Daily Mashriq


پولٹری اشیاء بارے خدشات

پولٹری اشیاء بارے خدشات

چیف جسٹس پاکستان کے حکم پر عدالتی معاون نے مرغیوں کو دی جانے والی خوراک سے متعلق اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی جس میں کہا گیا ہے کہ مرغیوں کو دی جانیوالی خوراک سے گوشت پر اثر نہیں ہوتا، تاہم رپورٹ میں مرغیوں کی انتڑیوں سے تیار ہونیوالے تیل پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اگر خوراک ٹھیک ہے تو خوش آئند ہے۔ لگتا ہے کہ ہم اچھے نتائج کے کافی قریب پہنچ گئے ہیں۔ مرغیوں کی انتڑیوں سے تیل کی فروخت پر پابندی کیلئے قانون سازی کی جائے، مگر یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرغی کی انتڑیاں فضلہ سمیت بوائلر میں ڈال کر اور اسے پگھلا کر اس سے کھانے کا تیل اور مرغیوں کی فیڈ بنائی جاتی ہے اور یہ تیل عام طور پر بازار میں بغیر کسی برانڈ کے کھلے ڈبوں میں بیچا جاتا ہے اور اس میں سموسے اور پکوڑے بنائے جاتے ہیں۔ ایک طرف اگر دنیا میں کینسر اور ہیپاٹائٹس بی اور سی میں 2فیصد کی شرح سے کمی آرہی ہے تو پاکستان میں ان امراض میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 12ملین لوگ ہیپاٹائٹس اور لاکھوں لوگ کینسر کا شکار ہیں۔ اگر ہم مشاہدہ کریں تو ایک سیدھی سی بات ہے کہ ایک چوزہ سال میں میچور مرغی بنتی ہے جبکہ اس کے برعکس ایک شیور یا مصنوعی طریقے سے پلنے والا چوزہ 4ہفتوں میں میچور ہو جاتا ہے۔ دیسی مرغی قدرتی عمل سے گزرتی ہے جبکہ اس کے برعکس شیور یا مصنوعی طریقے سے پلنے والی مرغیوں کو کیمیکل کے ذریعے بڑا کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے شیور مرغیوں کی خوراک میں جانوروں کا خون، مرغیوں کی بیٹ، مختلف قسم کے کیمیکل اور انتڑیاں شامل کر کے اس کا وزن تو بڑھا دیا جاتا ہے مگر اس کی فیڈ میں جو کیمیکل ملائے جاتے ہیں وہ انتہائی خطرناک اور مہلک ہوتے ہیں اور جب ہم مرغی کھاتے ہیں تو لازمی طور پر یہی کیمیکلز ہمارے جسم میں منتقل ہو کر ہمیں مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ پو لٹری خوراک کے ماہرین کہتے ہیں کہ آرسینک جو زہر ہے اور عام طور پر چوہے اور کیڑے مار ادویات میں استعمال ہوتا ہے یہی کیمیکل اور زہر شیور مرغیوں کے وزن بڑھانے اور ان کی بڑھوتری کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ پولٹری کی صنعت سے وابستہ لوگ زیادہ منافع کما سکیں۔ 1945 میں امریکہ کی حکومت نے Roxarsone, 3Nitrobenzene,اور4Hydroxyکیمیکل کی شیور مرغی کی خوراک میں استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس سے نہ صرف مرغیوں کا وزن بڑھتا ہے بلکہ مرغی کے گوشت کا رنگ سرخ بھی ہو جاتا ہے۔ امریکہ کی حکومت نے مندرجہ بالا کیمیکلز کے مرغیوں کی فیڈز میں شامل کر نے کی بلا تحقیق اجازت دی تھی اور بدقسمتی سے پولٹری استعمال کر نیوالوں کو گو شت کی جگہ مضر صحت کیمیکلز کھلائے جاتے رہے۔

1980ء کی دہائی میں کئی یورپی ممالک میں مندرجہ بالا کیمیکلز کا استعمال پولٹری خوراک میں ممنوع قرار دیا گیا جبکہ پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک میں ان کیمیکلز کا استعمال زوروں پر ہے۔ ماحولیات کی بین الاقوامی ایجنسی کے ماہرین کہتے ہیں کہ جب ہم مرغی کھاتے ہیں تو اس کے گوشت میںشامل وہ کیمیکلز اور آرسینک بھی ہم کھاتے ہیں جو مثانے، پھیپھڑوں، گردے اور کولون کے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کیمیکلز سے جو مرغیوں کے وزن اور بڑھوتری کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں وہ انسان کے مدافعتی نظام، اعصاب اور انڈوکرائن ہارمونز کی نشوونما بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مرغی کے گوشت کے ایک ارب ذرات میں دس ذرات بھی آرسینک موجود ہو تو اس سے ایک ہزار انسانوں میں سے 10انسانوں کو کینسر کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔

لیبارٹری رپورٹس سے یہ بات ثابت ہے کہ پاکستان میں مرغی کے گو شت میں آرسینک یعنی انتہائی خطرناک زہر کے ذرات 400 ہو تے ہیں جو مقررہ حد سے بہت زیادہ ہے۔ تحقیق کے مطابق DavidWallinga جو مرغیوں اور پولٹری فیڈز کے ماہر ہیں انہوں نے امریکہ کی مارکیٹوں میں شیور مرغی کے 151سیمپل چیک کئے جس میں سے 55 زہرآلود پائے گئے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں پر حفظان صحت کے اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی جاتی اور سختی سے عمل کیا جاتا ہے اگر وہاں پر اتنی لاقانونیت اور بدنظمی پائی جاتی ہے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک جہاں ہر ہسپتال میں بچوں کو چوہے کاٹ کر زخمی کر دیتے ہیں اور کھانسی کی دوائی کھانے اور ڈینگی وائرس سے ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں وہاں پر مرغی کی فیڈ میں آرسینک کی کیا مقدار ہوگی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں آدھی سے زیادہ مرغی جو بازار میں فروخت کی جاتی ہے ان کی فیڈز میںنائٹروفیوران ہوتا ہے جو کینسر اور ہیپاٹائٹس کا سبب بنتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مرغی کی فیڈز چیک کرنے کیلئے پورے ملک میں ضلعی سطح پر ایک لیبارٹری ہونی چاہئے تاکہ ان لیبارٹریوں میں مرغیوں کو دی جانیوالی فیڈز اور ان کا گوشت چیک کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں