Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

کی افواج میں ایک ایرانی انسل شخص (یزدانی )ترکی افواج کا جنرل تھا ، اس کی نوجوان بیٹی امتہ الحبیب بھی اسی فوج میں اہم عہدے پر تھی ۔ یہ شیر دل عورت اپنی بہادری و جرأت اور اپنے شریفانہ چلن کی وجہ سے مقبول خلائق تھی ۔ بایزید ا پنے ملک میں امن وامان سے حکومت کر رہا تھا کہ دفعتاً امیر تیمور جیسے خون خواراورجنگجو دشمن نے ا س پر حملہ کر دیا ۔ کئی دنوں کی خوف ناک اور خون ریزی جنگو ں کے بعد بایز ید کی فوج کو شکست ہوئی اور امتہ الحبیب اپنے بہت سے مددگاروں اور جاں نثاروں کے ساتھ گرفتار ہوگئی ۔ دوسرے دن تیمور نے قیدیوں کے قتل کا حکم دیا ۔ امتہ الحبیب نے سنا تو پائوں تلے سے زمین نکل گئی اور تیمور کے اس بے رحمانہ فیصلے اور ترکوں کے اس بے کسانہ حال پر غم و غصہ سے بے تاب ہو کر امیر تیمور کے دربار میں آئی اور کہا : مجھے کچھ عرض کرنا ہے ۔ امیر نے دلیر اور جری خاتون کو جو مردانہ بھیس میں اس کے تخت کے سامنے کھڑی تھی ، عرض و معروض کی اجازت دی ۔ امتہ الحبیب نے نہایت بے خوفی و بے باکی سے امیر کی خونخواری کا ذکر ذیل کے الفاظ میں کیا۔

’’اے بادشاہ ! تو نے جو بایزید پر بلا وجہ چڑھائی کر کے ہزار ہا بندگان خدا کی خونریزی کی ہے ۔ خوب سمجھ لے کہ یہ ایک ایسا سنگین جرم ہے جو کبھی معاف نہ ہوگا ۔ یہ تونے ترکوں کیخون ریزی نہیں کی ، بلکہ اسلام کی بیخ و بن کو اکھیڑ دیا ، کسی آسمانی شریعت یا ملکی قانون میں تو یہ بتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو اس بے رحمی اور ظلم کے ساتھ قتل کرنا جائز ہے ؟ اے امیر ! ہماری طرح تیری عمر کا پیمانہ بھی ایک دن لبریز ہونے والا ہے اور اس عالم کو طے کر کے رب الا فواج کے سامنے کھڑا ہونا ہے ، پھر تو ہی بتا کہ جب وہ ان مظلوم جفاکشوں کی بابت تجھ سے عتاب آمیز سوال کرے گا تو تو کیا جواب دے گا ؟

اے امیر ! آج تک کبھی مظلوم قیدیوں پر بہادروں کی تلوار یں اٹھی ہیں ؟ ہم بے بس قیدی ہیں ،ہمارے ہاتھ پائو ں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ یہ نہایت ہی بزدلانہ اور نفرت انگیز فیصلہ ہے کہ اس بے کسی کی حالت میں ہماری گردن مارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ‘‘

اس کے بعد امتہ الحبیب نے اپنا آہنی خود اتار کر زمین پر پھینک دیا اور کہا : ’’اے سلطان دیکھ ! میں ایک ناتجربہ کار عورت ہوں ، اس سے تو اندازہ کر سکتا ہے کہ جس قوم کی عورتیں ایسی بے باک اور بہادر ہوتی ہیں ، ان کے مرد کیسے بے خوف و دلیر ہوں گے ‘‘۔

اس اثنا میں تیموری دربار کی عجیب کیفیت تھی ۔جب اس نے آہنی خود اتارا تو پورا دربار اور خود تیمور تعجب و حیرت کے عالم میںدیکھتے کے دیکھتے رہ گئے ۔ اس آزاد گوئی کا نتیجہ یہ نکلا کہ امتہ الحبیب اور اس کے جاں نثار قیدیوں کا خون معاف ہو جاتا ہے اور امتہ الحبیب اپنی اور اپنے باپ کی مرضی سے تیمور کے نکاح میں آجاتی ہے اور حمیدہ بانو بیگم کا خطاب حاصل کر کے شہنشا ہ بیگم کہلاتی ہے ۔

(تذکرہ ٔ خواتین تیمور)

متعلقہ خبریں