عمران، زرداری آمنے سامنے

عمران، زرداری آمنے سامنے

سینیٹ کے چیئرمین کے انتخابات کے موقع پر جو دربار سجا تھا وہ انتخابات مکمل ہو تے ہی اُجاڑ ہو گیا، اب نیازی زرداری اور درباری پھر آمنے سامنے ہوگئے ہیں۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلا ف کے انتخاب پر کھنڈت پڑ گئی ہے، عمران خان نیازی کا کہنا ہے کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہد ے زرداری نے حاصل کر لئے ہیں تو اس کے بعد قائد حزب اختلاف کا حق پی ٹی آئی کا تو بنتا ہے مگر زرداری جو کہلواتے ہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری وہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں جس پر عمران نیازی نے توپوں کے دہانے ایک مرتبہ پھر زرداری کی طرف موڑ لئے ہیں، بھٹو زندہ ہے کا نعرہ کے بعد پی پی کا یہ نعرہ مقبول عام ہوا ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری مگر ایسا لگتا نہیں ہے کیونکہ کھیل زرداری کے ہا تھ میں نہیں ہے وہ دربار والے کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن یہ نعرہ یوں نہیں لگایا جا سکتا کہ ایک درباری سب پر بھاری کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دربار کا ایک مالک نہ ہو پھر دربار کا بھی تو اتا پتا نہیں چل رہا ہے۔ پی پی نے بہرحال پیر یا پیرنی سے تو نہیں دربار سے فیض ضرور پایا ہے اور اب ممکن ہے کہ دربار والے قائد حزب اختلاف کیلئے تحریک کو راضی باضی کر لیں، ویسے اگر راضی باضی رکھنے والی بات ہوتی تو سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نشستوں میں سے ایک نیازی صاحب کو پیش کر دی جا تی، زرداری سب کچھ نہ سمیٹ لے جا تے گویا زرداری نے اپنا بھروسہ نادیدہ قوتوں میں بڑھایا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جارہا ہے کہ نیازی کا بھروسہ گھٹ گیا ہے، اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو حزب اختلاف کی نشست کیلئے دونوں کا آمنا سامنا نہ ہو پاتا۔ بہرحال یہ پاکستانی سیاست کا کھیل ہے جو کرکٹ کے میدان میں ہاکی کا کھیل بھی بن جاتی ہے۔سینیٹ کے انتخابات سے لیکر چیئرمین کے انتخابات تک کے مرحلے میں پی پی اور پی ٹی آئی کے مابین جو آر سی مصحف کی رسم ادا کرائی گئی تھی اس کے اثرات یقینی طور پر آگے چل کر پڑنے والے ہیں جو حزب اختلاف کے چناؤ کے موقع پر نظر بھی آنے لگے ہیں، لیکن ان رسوما ت سے قطع نظر بحث ہو رہی ہے شکست وریخت کی۔ ظاہر ہے کہ جب مقابلہ بازی کسی بھی صورت ہوتی ہے تو ایک عنصر جیت سے ہمکنار ہوتا ہے اور دوسرے کو شکست کا منہ دیکھنا پڑ جاتا ہے مگر جو شکست مسلم لیگ ن کے نام لکھی گئی اس سے بہت سی بے پردگی بھی ہوئی ہے، مثلاً تبصرہ بکھیروں کا کہنا تھا کہ ہار جیت کا فیصلہ انیس بیس کے فرق سے ہوگا مگر یہاں تو مسلم لیگ ن کی شکست میں بہت واضح فرق سامنے آیا۔ دوچار ووٹ کا فرق تو نظرانداز ہو سکتا تھا پورے سات عدد ووٹوں کا فرق بہت سے اندیشے ظاہر کر رہا ہے لیکن اس کھیل میں مسلم لیگ ن شکست کھا کر بھی گھاٹے میں نہیں رہی سیاسی برتری سے ہمکنار ہوئی ہے، گھاٹا تو نیازی صاحب کے مقدر میں آیا، نیازی صاحب نے نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کو ایک ہی ٹکٹکی سے باندھے رکھا تھا اب انہو ں نے ٹکٹکی بدل کے خود کو زرداری صاحب کی ٹکٹکی سے باندھ لیا ہے۔ بلوچستان کارڈ وہ سلیقے سے نہ کھیل پائے ان کے کارڈ کو سیپ لگ گئی۔ عمران خان تو خود سند یافتہ صادق وامین ہیں مگر انہوں نے اپنے تیرہ سینیٹرز، وزیراعلیٰ بلو چستان عبدالقدوس بزنجو کے حوالے اس طرح کئے کہ کوئی قربانی کے بکرے بھی اس طرح حوالے نہیں کرتا، کہ نیازی صاحب نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے کہا کہ یہ سب ان کے حوالے ہیں جس طرح چاہیں ان کے بارے میں فیصلہ کریں یعنی قربانی کیلئے گلا ذبح کریں یا دم کاٹ دیں، بہرحال بزنجو کے توسط سے زرداری سے ان کو گلے ملنا کام نہیں آیا کیونکہ جہاں امپائر کی انگلی کی بات کھل گئی ہے وہاں تحریک کے کارکنوں کی غلط فہمی بھی دور ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کی مغلوبیت میں کارکنوں میں مایوسی چھا رہی ہے اب عام انتخابات میں مسلم لیگ اسی دربار کا ذکر کر ے گی جس نے نیازی اور زرداری کی مودت میں کردار ادا کیا۔عمران خان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کہاں سے سند یافتہ صادق وامین ہیں اور انہوں نے کونسی صداقت وامانت کے تحت اپنی پارٹی کو چھوڑ کر پی پی کے افراد کو آزاد حیثیت میں سینیٹر بنانے میں کردار ادا کیا، پھر سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا، صادق سنجرانی کو ان کے نام سے صادق تسلیم کیا ایسی بات بھی ممکن نہیں کیونکہ صادق سنجرانی کوئی غیر معروف شخصیت نہیں تھے، عوام میں ان کا تعارف نہیں تھا مگر اقتدار کے حلقوں میں وہ جانی پہچانی شخصیت رہے ہیں، پی پی کے دور اقتدار میں وہ آصف زرداری کی منشا پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے کوآرڈی نیٹر رہے، اس سے قبل نواز شریف کے پہلے والے دور میں وہ نواز شریف کے کوآرڈی نیٹر رہ چکے تھے۔ ان کا کئی سالوں سے آصف زرداری کیساتھ گہرا تعلق ہے اور وہ پاکستان کے بڑے کاروباری شخصیات میں سے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری کیساتھ کاروباری رفاقت بھی رکھتے ہیں۔جہاں تک چیئرمین سینیٹ کے ووٹ کا تعلق ہے تو انہوں نے اس کیلئے بلوچستان کارڈ کھیلا مگر سلیم مانڈوی والا جو براہ راست پی پی کے اُمیدوار ہیں تو ان کو ووٹ نہ دینے میں کونسی ہیچ تھی، بہرحال سیاسی بازی ان کی کمزور رہ گئی۔ اب عام الیکشن کا بندوبست بھی دربار عالیہ سے سینیٹ انتخاب کی طرز پر نمو پا رہا ہے، دیکھئے آگے آگے ہوتا کیا ہے۔

اداریہ