب اسلام کا پیغام پہنچا تو ان پر اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم رہا کہ وہ بحیثیت قوم سب کے سب اسلام کے دائرہ میںداخل ہوئے اور پھر حضرت سلمان فارسیؓ کی طرح پشتون قوم نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہی نہیں اور پشتون ولی اور اسلام کو ایک دوسرے کا جز و لاینفک اور لازم و ملزوم قرار دیا۔ خلفائے راشدین سے لے کر خلافت عثمانیہ تک اکثر و بیشتر مسلمان ایک امت کی حیثیت سے ایک ہی حکومت اور نظام کے تحت رہے لیکن خلافت کے انہدام کے بعد جب مغربی استعمار کو غلبہ حاصل ہوا تو اس نے مسلمانوں کو بھی قومیتوں میں تقسیم کیا۔ اہل مغرب کو اس کی سزا یوں ملی کہ خود دو عظیم جنگیں قومیت ہی کے نامپر لڑیں اور مغرب میں نیشن سٹیٹس کے نام پر ریاستیں اور حکومتیں وجودمیں آئیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مسلمانوں نے آزادی کے حصول کے لئے ہاتھ پیر مارے تو ان کو آزادی موجودہ مسلمان ممالک کی صورت میں ملی جو اکثر و بیشتر نسلوں ‘ قوموں اور زبان وغیرہ اور جغرافیائی حدود و حصار کی بنیاد پر تشکیل پذیر ہوئیں۔

اس صورتحال میں جب برطانیہ برصغیر پاک و ہند سے رخصت ہو رہا تھاتو یہاں کے مسلمان دنیا کی بڑی اکثریت اور اس لحاظ سے منفرد قوم تھی کہ انہوں نے نظریے کی بنیاد پر بیک وقت انگریز اور ہندو قوم سے آزادی کامطالبہ کیا۔ مطالبہ حقائق ‘ انصاف اور جدید جمہوری اصولوں کے مطابق تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میںبرکت ڈالی اور یوںعالم اسلام کا سب سے بڑا ملک وجود میںآیا جس کی بنیاد نظریے پر رکھی گئی تھی اور جس میں بیسیوں قومیتیں اسلام ہی کے نام پر اکٹھی ہوگئی تھیں اور انشاء اللہ قیامت تک مل کر رہیں گی۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ استعمار سے آزادی کے بعد جو ملک وجود میں آئے انکی حدود متعین ہوئی تھیں یا جہاں کہیں کوئی ابہام تھا اس کو بعد میں مذاکرات کے ذریعے طے کیاگیا ۔ جیسے چین نے بہت دوستانہ انداز میں پاکستان کے ساتھ اپنی حدود کو ہمیشہ کے لئے صاف کرلیا۔ لیکن بعض پڑوسی بھارت جیسے بھی ہیں جس نے روز اول ہی سے طے کیا تھا کہ چونکہ قیام پاکستان‘ بھارت ماتا کی تقسیم سے ممکن ہواہے لہٰذا پاکستان نے بہت بڑا گناہ کیا ہے اور کبھی بھی قابل معافی نہیںہے ۔ اس لئے اس نے ہمیشہ پاکستانی بائونڈریز پر چھیڑ چھاڑ کو معمول بنائے رکھا ہے۔ کشمیر کی سیز فائر لائن کو مستقل حد بندی کی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور اس کے لئے لاکھوں کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کرہی دم لیا اور اب بھی وہاں پر اپنے اثر و رسوخ اور دھونس دھمکی سے دیندار اور پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں کو آزمائشوں سے دو چار کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں