Daily Mashriq


سٹیفن ہاکنگ

سٹیفن ہاکنگ

ہاکنگ عہد حاضر کا ایک بہت بڑا ذہن، بہت سی کتابوں کا مصنف اور بہت سے سائنسی انکشافات کا خالق، خالق حقیقی سے جا ملا۔ لیکن اپنے پیچھے دنیا پر بسنے والے انسان کو سوچنے اور سمجھنے کا بہت سا مواد چھوڑ گئے ہیں۔ سائنسدان، فلسفی یا مفکر کا یہ کام تو ہے نہیں کہ جو تھیوری اس نے پیش کی اس کو لوگوں سے منوائے بھی، کیونکہ وقت ہی نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس کی تھیوری حقائق پر مبنی تھی اور کس کی خام خیالی، دراصل کوئی بھی تھیوری بنیاد ہوتی ہے کہ جس پر کسی نظرئیے کی عمارت بنتی ہے۔ تھیوری ایک روشنی کی کرن ہے کہ جس کے تعاقب میں تحقیق کرنے والے نکل کھڑے ہوتے ہیں، کبھی خالی ہاتھ واپس آتے ہیں اور کبھی اس کرن کا منبع تلاش کر لیتے ہیں۔ ہر سائنسدان فلسفی اور مفکر کی کسی تھیوری کے پس منظر میں کوئی واضح اور ٹھوس بنیاد ضرور ہوتی ہے۔ سٹیفن ہاکنگ کی اکثر تھیوریاں سوچنے پرکسی سائنس فکشن کے منظر نامے میں لے جاتی ہیں۔ جیسے وہ کہتا ہے کہ خلاء میں جو بلیک ہولز بنتے ہیں دراصل یہ بلیک ہول دوسری دنیاؤں کے راستے ہیں اور ان راستوں پر جانے والے دوسری دنیاؤں میں پہنچ تو جائیں گے لیکن واپس نہیں آپائیں گے۔ اس تھیوری پر سوچنے پر تخیل کی وسیع دنیائیںکھل جاتی ہیں۔ سٹیفن ہاکنگ کئی برسوں سے بیماری کی وجہ سے مفلوج زندگی گزار رہے تھے، بول نہیں سکتے تھے وہ وہیل چیئر پر لگے آلات سے رابطے میںرہتا تھا۔ یقیناً انہوں نے ایک الگ انداز سے زندگی گزاری۔ شاید اسی لئے اس کا زندگی کے بارے میں نقطہ نظر بھی منفرد ہے۔ عام زندگی سے ہٹ کر زندگی بسر کرنے سے واقعی نقظہ نظر بدل جاتا ہے۔ جیسے فٹ بال کے میدان کے اندر کھلاڑی ایک خاص انداز سے کھیل کے منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن میدان کے باہر بیٹھا تماشائی اسی کھیل کو کسی اور زاویہ نگاہ سے دیکھے گا۔ سٹیفن کہتا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کو بہت بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انسان نے جس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو اپنی سہولت کیلئے بنایا ہے۔ کمپیوٹرز میں اپنی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بڑھانے کی استعداد موجود ہے۔ جس طرح بہت ساری کمپیوٹر گیمز میںہر سٹیپ پر کمپیوٹر خودکار طریقے سے نئی چیزیں سیکھتا ہے اور اگلے مراحل کو زیادہ بہتر انداز سے طے کرتا ہے۔ کمپیوٹر اور اس سے متعلق حوالوں پر موجودہ دور میں سب سے زیادہ تحقیق ہو رہی ہے اور نت نئے گیجڈ سامنے آرہے ہیں۔ یہاں تک کہ پراسس کرنے والے کمپیوٹر میں احساسات کو بھی جنم دینے کا رجحان شروع ہو چکا ہے۔ ہاکنگ کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی کمپیوٹر سوچنے کی ایسی خودکار صلاحیت پیدا کر دے کہ وہ انسان سے بغاوت کر دے اور دنیا کے باقی کمپیوٹرز کو بھی باغی نہ کر دے۔ یوں انسان اس کا غلام بن جائے گا۔ ہاکنگ کی یہ بات کسی سائنس فکشن کی کہانی دکھائی دیتی ہے لیکن اس میں منطق کے سارے تقاضے موجود ہیں۔ کمپیوٹر کے عام آدمی کی دسترس میں آنے کے بعد جتنی تیزی کیساتھ تبدیلیاں اور ایجادیں ہو رہی ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تھیوری ممکنات میں ہوسکتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مفروضے میں صداقت ہے یا نہیں اس پر سوچنا تو چاہئے۔ ہاکنگ نے ایک اور تھیوری بھی پیش کی ہے جو بہت زبردست معانی لئے ہوئے ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت ہمیں نہیں مارتی تو خود انسان دوسرے انسان کو مٹانے کیلئے کافی ہیں، ان کے مطابق انسان خود انسانیت کا خاتمہ کرسکتا ہے، لندن سائنس میوزیم میں جب ایک ٹیچر نے ان سے سوال کیا کہ آپ کس انسانی کمی کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں؟ تو ہاکنگ نے جواب دیا: کہ انسان پُرتشدد روئیے کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس تشدد کا فائدہ اسے اس وقت تھا جب وہ غاروں میں رہتا تھا، جہاں خوراک، زمین اور ساتھی کیلئے تشدد سے کوئی حل نکل سکتا تھا لیکن اب یہ رویہ ہم سب کو تباہ کر سکتا ہے، ہاکنگ اس کیلئے ایٹمی جنگ کا منظرنامہ بھی بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف افہام وتفہیم سے ہی امن اور محبت کا فروغ ہوسکتا ہے۔ ہاکنگ کی بیشتر تھیوریاں سائنس کی منطق لئے ہوئے ہیں لیکن یہ آخری بات سائنسی سے زیادہ سماجی قسم کی ہے۔ انسان کی ساری ترقیاں ہیچ ہو جاتی ہیں جب انسان آج بھی انسان پر تشدد پر آمادہ رہتا ہے کہ جب بہت سارے حقائق اس کیلئے روز روشن کی طرح واضح اور صاف ہوچکے ہیں۔ انسان اب بھیTerrritory کیلئے جنگ کر رہا ہے، تشدد کر رہا ہے کہ جو انسان کے ماضی سے تعلق رکھتی ہے۔ اب بھی انسان نے سرحدوں کو ایک دوسرے کیلئے بند کر رکھا ہے حالانکہ آج کا انسانی علم اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اگر ایک ملک اپنی سرحدوں کو سیل بھی کر دے اور ان سرحدوں کے اندر وہ اپنی ترقی یافتہ قوت کے بل بوتے پر خوشحالی حاصل بھی کر لے لیکن اس کے ہمسائے میں بھوک، افلاس اور بدامنی ہو تو وہ بیماریاں اس سیل شدہ سرحدوں میں کسی بھی وقت داخل ہو سکتی ہیں۔ جدید دنیا کے اذہان یہ سب باتیں جانتے ہیں اور انہی کے دباؤ پر اقوام متحدہ جیسے ادارے بنائے گئے ہیں جو اس مستعدی سے کام نہیں کر رہے کہ جیسا کرنا چاہئے کیونکہ طاقت ان اداروں پر بھی حاوی ہے۔ اب بھی مذہب، رنگ، نسل وغیرہ کی بنیاد پر انسان اپنے تشدد کی جبلت کو تسکین دے رہا ہے۔ آج کا دور ایک پرشور اور ہیجان خیز دور ہے اور انسان کی روحانی بالیدگی سے عاری بھی ہے۔ انسان کو اجتماعی سطح پر سوچنا ہوگا، تدبر کرنا ہوگا کہ وہ آخر کس جانب بڑھ رہا ہے۔