اہل سیاست! ’’ زبان دانیوں‘‘ سے اجتناب کیجئے

اہل سیاست! ’’ زبان دانیوں‘‘ سے اجتناب کیجئے

سیاست کے میدان میں دشنام طرازی اور جوتاگردی پر حیران اہل وطن کیلئے بدھ کی شام وہ لمحات صدمہ بھرے تھے جب پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ رہے تھے کہ ’’ہمارے کارکن ہاتھوں میں جوتے لئے شیخ رشید احمد کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں‘‘۔ پروگرام کے میزبان کے سوال اور اچنبھے پر پنجاب کے وزیرقانون نے مزید جو کہا اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ بانی پاکستان کی مسلم لیگ کا نام استعمال کرنیوالی ایک جماعت کے صوبائی وزیرقانون کا انداز بیان یہ ہے اور وہ اپنے کارکنوں کو جوتاگردی کیلئے ٹارگٹ دے رہے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت اور اس کے معاونین مایوسیوں کا شکار ہیں اور ان کے خیال میں مخالفین کیخلاف ہر حربہ آزمانا چاہئے تاکہ مخالف جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا لیگی قیادت اس امر سے لاعلم ہے کہ کارکنوں کو مخالف رہنماؤں کیخلاف اس طرح کی ہلہ گیری دینے کے نتائج کیا ہوں گے اور اگر جواب آں غزل کا سلسلہ شروع ہوا تو سیاست کے میدان میں سنجیدگی‘ سیاسی پروگرام‘ پارٹی منشور اور سابقہ کارکردگی کی جگہ جوتاگردی اور دشنام طرازی لے لے گی؟ کیا لیگی قیادت یہ سمجھ رہی ہے کہ احتساب کے جس عمل سے وہ گزر رہی ہے اس سے سیاسی تنہائی مزید بڑھے گی اور اس صورت میں اگر ہم نہیں تو کوئی نہیں بلکہ پُرامن سیاسی میدان بھی نہیں؟۔ پاکستانی سیاست میں دشنام طرازی اور کردارکشی کی منفی روایات بہت پرانی ہیں، اسے مزید بڑھاوا جولائی 1977ء کے تیسرے مارشل لاء کے بعد اور پھر خصوصاً 1985ء کی غیرجماعتی اسمبلیوں سے اُبھری قیادت کی وجہ سے ملا۔ سیاسی پس منظر نہ رکھنے والے بہت سارے لوگ مارشل لاء کی چھتری کے نیچے سیاستدان بنے لیکن وہ سیاسی اخلاقیات‘ سماجی اقدار اور روایات سے نابلد تھے ان میں سے اکثر کے نزدیک مخالف کی تضحیک برتری کی علامت اور مخالفین کی منظم کردار کشی بھی سیاسی داؤ پیچ ہی قرار پائے۔1988ء‘1990ء‘ 1993ء اور پھر 1997ء کے عام انتخابات کیلئے چلائی گئی انتخابی مہموں کے دوران جو کچھ ہوا وہ ہماری سیاسی تاریخ کا شرمناک حصہ ہے۔ افسوس کیساتھ یہ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے سیاسی میدان میں جو منفی روایات پروان چڑھائیں اس کیلئے ہر ہتھکنڈہ اور ذریعہ استعمال کیا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کچھ مذہبی رہنماؤں کو بھی اپنی زبان وگفتار پر بہت ناز ہے، ان کا خیال ہے کہ لوگ اس انداز تکلم میں فرحت محسوس کرتے ہیں حالانکہ کسی بھی زندہ سماج کے سیاسی ومذہبی رہنما سماجی اخلاقیات واقدار کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ معاشرے کے سنجیدہ فہم لوگ ہوں یا عام شہری دونوں یہ توقع کر رہے تھے کہ سیاسی ومذہبی قیادتیں اس رجحان کو مزید پنپنے سے روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی لیکن ہوا اس کے برعکس۔ امور مملکت کے وفاقی وزیرداخلہ طلال چودھری نے کہا کہ جوتاگردی کی جو روش چل نکلی ہے اس کا نشانہ کسی آئینی ادارے کا سربراہ بھی بن سکتا ہے۔ لوگ اتنے ناسمجھ نہیں کہ وہ یہ نہ جان پائیں کہ طلال چودھری نے بین السطور کیا کہا ہے اور کس کو دھمکی دی ہے۔ اب پنجاب کے وزیرقانون نے جن خیالات کا اظہار کیا بالائی سطور میں اس کا تذکرہ کر آئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ وفاق اور پنجاب میں برسر اقتدار مسلم لیگ(ن) کے ذمہ دار قائدین عدم برداشت کو سیاسی ہتھیار بنانے کی نہ صرف خواہش رکھتے ہیں بلکہ وہ دبے لفظوں میں اپنے کارکنوں کو اہداف سے بھی آ گاہ کر رہے ہیں۔ کیا ان صاحبان کو یہ علم نہیں کہ اگر بات چل نکلی تو پھر دور تلک جائے گی؟ اندریں حالات ہم یہ عرض کرنے میں حق بجانب ہیں کہ سیاسی روایات اور سیاسی کارکنوں کے کلچر کا خاتمہ کرنے اور اس میں معاون بنے طبقات کے غیر تربیت یافتہ جو لوگ آج سیاسی عمل کا حصہ ہیں وہ فہم وشعور سے عاری ہی نہیں بلکہ ان کے خیال میں سیاسی کامیابی کی پہلی شرط مخالف کو دہشت زدہ کرنا ہے۔ یہاں ہم افسوس کیساتھ یہ عرض کریں گے کہ جناب عمران خان کی جماعت کے اجتماعات میں بھی مخالفوں کیلئے شیریں بیانی نہیں ہوتی بلکہ جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ سیاسی روایات کے برعکس ہے۔ مثلاً چند دن قبل جب لاہور میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کیساتھ افسوسناک واقعہ پیش آیا عین اسی روز جناب عمران خان فیصل آباد میں کہہ رہے تھے ’’رانا ثناء اللہ ہم تمہیں مونچھوں سے گھسیٹ کر جیل میں ڈالیں گے‘‘۔ سیاسی اخلاقیات کی لغت میں جو نئی تراکیب عمران خان درج کروا رہے ہیں وہ بھی کم افسوسناک نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان مروجہ سیاسی عمل کے تربیت یافتہ ہرگز نہیں نہ انہوں نے کبھی دعویٰ کیا۔ زبان وبیان پر قابو نہ رکھ سکنے کی بدولت وہ اکثر تنقید کی زد میں آتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نے بھلے1985ء کی غیرجماعتی اسمبلیوں کے بطن سے جنم لیا اور نوازشریف کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں تھا مگر ان کیساتھ درجنوں سینکڑوں لوگ صف اول ودوئم میں ایسے ہیں جن کے خاندان نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ خود نون لیگ کو بھی اب میدان سیاست میں سوا تین دہائیاں ہونے کو ہیں، کاش کچھ سیاسی بلوغت کی چھاپ اس پر دکھتی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب کے وزیرقانون کو ایک پرانے سیاسی کارکن ہیں لیکن زبان وبیان کے معاملے میں وہ سڑک چھاپوں کو بھی شرماتے ہیں ان کی اعلیٰ زبان دانی پر ہی محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں پیپلز پارٹی سے نکالا تھا۔ ہم ایک بار پھر یہ عرض کرنا انتہائی ضروری خیال کرتے ہیں کہ مروجہ سیاست میں رہنما بنے لوگوں کو بگاڑ پیدا کرنے کی بجائے سیاسی اخلاقیات اور اقدار کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ مریم نواز‘ عمران خان‘ شیخ رشید‘ رانا ثناء اللہ اور طلال چودھری سمیت وہ چند لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ مخالف کی تضحیک کرکے سرخروئی حاصل کر لیں گے وہ خاطر جمع رکھیں۔ چراغ سبھی کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔

اداریہ