Daily Mashriq


رائے ونڈ لاہور میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ

رائے ونڈ لاہور میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ

لاہور میں بدھ کی شب رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 5پولیس اہلکاروں سمیت 9افراد شہید اور 12پولیس والوں سمیت 40 کے قریب لوگ زخمی ہوگئے۔ موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور کو پولیس نے چیک پوسٹ پر تلاشی کیلئے روکا جس پر اس نے خود کو اُڑا لیا۔ کالعدم تحریک طالبان کے ایک گروپ نے دہشتگردی کی اس واردات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ زخمیوں میں ایک اے ایس پی سمیت متعدد پولیس افسر شامل ہیں۔ تبلیغی مرکز کو بڑے سانحہ سے بچاتے ہوئے پنجاب پولیس کے جوانوں نے جو قربانیاں دیں اس پر تحسین بھی لازم ہے۔ معمولی سی غفلت کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق خودکش حملے کے وقت تبلیغی مرکز میں اجتماع جاری تھا۔ اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اجتماع کے معمولات میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اجتماع کے مقام کو مزید محفوظ بنانے کیلئے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اعلیٰ سول‘ پولیس وفوجی حکام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا جبکہ رینجرز نے اجتماع کی سیکورٹی سنبھال لی۔ بدھ کے سانحہ رائے ونڈ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں اور سیکورٹی حکام کا خیال ہے کہ بدھ کی شام ہوئی دہشتگردی کی واردات کا مقصد پی ایس ایل کے فائنل میچز کے پاکستان میں انعقاد کو روکنے کیلئے خوف وہراس پیدا کرنا ہے تاکہ پی ایس ایل میں شامل غیر ملکی کھلاڑی خوفزدہ ہو کر پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پُرامن تبلیغی جماعت کے مرکز کو نشانہ بنانے کا مقصد تبلیغی اکابرین کی انسان دوستی‘ امن پسندی اور قانون کی حاکمیت پر یقین رکھنے کا جواب ہے کیونکہ انتہا پسند عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے اکابرین کی انسان دوستی اور امن پسندی ان کے عزائم کی راہ میں حائل ہے۔ بہرطور اس واقعہ کی وجہ جو بھی رہی ہو اس کی سنگینی اور انسانیت دشمنی پر دو آراء ہرگز نہیں۔ آپریشن ضرب عضب اور پھر آپریشن ردالفساد کی کامیابیوں نے انتہا پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کیلئے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ مایوس عناصر کیلئے شہری ومذہبی مقامات کی کوئی اہمیت نہیں، موت کے ان سوداگروں کے منہ کو انسانی لہو لگ چکا ہے۔ بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے پر عمل کرنیوالے اسلام‘ انسانیت اور امن کے ان دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ریاست اور شہریوں کو ملکر جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ ایک پُرامن اور مثالی معاشرے کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

اسرائیلی فوج کی بربریت

اسرائیلی فوج نے گزشتہ شام فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہرر املہ میں البیرہ کے مقام پر فلسطینی طلباء کی ایک پُرامن ریلی پر بلاجواز اندھا دھند فائرنگ کر کے متعدد طلباء کو زخمی کر دیا۔ عینی شاہدین اور صحافیوں کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے طلباء پر براہ راست گولیاں چلائیں اور خصوصی طور پر جسموں کے بالائی حصوں اور بعض کے سروں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی جارحیت کے پشت بانوں امریکہ اور برطانیہ کے کردار پرجتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے مگر افسوس یہ ہے کہ مسلم دنیا میں معصوم طلباء اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ پر عجیب سی بے بسی دیکھنے میں آئی۔ کشمیر ہو یا فلسطین دونوں مقامات پر قابض قوتوں کی درندگی اور مسلم کشی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مسلمان اپنے باہمی اختلافات اور حکمرانوں کے جھگڑوں کو عقیدوں کا تحفظ فراہم کرنے میں جتنی تندہی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس طرح کے ردعمل کا مظاہرہ بھارت اور اسرائیل کی درندگی کیخلاف کرتے تو ہر دو مقبوضہ مقامات پر جنگی جرائم کی طرف دنیا کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ بہرطور اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کو کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کرنے کی بجائے مقبوضہ علاقوں میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا نوٹس لینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں