Daily Mashriq

ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

میاں صاحب نے بڑی کمال بات کی ہے' فرماتے ہیں کوئی ولی' پیر یا قسمت کا حال بتانے والا نجومی نہیں مگر عمران خان جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ میاں صاحب نے یہ اندازہ اس بات سے لگایا ہے کہ عمران خان اور حلیمہ خان کیخلاف ٹھوس چارجز موجود ہیں' ان کا جلد کڑا احتساب ہوگا۔ میاں صاحب نے جیل میں ان سے ملاقاتیں کرنے والوں کو اور بھی بہت سی باتیں کی ہیں جن کا لب ولباب عمران خان کی حکومت کی نااہلی کے حوالے سے تفصیل سے خیالات کا اظہار تھا جس کی تفصیل اس حوالے سے چھپنے والی خبر کے اندر دیکھی جاسکتی ہے۔ تاہم میاں صاحب کے خیالات عالیہ نے ہمیں ایک قدیم کہانی یاد دلا دی ہے اور کہانی کچھ یوں ہے کہ کسی ملک کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا۔ اس نے دربار میں وزرائ' امراء اور مشیروں سے خواب کا تعبیر دریافت کیا تو کسی کو بھی تعبیر سمجھ میں نہیں آئی' البتہ ایک وزیر باتدبیر نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کی کہ ملک میں فلاں فلاں دو جوتشی یا پیشگو اور خوابوں کی تعبیر بتانے والے موجود ہیں۔ بادشاہ نے اجازت دی اور ہرکارے دوڑائے گئے' دونوں خواب میں اگلی صبح دربار میں موجود تھے' بادشاہ نے ایک خواب ان کو سنا کر اس کی تعبیر پوچھی تو ایک جو زیادہ ہی جوشیلا اور انعام حاصل کرنے کیلئے بیتاب تھا' اس نے فوراً بغیر کسی تمہید یا احتیاطی تدبیر یعنی جان کی امان طلب کئے بغیر یہ تعبیر سنا دی کہ آپ کی ساری اولاد اور آگے ان کی اولاد بھی ان کی زندگی ہی میں موت سے ہمکنار ہو جائے گی۔ بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے پیشگوئی کرنے والے سے سوال کیا' یہ بتاؤ تمہارا آخری وقت کب آئے گا؟ اس نے جواب دیا' بادشاہ سلامت ابھی میں نے کئی سال اور جینا ہے' بادشاہ نے جلاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا' اس کا سر تن سے جدا کر دو۔ وہ چیختا رہا' مگر جلاد نے اس کی فریاد سے متاثر ہوئے بغیر بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی۔ اب بادشاہ دوسرے نجومی کی طرف متوجہ ہوا اور خواب کی تعبیر پوچھی تو وہ اپنے ساتھی کے حشر سے بہت کچھ سیکھ چکا تھا۔ اس نے بادشاہ کے خواب کی صورت گری میں اپنے عقل وخرد اور تجربے کو بروئے کار لاکر مودبانہ گزارش کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے پہلے جان کی امان طلب کی۔ بادشاہ نے درخواست کی پذیرائی کی تو اس نے نہایت فدویانہ انداز میں تعبیر بیان کرنا شروع کی اور کہا حضور کا اقبال بلند ہو' آپ کا خواب نہایت مبارک ہے جس سے یہ اشارے نہایت واضح ہو کر سامنے آرہے ہیں کہ نہ صرف حضور طویل عمر پائیں گے بلکہ آپ کی قسمت کا ستارہ آخری عمر تک آپ کے اقتدار کو روشن کرتے ہوئے مزید بلندیوں کو چھوئے گا اور آپ کی اولاد آپ کے زیرسایہ خوش وخرم رہے گی اور نہایت تابعدار اور فرمانبرداری سے زندگی گزارے گی۔ آپ کے اقتدار کیلئے کہیں سے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ بادشاہ سلامت کو یہ جواب بہت پسند آیا حالانکہ اس نجومی سے پہلے اپنی جلد بازی اور بے وقوفی کی وجہ سے کیفرکردار تک پہنچنے والے نجومی نے بھی یہی بات کہی تھی تاہم احتیاط کو ملحوظ نہ رکھنے کی غلطی اسے لے ڈوبی تھی۔ بادشاہ نے کہا' جسے اپنے مستقبل کے بارے میں علم نہیں تھا وہ میرے خواب کی تعبیر کیا بتا سکتا تھا' سچ کہا ہے کسی سیانے نے کہ

نازک مزاج شاہاں، تاب سخن ندارد

میاں صاحب کی بات بالکل درست ہے کہ وہ نہ نجومی ہیں' نہ ولی یا پیر ہیں بلکہ وہ تو منظور وسان بھی نہیں ہیں جو ان دنوں اسی نوعیت کے خواب دیکھ رہے ہیں جس کا تذکرہ میاں نواز شریف نے کیا ہے۔ البتہ میاں صاحب چونکہ سیاستدان ہیں اور ظاہر ہے وہ جو تجزئیے کر رہے ہیں ان کا تعلق ان کی ''سیاسی بصیرت'' سے ہے کہ تجربہ کار اور زیرک سیاستدان ہمیشہ سیاسی حالات کا رخ دیکھ کر وقت سے پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ تاہم ہمیں میاں صاحب کی سیاسی بصیرت پر اوپر درج کہانی کے پہلے نجومی والی صورتحال کا انطباق دکھائی دے رہا ہے جس نے بادشاہ کے خواب کی تو بالکل صحیح تعبیر بتائی تھی مگر جواب کیلئے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط نہیں برتی تھی اور ساتھ ہی اپنے ستاروں کی چال سے بھی بے خبر تھا جن کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخئی افلاک میں ہے خوار وزبوں

بالکل اسی طرح میاں صاحب نے اپنی سیاسی بصیرت کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کے بارے میں تو پیشگوئی کرلی ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان کی سیاسی بصیرت کی بصارت ذرا کمزور ہو چکی ہے اور ان کی اس کمزور سیاسی بصارت نے انہیں دور تک تو رسائی دیدی ہے یعنی وہ اپنے سیاسی حریف عمران خان کے بارے میں تو جلد انجام کو پہنچنے کی پیشگوئی فرما رہے ہیں مگر خود اپنے بارے میں نزدیک کی سیاسی بصارت اور بصیرت کی کمزوری کی وجہ سے کوئی اندازہ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور نتیجہ آج سب کے سامنے ہے' یعنی وہ کوٹ لکھپت کے آہنی دروازوں کے پیچھے نظر آرہے ہیں حالانکہ جب ان کیخلاف تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنی تھی تو نہ صرف پوری پارٹی نے مٹھائیاں بانٹی تھیں بلکہ انہیں جے آئی ٹی میں کچھ اداروں کی شمولیت پر اعتراض کے مشورے دینے والوں کو بھی انہوں نے کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ ان کے مشوروں کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دیتے ہوئے ان مشوروں کو حقارت سے ٹھکرا دیا تھا اور جب ان کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا گیا تو انہوں نے بلند بانگ بلکہ فلک شگاف نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا ''مجھے کیوں نکالا؟''۔

بہلا رہے ہیں اپنی طبیعت خزاں نصیب

دامن پہ کھینچ کھینچ کے نقشہ بہار کا

متعلقہ خبریں