Daily Mashriq

حکومت اور حزب اختلاف کا مفاہمانہ طرزعمل

حکومت اور حزب اختلاف کا مفاہمانہ طرزعمل

حکومت خیبر پختونخوا اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور دونوں کا افہام وتفہیم کیساتھ چلنے پر اتفاق صوبے کے پارلیمانی روایات کی پاسداری ہے۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے گلے شکوے دور کرنے کی یقین دہانی اور اپوزیشن کا سٹینڈنگ کمیٹیوں سے دئیے گئے استعفے واپس مثبت طرزعمل اور سنجیدہ سیاست کا مظاہرہ ہے۔ مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ کے دوران صوبے کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کسی قسم کا اسمبلی میں شورشرابہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ کی طرف سے حزب اختلاف کے ارکان کے حلقوں میں بھی ترقیاتی کام کروانے کی یقین دہانی حزب اختلاف کو ان کا حق دینے اور برابر کا سلوک ہے جس کے بعد حزب اختلاف کے تحفظات میں کمی آنا فطری امر ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تعلقات کی نوعیت دوسرے صوبوں کی اسمبلیوں سے پہلے ہی سے بہتر متوازن اور سنجیدہ تھی اور یہی اسی صوبے اور صوبائی اسمبلی کی روایات رہی ہیں جس کی پاسداری کی گئی، حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بلین ٹری سونامی کے حوالے سے جو اختلافات پیدا ہوگئے تھے اس میں حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کے موقف کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی لیکن بہرحال اختلاف کا ہونا کوئی بڑی بات نہیں اصل بات مفاہمت اور ہم آہنگی کی فضا میں اختلافات طے کرنا ہے جس میں ہر دوفریقوں کے درمیان مطابقت اور ہم آہنگی کی سعی کی گئی جس کے نتیجے میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اسمبلی میں بے جا شور وہنگامہ نہ کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہنگامہ آرائی خواہ حکومتی بنچوں سے ہو یا حزب اختلاف کی جانب سے ہو پارلیمانی طور پر ہی ناپسندیدہ نہیں بلکہ اس سے ایوان کا وقت ضائع ہوتا ہے، قانون سازی اور بلوں کی منظوری میں رکاوٹ آتی ہے اور جمہوری تعطل آتا ہے جس سے عوام کی نمائندگی کا حق بھی متاثر ہوتا ہے۔ حکومت کی طرف سے حزب اختلاف کو منانے اور اسے پوری طرح ایوان کی کارروائی میں مثبت طور پر شریک رکھنے کیساتھ ساتھ حزب اختلاف کے ارکان کے حلقوں کو بھی یکساں وسائل کی فراہمی عوامی مسائل کے ادراک اور حل کے ضمن میں مثبت طرزعمل کا مظاہرہ ہے جس کے نتیجے میں توقع کی جاسکتی ہے کہ عوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

آٹھویں کے بورڈ امتحان میں پاس فیل کا نظام

خیبر پختونخوا میں آٹھویں جماعت کا امتحان تعلیمی بورڈز کے تحت کرنے کی روشنی میں پہلی بار پاس اور فیل کا تناسب بھی وضع کرنے اور نئے قاعدے کے تحت جماعت ہشتم میں 45فیصد نمبر والے طلبہ پاس جبکہ مقررہ تناسب سے کم نمبرات لینے والے طلبہ فیل تصور کرنے کا اقدام اگرچہ معیار تعلیم کی بہتری کے ضمن میں کوئی خصوصی قدم نہیں لیکن اس سے بہرحال طلبہ میں ناکامی اور اسی جماعت میں اپنے ہم جماعتوں سے پیچھے رہ جانے کی فکر ضرور دامن گیر ہوگی۔ آٹھویں جماعت کیلئے پاسنگ مارکس33کی بجائے45فیصد مقرر کرنے کا اقدام احسن ہے۔ امتحان کیلئے 40فیصد متفرقہ سوالات، 35فیصد مختصر سوالات اور 25فیصد تفصیلی سوالات کے تناسب سے پرچے ترتیب دینے سے طلبہ کی صلاحیت جاننے کیلئے بہتر طریقۂ کار ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آٹھویں کا امتحان بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل بنانے کی ضرورت ہے جتنا میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امحتان سمجھا جاتا ہے اور اس کیلئے تیاری کی جاتی ہے۔ آٹھویں کے معیاری امتحان کے نظام سے طالب علموں کو اپنی استعداد کا بہتر علم ہوسکے گا اور اس کے مطابق وہ اور ان کے والدین اگلی امتحانوں کی تیاری کیلئے لائحہ عمل اختیار کر پائیں گے۔ اس امتحان میں جو طالب علم ناکامی کا شکار ہوں گے ان کو بھی بروقت اپنے مستقبل کے حوالے سے غور کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی اصلاح پر توجہ دے سکیں گے۔ اس سطح پر نمبرات اور گریڈز دینے کی بجائے پاس فیل کا پرانا طریقۂ کار سودمند ہوگا جس کی مخالفت نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی نجی سکولوں کو آٹھویں کے بورڈ کے امتحان کی مخالفت کا کوئی جواز ہے۔

بچوں کے ڈوبنے کا افسوسناک واقعہ

پشاور کے دلہ زاک روڈ یوسف آباد نہر میں نہاتے ہوئے تین بچوں کا ڈوب جانے کا واقعہ اندوہناک اور افسوسناک ہے جس سے سبق سیکھتے ہوئے والدین کو اپنے بچوں کو اس خطرناک عمل سے باز رکھنے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ریسکیو1122کے تیراکوں نے دو بچوں کو زندہ نکال کر بروقت کارروائی کا احسن عمل ضرور کیا لیکن ایک بچے کو نہ بچایا جا سکا۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ نہروں اور ندی نالوں میں نہانے پر پابند ی تو عائد کر سکتی ہے اور اس ضمن میں انتباہی نوٹس بھی جاری کر سکتی ہے لیکن اس ذمہ داری کو مکمل طور پر انتظامی کنٹرول میں نبھایا نہیں جا سکتا یہ والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے کمسن بچوں کو اس خطرناک عمل سے روکیں اور اگر وہ اس کی اجازت دینے کے حق میں ہے تو پھر ایسے بچوں کیساتھ ان کو نہانے کی اجازت دی جائے جو بڑے ہوں اور ضرورت پڑنے پر وہ بچوں کو بچانے کی ذمہ داری نبھا سکیں۔

متعلقہ خبریں