Daily Mashriq

کرتارپور‘ کشیدہ حالات میں امن کا سندیسہ

کرتارپور‘ کشیدہ حالات میں امن کا سندیسہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری سے متعلق مذاکرات میں مثبت پیشرفت اور دونوں ممالک کا راہداری منصوبہ جلد آپریشنل کرنے پر اتفاق علاوہ ازیں 2015ء کے بعد دونوں ملکوں کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بعد پہلی بار مشترکہ اعلامیہ کا اجراء پاک بھارت کشیدگی میں کمی کا واضح اور عملی اظہار ہے۔ بھارت کے پاکستان کے علاقہ بالاکوٹ تک فضائی خلاف ورزی اور پاک فضائیہ کا اگلے روز ایک جھڑپ میں دو جنگی بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جس قسم کی صورتحال بن گئی تھی اس سے پیدا شدہ خطرات کے بادل پورے برصغیر پر منڈلا رہے تھے اور اب بھی سرحدوں پر صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔ ایسے ماحول میں بھارت پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے خاص طور پر پاکستان سے بدلہ چکانے کیلئے دباؤ تھا۔ اس ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا انعقاد ہی بڑی پیشرفت کی بات تھی کجا کہ یہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوں اور مثبت پیشرفت سامنے آئے اور اس کا مشترکہ اعلامیہ کے اجراء کے بعد مزید معاملات طے کرنے کیلئے مذاکرات کی تاریخ بھی دیدی جائے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بعض معاملات پر اپنا اپنا نکتۂ نظر ہونا فطری امر ہے جس پر بات چیت کے ذریعے اتفاق رائے تک پہنچنا ممکن ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تازہ صورتحال میں کرتارپور سرحد کھلنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان درست سمت میں اُٹھایا جانے والا قدم ہے جس سے سرحد کے دونوں جانب امن اور دانائی کی باتیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ کرتارپور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیوجی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ کرتارپور کا گردوارہ سکھوں کیلئے انتہائی مقدس مقام ہے۔ یہ سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔ گرونانک نے اپنی 70برس اور چار ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا اور کرتارپور میں انہوں نے اپنی زندگی کے 18برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے لمبا عرصہ ہے۔ یہیں گردوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوںکیلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔1947 میں تقسیم ہند کے وقت گردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ایک لمبے عرصے تک یہ گردوارہ بند رہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذہبی طور پر مقدس مقامات پر آمد اور مذہبی سیاحت پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ مذہبی سیاحت کے فروغ سے اور اس ضمن میں آسانیاں اور سہولیات دینے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط میں اضافہ ہوگا جس کے اثرات دونوں ممالک کی حکومتوں پر بھی مرتب ہونا فطری امر ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اس موقع سے دونوں ممالک کو فائدہ اٹھا کر دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کی مضبوطی اور آمد ورفت کو آسان اور باقاعدہ بنانے کے موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانا چاہئے جس سے غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور دونوں ممالک اور اس کے عوام قریب آئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے اس قسم کے اقدامات کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ مذہب سے وابستگی کی بنا پر اس قسم کے اقدامات کی انتہا پسندوں کی جانب سے بھی سخت مخالفت ممکن نہیں۔ اس قسم کے اقدامات کی مخالفت کو مذہب کی توہین اور مخالفت پر محمول کئے جانے کے خدشے کے باعث اس سے احتراز فطری امر ہے۔ بھارت میں سکھوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے اور سکھوں کے بے شمار مقدس مقامات پاکستان میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ہندوؤں کا متبرک مقام کٹاس راج بھی پاکستان میں ہے۔ یہ وہ مقامات اور مواقع ہیں جن تک رسائی سہل اور آسان بنا کر پاک بھارت تعلقات کی نوعیت تبدیل کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کو کرتارپور سرحد کھولنے اور سکھوں کو چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اپنے متبرک مقام آمد ورفت کی پیشکش پاکستان کی وہ کامیاب سفارتی حکمت عملی تھی جسے بھارتی حکومت کیلئے رد کرنا ممکن نہ تھا۔ اس اقدام سے سکھوں کے دل میں پاکستان کیلئے احترام کے جذبات میں اضافہ فطری امر ہوگا دونوں ممالک اس وقت جبکہ جنگ کے دہانے پرکھڑے ہیں کرتارپور راہداری بارے مذاکرات اور اتفاق رائے کشیدہ صورتحال میں بہتری لانے کا سبب بن سکتا ہے جس کی بنیاد پر دونوں ممالک کے سفارتکاروں کو دیگر متنازعہ معاملات پر بھی بات چیت کے مواقع میسر ہونا ممکن نہ تھا۔ درپردہ معاملات پر رازداری سے بات چیت ومعاملت کے تناظر میں بھی مشترکہ اعلامیہ ایک مثبت پیغام قرار پاتا ہے جس سے جنگ کی بجائے امن کی اُمید ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور حالات کو معمول پر لانے کے مزید اقدامات سامنے آئیں گے۔

متعلقہ خبریں