Daily Mashriq


جذباتیت اور عدم برداشت

جذباتیت اور عدم برداشت

ایک انگریز لکھاری کہتے ہیں کہ Pathans are at peace when they are at warکہ پٹھان اُس وقت امن میں ہوتے ہیں جس وقت وہ حالت جنگ میں ہوتے ہیں۔ اگر ہم انگریز لکھاری کے اس فقرے پر غور کریں تو اس میں کافی وزن ہے کیونکہ میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ میرے پختون بھائی فضول باتوں پر لڑتے جھگڑتے اور فضول باتوں میں پڑتے ہیں۔ ایک عزیز سے ملاقات کے لئے سنٹرل جیل مردان جانے کا اتفا ق ہوا۔ ملاقاتیوں کا انتہائی رش تھا ۔ ویسے بھی کے پی کی جیلوں میں دوسرے صوبوں کے جیلوں کی نسبت بُہت زیادہ رش ہوتا ہے۔مگر مردان سنٹرل جیل کا نظام انتہائی اچھا اور عملہ خوش اخلاق تھا۔یقین کریں عزت دار مائوں بہنوں اور بیٹیوں ، بچوں اور بزرگوں کو لمبی لمبی قطاروں میںملاقات کے لئے انتہائی سخت گرمی میں ذلیل اور رسوا دیکھ کر مُجھے انتہائی دکھ اور افسوس ہوا ۔اگر ہمارے پختون بھائی مختلف معا ملات اور مسائل میں تھوڑے سے صبر اور تدبر کا مظاہرہ کرتے تو کبھی وہ جیلوں میں نہ آتے اور انکیعزیز رشتہ دارجیلوں میں ذلیل نہ ہوتے۔ ہم صبر اور تدبر سے کام نہیں لیتے اور ہر مسئلے کو اپنی خواہشات اور احساسات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسکی وجہ سے ہم ذلیل اور رسوا ہوتے ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ہم سماجی اور معا شرتی مسائل پر نظر ڈالیں تو ان مسائل کی سب سے بڑی وجہ دین سے دوری، ما دہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان، اعلیٰ مشرقی معاشرتی اور سماجی اقدار اور ارفع ادب اور لٹریچرکی کمی، میڈیا، موبائل ، کیبل اور انٹر نیٹ کا منفی اثر اور روز آخرت پر یقین نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ ہر مسئلے کا حل موجود ہے اور مسائل پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل جر گوں کے ذریعے حل کئے جا سکتے ہیں مگر مُجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم خود غرضی ، مادہ پرستی اور لالچ سے کام لیتے ہیں جسکی وجہ سے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جاتے ہیں، نتیجتاً ہم عدالت، کچہریوں ، تھانوں اور جیلوں کے چکر لگا کر خوار ہوتے ہیں۔ہر مسئلے کا حل بات چیت ، افہام و تفہیم اور ٹیبل ٹاک کے ذریعے ممکن ہے مگر بد قسمتی سے ہم ہٹ دھرمی اور گرم مزاجی سے کام لیکر مسائل کو مزید بگا ڑ کر اپنے لئے اور اپنے خاندان اور لوا حقین کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ہم اپنے لئے جو پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے لئے پسند نہیں کرتے ہم انصاف سے کام نہیں لیتے اور ہر مسئلے کو اپنی سوچ اور مزاج سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ فی زمانہ ہر انسان لالچی اور خود غرض ہو گیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے خواہ جائز ہو یا نا جائز ہو دولت حا صل کی جائے۔ حالانکہ ہمارے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ہماری قسمت میں لکھا ہے وہ ہمیں ضرور ملے گا۔ اور جو ہماری قسمت میں نہیں لکھا اگر ہم کچھ بھی کرلیں اُسکو حا صل نہیں کر سکتے۔ ہمیں اچھے اور صالح طریقے سے ایک جائز چیز کو حا صل کرنے کے لئے کو شش اور سعی کرنی چاہئے باقی نتیجہ اللہ پر چھوڑنا چاہئے۔ وہی بہتر جا نتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا بہتر اور کیا بہتر نہیں ۔اگر عقل اور فہم سے بات ہوتی تو کم عقل اور کم علم والے لوگوں کو تو بھوک اور فلاس سے مرنا چاہئے، مگر ایسا نہیں ۔ ہم سب اللہ کے آگے بے بس ہیں۔وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اور ہمیں بھی اس کام پر اللہ تعالیٰ کا صبر اور شکر کرنا چاہئے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے حق اور جائز قرار دیا ہو۔پشتو میں کہتے ہیں کہ اگر ہم کسی کے ناجائز طریقے سے سو گھر اُجا ڑ دیں اپنا ایک نہیں بنا سکتے۔لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرنا چاہئے اور وہ کرنا چاہئے جس کو ہمارے دین اللہ اور ہمارے پیغمبر آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ نے جائز قراردیا ہے ۔ اسکے علاوہ ہمیں اپنے مسائل کو افہام و تفہیم اور خو ش اسلوبی سے حل کرنا چاہئے۔ انسان کیا چیز ہے کسی بھی انسان کے اندر ۲۵ گرام کی روح ہوتی ہے اور جب یہ روح انسانی جسم سے پر واز کرجائے تو پھر لواحقین اُسی انسان کی لاش کوجلد ازجلد دفنانے کی کو شش کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس دنیا کو جنت بنا سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو اسکو دوزخ بنا سکتے ہیں۔مگر ہمیں کو شش کرنی چاہئے کہ اس دنیا کو جنت نظیر بناکر اپنے لئے اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں تاکہ ہم دنیاوی اور اخروی زندگی میں کامیاب ہوں۔

اللہ اس زمین پر اپنی مخلوق کیساتھ کسی صورت ظلم بر داشت نہیں کرسکتا اور دنیا کی کئی تا ریخیں ہمارے سامنے ہیں کہ جن لوگوں اور با دشاہوں نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو تنگ کیا اور انکو نقصان پہنچایا وہ ہمیشہ گھاٹے اور خسارے میں رہے۔ زور اور طاقت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے مسائل مزید بڑھتے اور پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہم ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کو ششیںکرتے ہیں۔ مگر میں اکثر مثال دیتا ہوں اگر پو ری دنیا کے لوگوں کے مقابلے میں، میںطاقت ور ہو گیا تو اس سے کونسا فائدہ حا صل ہو گا۔ لہٰذاہمیں اللہ پربھروسہ کرنا چاہیئے، لالچ اور خود عرضی میں نہ پڑیں ۔ میں ملک کی مختلف سیاسی پا رٹیوں سے بھی استد عا کرتا ہوں کہ وہ اپنے محلے اور علاقے میں چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے کے لئے مصالحتی جر گے بناکر لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کو ششیں کریں۔ اس سلسلے میں بلدیاتی اداروں اور علاقے کے معززین پر مشتمل جرگے اہم کرادار ادا کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں