Daily Mashriq


ہارس ٹریڈنگ کے الزامات

ہارس ٹریڈنگ کے الزامات

سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان کی سربراہی میں کمیشن کے پانچوں ارکان پر مشتمل بنچ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ان الزامات کے حوالے سے سماعت شروع کر دی ہے۔ بدھ کے روز پہلی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹ خریدنا جرم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بدقسمتی سے جن پر ووٹ خریدنے اور بیچنے کے الزامات کیے جا رہے ہیں وہ سب کے سب ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان الزامات کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اور دیگر خفیہ کار ایجنسیوں سے بھی تعاون حاصل کیا جائے گا۔ حساس ادارے ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات میں کیا طریقہ کار اختیار کریں گے یہ سوال قابلِ غور ہونا چاہیے۔ کیا وہ ان ارکان کے خلاف جو بدقسمتی سے سب کے سب ارکان پارلیمنٹ ہیں ، خفیہ معلومات جمع کریں گے یا اعلانیہ ان کے بیانات حاصل کریں گے۔ یہ سوالات ذہن میں آتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ بات ذہن میں ابھرتی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کا استحقاق تو مجروح نہیں ہوگا؟ اس حوالے سے یہ بات بھی زیرِ غور ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے الزام ثابت کرنے کے لیے شہادتیں اور حقائق الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنا ان ارکان کی ذمہ داری ہے جنہوں نے ہارس ٹریڈنگ یعنی ووٹوں کی خریدو فروخت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ شروع شروع میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بیانات شائع ہوئے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کے کچھ ارکان سے ووٹوں کا سودا کیا۔ عمران خان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے بنچ کے سامنے بیان دیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تحقیقات کر رہے ہیں اور جونہی یہ مکمل ہو جائے گی کمیشن کے سامنے اس کی رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اس تحقیقات کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں ‘ کیا خفیہ اداروں سے مدد حاصل کر رہے ہیں یہ بات سامنے نہیں آئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے آئین کی ان شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے جن کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کہا کہ جب کوئی امیدوار اپنی پارٹی کی ایوان میں نمائندگی کے اعتبار سے غیر متناسب ووٹ حاصل کرتا ہے تو اس سے مطلب لیا جاتا ہے کہ پارٹی کے ارکان نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ن لیگ کی رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ بخاری نے سوال اٹھایا کہ آیا الیکشن کمیشن اس ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے کچھ کر سکے گا تو چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا ہے کہ کمیشن الزام عائد کرنے والوں کی مدد سے جو کر سکا وہ کرے گا۔ جہاں تک مریم اورنگزیب کے بیان کی بات ہے انہوں نے پارٹی کی رکنیت کی نسبت غیر متناسب ووٹ پڑنے کو شکوک و شبہات کے ابھرنے کی وجہ بیان کیا ہے جس کامطلب یہ ہے کہ یہ امکان موجود ہے کہ شکوک و شبہات کی بنیاد پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کیے گئے۔ لیکن الزام ثابت کرنے کے لیے محض شکوک و شبہات کافی نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کے لیے ٹھوس شواہد چاہئیں۔ عظمیٰ بخاری کو چیف الیکشن کمشنر نے جو جواب دیا ہے اس میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ الزامات عائد کرنے والوں کو الزامات کے ثبوت یا ایسی امداد فراہم کرنی ہو گی جن سے الزامات ثابت ہو سکیں۔ مریم اورنگزیب جب کہتی ہیں کہ پارٹی کے ارکان کی تعداد کی بنسبت غیر متناسب ووٹ ملنے سے شک شبہ پیدا ہوتا ہے تو یہ محض شک شبہ ہے اور وہ بھی اس بات کا کہ (کسی خاص رکن نے نہیں) بعض ارکان نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ آیا سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا یا پارٹی کے نمائندوں کی تعداد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا جرم ہے؟ سینیٹ ایسا ادارہ ہے جس میں چاروں صوبوں کو برابر کی نمائندگی حاصل ہے ۔ یہ نمائندگی صوبوں کی آبادی یا سیاسی پارٹیوں کے ارکان کی تعداد سے مشروط نہیں ہے۔ اس انتظام میں یہ بات مضمر ہے کہ اس کے ارکان کی تعداد سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کی تعداد سے مشروط نہیں ہوں گے اور ووٹر ایسے امیدواروں کو ووٹ دینے میںآزاد ہو ں گے جنہیں وہ اس با لا تر ایوان کی رکنیت کا اہل سمجھیں گے ۔ کیونکہ یہ ایوان وفاق کا نمائندہ ایوان ہے، کسی صوبے یا کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔ اس لیے اس ایوان کے انتخاب میں پارٹی پالیسی کی بجائے وفاق کی نمائندگی کے لیے موزونیت معیار ہو گا۔ اس لیے اگر کسی سینیٹرکو اس کی پارٹی کے ووٹروں کی تعداد سے کم یا زیادہ ووٹ ملتے ہیں تو وہ عین اس حکمت کے مطابق ہے جس کے تحت ایوان بالا کا وجود قائم کیا گیاہے۔ پارٹی پالیسی کی پابندی آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق صرف تین موضوعات پر لازم ہے۔ (۱)۔ وزیر اعظم کا انتخاب۔ (۲)۔ بجٹ کی منظوری اور (۳)۔ تحریک عدم اعتماد۔ سینیٹ کے ارکان یا اس کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات پر آئین پارٹی پالیسی کی پاسداری کی کوئی قدغن نہیں لگاتا۔ اس لیے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے پارٹی پالیسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے یا اس کے ساتھ یا اس کی بجائے محض اپنی دانش اور ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ دینا خود آئین کا تقاضا ہے جس کے تحت دو ایوانی مقننہ قائم کی گئی ہے۔ ووٹ خریدنا اور فروخت کرنا یقینا جرم ہے۔ اس کے لیے جو شخص ووٹ کی خرید وفروخت کا الزام لگاتا ہے ، اس پر اسے ثابت کرنے کا بھی فرض عائد ہوتا ہے یاا س پر لازم ہے کہ وہ ایسے شواہد فراہم کرے جن کی بنیاد پر ووٹ کی خرید وفروخت ثابت ہو سکتی ہو۔ سینیٹ کے انتخاب پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کرکے انہوں نے نہ صرف ایوان بالا کی توہین کی ہے بلکہ جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ووٹ خریدنے اور بیچنے والے سب ارکان پارلیمنٹ ہیں لیکن الزامات عائد کرنے والے بھی ارکان پارلیمنٹ ہیں۔

متعلقہ خبریں