Daily Mashriq

الطاف حسین وقت عبرت سرائے دہر کا مکین

الطاف حسین وقت عبرت سرائے دہر کا مکین

سندھ کے شہری علاقوں میں دہشت اور خوف کی علامت اور بظاہر عوامی مقبولیت اور عقیدت کی کہشکشاؤں میں سفر کرنیوالے الطاف حسین تیزی سے زوال کی راہوں اور پستیوں کی جانب گامزن ہیں۔ قدرت کی دراز رسی کھنچنے میں دیر تو لگی مگر قانون فطرت کے عین مطابق زوال اور انجام کی گھڑی ٹلنے نہ پائی۔ الطاف حسین اپنی زندگی کی تاریک اور گمنام وادیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ یہ وہ وادیاں ہیں جہاں ان کی طاقت اور مقبولیت کا راز سمجھی جانے والی ایم کیو ایم انہیں چھوڑ چکی ہے۔ انہیں عقیدتوں اور محبتوں اور چاہتوں کا قطب مینار بنائے رکھنے والے اور ان کی دشنام واتہام کے جواب میں سر جھکائے ''جی بھائی جی بھائی'' کی گردان کرنے والے ان کے دست وبازو بھی الوداع کہہ چکے ہیں۔ ان کے اشارۂ ابرو کے منتظر اور انسانی جان کو چیونٹی سے حقیر سمجھ کر مسل ڈالنے والے ٹارگٹ کلر جیلوں میں سڑھ رہے ہیں یا چھپتے پھر رہے ہیں۔ جن دفاتر کو ان کی تصویریں احترام عطا کرتی اور مرجع خلائق بناتی تھیں وہ یا تو ویران ہو چکے ہیں یا ان کی تصویروں کے بوجھ اور وابستگی کے جرم سے آزاد ہو چکے ہیں۔ گسٹاپو طرز پر بندے کے پیچھے بندہ اور جاسوس کے اوپر جاسوس بٹھانے کی حکمت عملی پر قائم دہشت اور خوف کا پرت درپرت نظام اب ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ سندھ کے شہریوں سے بھتے، لوٹ مار اور ڈاکوں سے حاصل کردہ رقم نذرانے کے طور پر بھیجنے کے راستے مدت ہوئی بند ہو چکے۔ بیماریوں اور تنہائیوں نے عقیدتوں کے محور کو ڈسنا شروع کر رکھا ہے۔ ٹیلی فون کے آگے سر جھکائے ان کے اول فول سننے والے اب ان کا ٹیلی فون سننے کے روادار نہیں۔ کراچی اور حیدرآباد میں ہزاروں کا مجمع لگانے اور سجانے والے اب کنی کتراتے ہیں، یہ سب مکافات عمل ہے۔ انہوں نے تین عشروں تک انسانی جان ومال اور جذبات کا جس سفاکی کیساتھ استعمال کیا اور قدرت وہ سارے حساب چکا رہی ہے۔ الطاف حسین نے سیاست اور جرم کو اس حد تک باہم گوند کر رکھ دیا تھا کہ یہ دونوں کی حدود کا تعین اور دونوں میں تفریق کرنا مشکل ہو کر رہ گیا تھا۔ یہ تو پاکستان کے اداروں اور رینجرز کو داد دی جانی چاہئے کہ جس نے یہ باریک کام انجام دیا اور عمل جراحی کے ذریعے جرم کے ناسور کو سیاست کے جسد سے کاٹ کر پھینک دیا۔ اس عمل نے الطاف حسین کو بے اثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ ان کی طاقت کا راز اور دیو کی جان جرم کے اسی طوطے میں تھی۔ وہ اب بھی حواس باختگی کے عالم میں کبھی پاکستان کو برا بھلا کہتے ہیں تو کبھی فوج اور دوسرے اداروں کے بارے میں مغلظات بکتے سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں۔ ان کا جنون اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ وہ بھارت سے کھلے بندوں اظہار محبت کرتے ہیں۔ ایک وڈیو میں وہ مالی بحران اور پیروکاروں کی بے اعتنائی کا رونا روتے نظر آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ان کے پاس دفتر کا کرایہ دینے کو پیسے نہیں۔ ان کا نفسیاتی عارضہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کبھی روتے روتے ہنستے اور کبھی ہنستے ہنستے رونے لگتے ہیں حکومت پاکستان برسوں سے برطانوی حکومت سے ان کی حوالگی اور ان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے کیونکہ وہ پاکستان میں قتل، اغوا، بھتہ خوری کے لاتعداد مقدمات میں مطلوب ہیں مگر عمومی تاثر یہی ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سیکس ایک اثاثے کی طرح ان کو سینت سینت کر رکھتی ہے کیونکہ ایک زمانے میں انہوں نے پاکستان میں اس خفیہ ایجنسی کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ الطاف حسین کو جس لمحے کیلئے آبگینہ بنا کر زمانے کی ٹھیس سے بچا رکھا گیا تھا مقام شکر ہے کہ پاکستان پر وہ گھڑی اور وہ لمحہ اتر ہی نہیں آسکا اور یوں الطاف حسین پڑے پڑے ضائع ہوگئے۔ جس لمحے کی امید پر انہیں حنوط کر لندن کے ڈیپ فریز میں رکھا گیا تھا وہ لمحہ بے نتیجہ گزر جانے کے بعد الطاف حسین کا مصرف باقی نہ رہا اور یوں وہ اثاثے سے بوجھ ہی بن کر رہ گیا۔ عمران فاروق کا قتل اور منی لانڈرنگ کا کیس الطاف حسین کی بدقسمتی بن کر رہ گئے ہیں کیونکہ یہ دونوں معاملات برطانوی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور برطانیہ کی حکومت اور پولیس چار وناچار ان دو معاملات کا نوٹس لینے پر مجبور ہے۔ نفرت انگیز تقریروں اور امن وامان خراب کرنے اور اس معاملے میں برطانوی حکومت کیساتھ مسلسل روابط کے بعد برطانوی پولیس نے انہیں گرفتار کیا حسب معمول پوچھ گچھ کی اور حسب روایت ثبوت ناکافی ہونے کا عذر تراش کر رہا کر دیا مگر ان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ وقفوں سے جاری رہے گا۔ ان کی گرفتاری سے کراچی سے لندن تک راوی نے چین ہی چین لکھا۔ گرفتاری کی طرح رہائی کی خبر بھی کسی تاثر کے بغیر گزر گئی۔ نہ مٹھائی بٹی، نہ شکرانے کے نوافل پڑھے گئے اور کالے بکروں کا صدقہ ہوا۔الطاف حسین کے عروج وزوال اور عبرتناک انجام میں پاکستان میں سرگرم بہت سی شخصیات اور تنظیموں کیلئے ایک سبق ہے اور انہیں انجام کا یہ سبق پلے باندھنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں