Daily Mashriq

غربت کا دلدل اور اس کا سدباب

غربت کا دلدل اور اس کا سدباب

پاکستان کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ حالیہ بجٹ میں کئے جانے والے فیصلوں سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اب پہلے سے زیادہ گھرانے خط غربت سے آ لگیں گے۔ میڈیا کے مچائے شور وغوغہ میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنی ذاتی زندگیوں میں کس طرح کی مشکلات سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں عوام کی اکثریت کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے، یہی غربت ہمارے لوگوں کو اعلیٰ تعلیم، صحت کی بہترسہولیات، رہائش اور ایسی بیشتر دوسری سہولیات کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمارے ہاں وہ نظام سرے سے موجود ہی نہیں جو عوام کو انصاف، تعلیم اور مساوی مواقع فراہم کرتے ہوئے انہیں غربت کے دلدل سے نکلنے میں مددگار ثابت ہو سکے جبکہ دوسری طرف عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی دنیا بھر میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والی قوم ہے۔ صرف سال 2018 میں ہی پاکستانیوں کی جانب سے کل 240 ارب روپے کی خیرات کی گئی اور رواں سال یہ اعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ پر درحقیقت صاحبان ثروت کی طرف سے دی جانے والی اس رقم سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ یہ رقوم انفرادی طور پر تو مختلف گھرانوں کیلئے شاید کچھ عرصہ کی آسانی کا سبب بن جاتی ہوں مگر ان سے دیرپا فائدہ نہیں لیا جاتا۔ ہمارے ہاں چندہ اور خیرات کی جانے والی رقم غیردستاویزی حالت میں ہوتی ہے اور عین ممکن ہے کہ اس کا حجم دئیے گئے اعداد وشمار سے بھی زیادہ ہو، گوکہ خیرات ہماری ثقافتی روایات اور مذہبی فرائض میں شامل ہے اور کچھ مواقعوں پر یہ لوگوں کی زندگیوں میں دور رس تبدیلی کا سبب بھی بنتی ہوگی البتہ ہمیں اس بات کا بھی ادراک کرنا چاہئے کہ یہ رقوم، خواہ ملک کے اندر سے اکھٹی کی گئی ہوں یا باہر سے بھیجی جائیں، کوئی دور رس اثرات مرتب کرنے میں کارگر نہیں ہو پاتیں۔

آج ہر چار میں سے ایک پاکستانی غربت کا شکارہے، پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد1.90 ڈالر یومیہ سے بھی کم پر گزارہ کرتی ہے، گوکہ معاشی سروے برائے سال2018 کے اعداد وشمار کے مطابق اس صورتحال میں پچھلی چار دہائیوں میں معمولی بہتری آئی ہے مگر اس قدر کم رفتار بہتری ہرگز اطمینان بخش نہیںہو سکتی۔ ہمارے ہاں 44فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور ان کی ذہنی نشونما ہوشربا حد تک متاثر ہورہی ہے۔ ہمارے ہاں تو غربت اور مسائل کی بہتات اس قدر ہے کہ اس کیلئے ہمیں کسی قسم کے اعداد وشمار کی ضرورت ہی نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال اشیاء خورد ونوش میں تقریباً 8.51فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی اور اس سبب غریب طبقے کی اکثریت کے پاس اپنا روزہ کھولنے کو ایک روٹی اور پانی کے سوا کچھ میسر نہیں ہوتا تھا۔ باقی ماندہ لوگوں کی تعداد کا بڑا حصہ غذائی قلت کا شکار ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان خواتین اور بچوں کو ہو رہا ہے۔

ہم بحیثیت قوم اپنے لوگوں کو بنیادی سہولیات تو کجا، پیٹ بھر کے روٹی دینے میں بھی ناکام رہے ہیں اور صاف پانی کا حصول تو دن بدن مزید کٹھن ہوتا جا رہاہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے غربت بھگاؤ پروگراموں کو ہمارے ہاں زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور یہ بات بھی درست ہے کہ ان منصوبوں میں بے شمار نقائص اور خامیاں موجود ہیں البتہ معاشی سروے میں جن معمولی بہتریوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا ایک بڑا سبب انہی غربت بھگاؤ پروگراموں کو گردانا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ریاست کی طرف سے ایسے پروگراموں سے عوام کو غربت کے گھن چکر سے نکلنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔

اگرچہ حکومت اب احساس پروگرام کے نام سے ایک اور امدادی پروگرام کا آغاز کرنے جا رہی ہے جہاں عوام کو راشن اور دیگر صورتوں میں امداد فراہم کی جائے گی البتہ اس موقع پر یہ جان لینا بہت ضروری ہے کہ ہمیں غربت سے صحیح طور نبردآزما ہونے کیلئے کیا طریقے اپنانے ہوں گے۔ ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ پاکستانی معیشت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کیلئے دباؤ ڈالنے والی آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے ادارے جو معاشی پالیسیاں ہم پر مسلط کر رہے ہیں وہ عوامی مفادات کیلئے کسی طور بھی موافق نہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کردہ مطالبات بھی معاشرے کے غریب، مزدور اور پسے ہوئے طبقات کا مزید بھرکس نکالنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

ایسی ہی تمام پالیسیاں جو ستر کی دہائی سے افریقی ممالک میں مسلط ہیں، ان کی معاشی زبوں حالی میں اضافے کا ہی سبب بن رہی ہیں۔ ان ممالک میں سے کوئی بھی آج تک اپنے غربت میں پسے طبقات کو اس دلدل سے نکالنے کے قابل نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں پاکستان کی مثال بھی سامنے رکھنی چاہئے کہ ہم نے آئی ایم ایف سے پہلا قرضہ 1960میں لیا تھا اور پانچ دہائیاں گزر جانے کے بعد اب تک ہمیں کار حکومت چلانے کو انہی اداروں سے قرضے لینا پڑتے ہیں اور وہ بھی پہلے سے بڑی مقدار میں۔ یہ حوصلہ شکن نتائج ان دعوؤں کے حوالے سے بے شمار سوال کھڑے کرتے ہیں جو عالمی بینک اور آئی ایم ایف اپنے پروگراموں کی افادیت کے بارے میں کرتے پھرتے ہیں۔ بنگلادیش نے بھی اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے عالمی بینک کے پروگراموں سے استفادہ کیا جس کے نتیجے میں وہ اپنی شرح غربت کو 1991 میں چوالیس فیصد سے لیکر سال2016-17 تک 31.8فیصد تک گھٹانے میں کامیاب رہا۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں