Daily Mashriq

صوبائی کابینہ کے احسن فیصلے

صوبائی کابینہ کے احسن فیصلے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کابینہ نے خیبر پختونخوا سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترامیم کرکے پنشن کی عمر60سے 63سال کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر سے پولی تھین بیگز کے خاتمے کیلئے 15دنوں کی ڈیڈلائن دی اور واضح کیا کہ جب حکومت فیصلہ کر چکی ہے تو اس پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا جرنلسٹ ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ ترمیمی بل کے تحت تجہیز وتکفین کے اخراجات میں اضافہ، دو ماہ سے بیروزگار صحافیوں کو دو ماہ تک گزارہ الاؤنس کی فراہمی، 60سال سے زائد عمر کے صحافیوں کو ماہانہ وظیفہ، صحافیوں کے بچوں اور بچیوںکو ایک بار شادی کیلئے مالی معاونت اور میڈیکل علاج کیساتھ صحافیوں کی نقد مالی معاونت کی جائے گی۔ صوبائی کابینہ نے منرل گورنمنٹ ایکٹ2019ء میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر میں تین سال اضافہ کرنے کے عمل کا محتاط طور پر جائزہ لینے اور اس پر اسمبلی میں بحث کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ اس فیصلے سے صوبائی حکومت تین سال تک پنشن پر جانے والوں کے بقایاجات اور واجبات کی ادائیگی کے مالی بوجھ سے ضرور آزاد ہوگی اس بناء پر اس فیصلے کا فوری مقصد مالی بوجھ کم کرنا ہی نظر آتا ہے۔ اوسط عمر میں اضافے کے بعد پنشن کی عمر میں اضافہ جواز ضرور رکھتا ہے لیکن اس کے منفی پہلو بھی کم نہیں، ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ملازمین ترقی کے آخری زینے پر ہوتے ہیں اور ان کے انکریمنٹ اور تنخواہ بھی زیادہ ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں تین سال مزید گزارنے پر ان کی اور زیادہ تعداد ترقی اور زیادہ مراعات کیساتھ ریٹائر ہوگی۔ ہمیں سرکاری ملازمین کی مراعات اور ترقی پر ہرگز اعتراض نہیں بلکہ ان کو مراعات کی فراہمی کے حق میں ہیں صرف حکومت جس نقطۂ نظر کے تحت پنشن کی عمر میں اضافہ کر رہی ہے اس کا جائزہ مطلوب ہے جس کے تحت حکومت کو تین سال بعد کہیں زیادہ مالی بوجھ کا سامنا ہوگا۔ اس فیصلے سے سب سے زیادہ بیوروکریسی کے مستفید ہونے کا امکان ہے۔ جہاں تک ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کا تعلق ہے اس حکومتی فیصلے کی یکسر مخالفت نہ بھی کی جائے تو بھی یہ مالیاتی لحاظ سے ہی نہیں کئی اور لحاظ سے بھی مشکلات کا باعث نظر آتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ فیصلہ معاونین، چوکیدار اور دیگر سخت قسم کی ڈیوٹیوں کے حامل ملازمین کیلئے خاص طور پر پریشانی کا باعث ہوگا۔ اس درجے کے سرکاری ملازمین خدا خدا کر کے ساٹھ سال پوری کرکے ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں، قبل ازوقت اور رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے والوں کی تعداد بھی کافی ہوتی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے سالانہ پانچ چھ ہزار کے لگ بھگ سرکاری ملازمین کے پنشن کی عمر پوری نہ ہونے کے باعث سالانہ پانچ چھ ہزار کے لگ بھگ آسامیاں خالی نہ ہوں گی جس کے باعث اتنی ہی تعداد میں نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع میں کمی ہوگی۔ تین سال میں یہ تعداد کافی زیادہ ہو جائے گی، بیروزگاری کی شرح بڑھے گی جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں مایوسی فطری امر ہوگا۔ حکومت جو بوجھ اب اٹھانے سے کترا رہی ہے تین سال بعد یہ بوجھ مزید بھاری بن جائے گا، اس لئے اس پر اعداد وشمار کی روشنی میں مفصل غور کر کے فیصلہ کرنا بہتر ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے پلاسٹک بیگز کے خاتمے کی ایک اور ڈیڈلائن دیدی جس کی گنجائش اس لئے نہ تھی کہ صوبائی حکومت قبل ازیں تین مرتبہ فیکٹری مالکان اور دکانداروں کو اس حوالے سے موقع دے چکی ہے اور اس میں بار بار توسیع بھی ہوتی رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی آخری ڈیڈلائن عیدالفطر کے اختتام پر گزر چکی تھی جس کے بعد کارروائی ہونا تھی، بہرحال وزیراعلیٰ کی مصلحت اور ایک موقع دینے کا اقدام اس لئے احسن ہے کہ ایک اور موقع ملنے پر شاید متعلقہ کاروباری عناصر رضاکارانہ طور پر حکومتی منشاء کو قبول کر کے خود کو نقصان سے بچائیں۔ ہمارے تئیں پندرہ دن گزرنے کے بعد سخت کارروائی کے بعد ہی پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کی روک تھام اور اس کے استعمال میں کمی آنا شروع ہو جائے گی جب تک اس ضمن میں سختی اور ممانعت پر عملدرآمد کیلئے سنجیدہ اقدامات سامنے نہیںآئیں گے تب تک پلاسٹک تھیلوں کے استعمال کا متروک ہونا مشکل ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں صحافیوں کے حوالے سے فیصلہ احسن ضرور ہے جس کیلئے شفافیت اور اس سہولت کے غلط طور پر استعمال کو معدوم بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے سخت شرائط طے کئے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری رقم حقیقی ضرورتمندوں ہی کی فلاح پر خرچ ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت صرف عامل صحافیوں ہی کو نوازنے پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ دیگر اخباری کارکنوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کیلئے بھی سہولیات اور مراعات پر غور کریگی۔ صرف یہی کافی نہیں کہ میڈیا سے وابستہ افراد ہی کے مسائل کے حل کو فوقیت دی جائے بلکہ صنعتی اور نجی ملازمین کا بھی پورا پورا خیال رکھا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں