Daily Mashriq

خطاب نیم شب

خطاب نیم شب

ایسی کیا افتاد تھی کہ وزیراعظم پاکستان کو یکایک خطاب نیم شب کی ضرورت پڑ گئی، صرف اس جانکاری کیلئے کہ گزشتہ دس سالوں میں جو قرضہ لیا گیا ہے اس کا سراغ لگانا ہے کہ ان کی نظر میں چور ڈاکوؤں کی حکومت نے اس قرضہ کا کیا کیا، حالانکہ وہ گزشتہ دس سال سے کہہ رہے ہیں کہ یہ چور اور ڈاکو قومی دولت لوٹ کر منی لانڈرنگ میں ملک سے باہر لے گئے جب وہ ایسا کہہ رہے ہیں تو یقینا اس دعوے کا ان کے پاس ٹھوس ثبوت بھی ہوگا جس کو اب قوم جاننا چاہتی ہے، ایسے میں وزیراعظم صاحب کنٹینر والے لب ولہجہ میں فرما رہے ہیں کہ قرضے کی رقم کہاں گئی اس کی جانکاری کیلئے کہ وہ اپنے نیچے ایک جوائنٹ کمیشن بنائیں گے، اس کمیشن کے کام کی نگرانی بھی خود کریں گے، عمران خان کے دس ماہ کے روئیے سے یہ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک اسی گمان میں ہیں کہ وہ وزیراعظم کی کرسی جلیلہ پر جلوہ افروز نہیں ہو سکے ہیں بلکہ ہنوز کنٹینر پر ہی براجمان ہیں۔ وہی لہجہ اور اسی طرح لب بھی ہل پا رہے ہیں، جس عنقا فیصلہ کا آپ نے اعلان کیا وہ دن کی روشنی میں بھی کیا جا سکتا تھا، پوری قوم تین گھنٹے تک انتظار کے کانٹے آنکھوں سے چنتی رہی اور جب خطاب ہوا بھی تو وہ اس انداز سے ہوا جیسا کہ پہلے عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ موصوف کے پاس یا تو سلجھی ہوئی ٹیم کا قحط ہے یا پھر موصوف ہر بات کا جس طرح کریڈٹ لینے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں اس کی وجہ سے کوئی شے قابو میں نہیں رہی ہے۔ تقریر کی ایسی خراب ریکارڈنگ وہ بھی گیارہ کے لگ بھگ ماہرین میڈیا کی ٹیم کی موجودگی میں جن میں سے ہر ماہر کو اپنا اپنا اسٹاف بھی میسر ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ جس کوفت کا سامنا قوم کو تقریر سننے کے دوران کرنا پڑا اس کا علاج یہ کرنا تھا کہ پوری ٹیم کو ایک طرف نہیں برطرف کر دینا چاہئے تھا مگر مصیبت یہ ہے کہ اگر خان اعظم نے اپنی ٹیم کی نالائقیوں کا احتساب کرنا شروع کر دیا تو یا پھر وہ اکیلے ہی رہ جائیں گے یا پھر ان کو پی پی، پرویز مشرف کے حواریوں کو ہی حکمرانی کیلئے رکھنا پڑے گا، ویسے بھی اس وقت ان کی آدھی سے زیادہ ٹیم انہی پیر ومرشد کے مہربانوںکی بیساکھیوں کا سہارا بنی ہوئی ہے اب تو نواز شریف کو بھی عمرانی ٹیم میں کوٹہ مل گیا ہے۔ جہاں تک قرضوں کا سراغ لگانے کا معاملہ ہے تو اس کیلئے جے آئی ٹی کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وزارت خزانہ سے تمام معلومات چند دن میں ہی حاصل ہو سکتی ہیں جس دور کے قرضوں کی جانکاری وزیراعظم موصوف چاہتے ہیں اس دور کے کئی نگینے ان کے ہم نشین ہیں ان کا تعاون بھی حاصل ہے تو پھر جے آئی ٹی کے جھنجھٹ میں پڑنے کا کیا فائدہ۔ ویسے بھی ثاقب نثار کی جے آئی ٹی کی کارکردگی کی وجہ سے تمام جے آئی ٹیز شہرت اور نیک نامی کے خسارے میں چلی گئیں ہیں۔ اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ وزیراعظم اس قرضے کے سراغ کے دعوے دار بھی ہیں، اس پر سزا کا بھی فیصلہ کریں گے اور اس کی تفتیش وتحقیقات بھی خود کریں گے گویا مدعی بھی، سراغ رساں بھی اور منصف بھی خود ہوں گے۔ کیا انصاف والی بات کی ہے، تاہم ایک بات ہے کہ کچھ ہو یا نہ ہو پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے استعمال کی ماہر ضرور قرار پاتی ہے۔ گزشتہ روز شنگھائی کانفرنس کی ایک تصویر ایک یوتھئے نے جاری کی جس میں شنگھائی تعاون کانفرنس کے مدعوین سربراہان مملکت کھڑے نظر آرہے ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم اپنی نشست پر براجمان ہیں، اس یوتھئے نے تصویر کیساتھ یہ تحریر کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی آمد پر تمام سربراہ حکومت احتراماً کھڑے ہو گئے صرف عمران خان اپنی نشست پر تشریف فرما ہیں کہ انہوں نے اس عزم کا اعلان پہلے ہی کر رکھا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے حالانکہ اس میں اسرائیلی وزیراعظم کا وجود دور دور تک نظر نہیں آرہا تھا اور اس جیالے کو وزیراعظم کی پشت پر استادہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نظر نہیں آئے حالانکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو اس سفارتی اصول کا علم ہی نہیں کہ ایسی کانفرنسوں میں جب تک تمام معزز مہمان نہ آجائیں تو پہلے آنے والے بعد کے مہمانوں کے احترام اور استقبال کیلئے اس وقت تک کرسی نشین نہیں ہوتے جب تک آخری مہمان نہ پہنچ جائے۔ جب عمران خان ہال میں داخل ہوئے اور ان کا نام پکارا گیا تو نریندر مودی پہلے سے حال میں موجود تھے اور وہ بھی دیگر مہمانوں کے ہمراہ کھڑے ہوئے تھے۔ بہرحال وزیراعظم جب بھی غیرملکی دورے پر گئے انہوں نے نئی روایات کو جنم دیا جس کی وجہ سے پاکستان کو ایسے ممالک میں بھی شہرت ملی جو پاکستان یا ان کیلئے گمنام ملک تھے جیسا کہ آپ نے فرانس اور جاپان کی سرحدوں کو جوڑ کر رکھ دیا اور دنیا کا ایک نیا نقشہ تشکیل دیدیا تھا یا جیسا انہوں نے روشنی کی رفتار سے تیز ریل چلانے کا اعلان کر دیا جبکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روشنی کی رفتار سے زیادہ کوئی بھی مادہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔ شنگھائی کانفرنس میں جن آداب کو نظرانداز کیا گیا اس کی وجہ سے عمران خان ایک مرتبہ پھر عالمی میڈیا میں مقبولیت میں بہت آگے نکل گئے۔ بی بی سی نے اپنی خبروں میں جلی سرخی لگائی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں عمران خان آداب سے نابلد یا حد سے زیادہ پر اعتماد۔ امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک سابقہ مشیر پیٹر لیوئے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے عمران خان کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے تبصرے میں کہا ہے کہ پاکستانی فیاضی اور عزت دینے والے لوگ ہیں مجھے اس روئیے کی بالکل سمجھ نہیںآئی۔ اسرائیلی اخبارات نے بھی شوشا چھوڑا ہے بہرحال ملک کے اندرونی حالات وسرگرمیوں کو دیکھ کر باہر کے واقعات پر نظر ڈالنے سے یہ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اس وقت کسی کنٹینر پر نہیں ہیں بلکہ وزیراعظم کے عہدہ جلیلہ کی کرسی پر منصۂ شہود ہیں کسی کرکٹ ٹیم کی قیادت نہیںکر رہے ہیں بلکہ وہ بائیس کروڑ عوام کے قائدعظیم ہیں۔

متعلقہ خبریں