Daily Mashriq

آؤٹ پرچے کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے

آؤٹ پرچے کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے

پشاور اور کوہاٹ کے تعلیمی بورڈوں کا پرچہ ساڑھے آٹھ بجے دستیابی کوئی پوشیدہ امر اس لئے نہیں کہ نو بجے تک پرچہ آؤٹ ہونے کا ثبوت دستیاب ہونے پر ٹی وی پر بریکنگ نیوز آگئی تھی۔ بہرحال بورڈ انتظامیہ کو اس تمام تر معاملے اور اطلاعات کی تردید کا حق ہے۔ ہمارے نمائندے نے رابطے پر موقف اختیار کیا کہ کسی بھی امتحانی ہال سے شکایات موصول نہیں ہوئیں، نو بجے سے پہلے کسی بھی امتحانی ہال میں ممتحن کو پرچے نہیں ملے تھے تو کس بنیاد پر پرچہ آؤٹ ہوسکتا ہے۔ پرچہ آؤٹ نہیں ہوا تو کس چیز کی تحقیقات کی جائیں۔تعلیمی بورڈ پشاور میں امتحانات کے انعقاد سے قبل ہی کھینچاتانی اور بعض اہم عہدوں پر تقرریاں نہ ہونے جیسے معاملات تھے جس سے اس امر کا اندازہ تھا کہ صورتحال بہتر نہیں بہرحال اس سے قطع نظر بورڈ حکام کے اس دعوے سے کسی طور اتفاق ممکن نہیں کہ پرچہ آؤٹ نہیں ہوا۔ پرچہ آؤٹ کیا گیا اور اس کے ثبوت بھی موجود ہیں چونکہ بورڈ حکام ازخود پرچہ کسی امتحانی مرکز سے آؤٹ ہونے کو خارج ازامکان قرار دے رہے ہیں جس کے بعد پرچہ آؤٹ ہونے کی واحد صورت خود پشاور بورڈ کے سیکریسی سے اس کا افشاء ہے۔ پرچہ آؤٹ ہونے کو تسلیم کیا جاتا اور اس کی تحقیقات کا عندیہ دیا جاتا اور اس امکان کو سراسر رد نہ کیا جاتا کہ پرچہ آؤٹ نہیں ہوا تھا تو اس کی گنجائش تھی کہ کسی امتحانی مرکز سے کسی نہ کسی طریقے سے پرچہ باہر آگیا۔ بورڈ حکام کا دس بجے تک پرچہ باہر آنے کو تسلیم کرنا ایک جانب انکار اور دوسری جانب تصدیق کے زمرے میں آتا ہے۔ بہرحال چونکہ بورڈ حکام ساڑھے آٹھ اور نو بجے تک پرچہ آؤٹ ہونے کی تردید کرتے ہیں اس لئے معاملہ گھوم پھر کر گھر کے بھیدیوں کی طرف مڑ جاتا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا سوال اُٹھتا ہے اور ان امتحانات میں اچھے نمبروں کے حصول کیلئے بعض طلبہ اور ان کے والدین ہر حربہ اختیار کرنے سے نہیں کتراتے بنا بریں یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے جس کا وزیراعلیٰ اور مشیر تعلیم کو سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ اسلامیات کا پرچہ آؤٹ ہوا یا نہیں اس سے اہم بات یہ ہے کہ دیگر مضامین کے پرچے کسی طرح سے بھی آؤٹ ہونے نہ دیا جائے ۔ اس مقصد کیلئے پشاور بورڈ کے سیکریسی کے عملے کو تبدیل کیا جائے یا پھر ان کیساتھ مزید بااعتماد عملہ تعینات کیا جائے اور حکومت اس امر کا بندوبست یقینی بنائے کہ ایسی کوئی صورتحال سامنے نہ آئے جن سے طالب علموں کے مستقبل اور حکومت کی ساکھ کا سوال پیدا ہو۔

حکومتی فیصلے پر بیوروکریسی کو معترض ہونے کا حق نہیں

صوبائی حکومت کی طرف سے قبائلی اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت کرنے پر خیبر پختونخوا کی سول بیوروکریسی اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تناؤ حیران کن ہے۔ پولیس کی جانب سے اس ضمن میں تحفظات وسفارشات کی اس لئے گنجائش ہے کہ یہ ان سے متعلق معاملہ ہے۔ سول بیوروکریسی براہ راست فریق نہیں لیکن اس کے باوجود اس کو تحفظات تجاوز ہے جس کی قوانین میں گنجائش نہیں۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ سول سروسز کے افسران کس حیثیت میں صوبائی حکومت سے قبائلی اضلاع میں مرحلہ وار پولیس نظام نافذ کرنے یا لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس کے برابر مراعات دینے کا مطالبہ کرکے گورنر، وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری خیبر پختونخوا کو خط ارسال کر رہے ہیں۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اس ضمن میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ ان کو سول افسران کے ماتحت کیا جاتا ہے یا پولیس افسران کے اس سے بیوروکریسی کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کہ بیوروکریسی ضم شدہ اضلاع میں پولیٹیکل انتظامیہ کے مساوی کسی نظام کے رائج کرنے کی سعی میں ہے بعض جگہوں پر سول افسران کے اختیارات کے استعمال پر عدالتوں کی طرف سے بھی تنبیہہ سامنے آچکی ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ بیوروکریسی پولیٹیکل انتظامیہ کے تحت بادشاہت کے دنوں کو بھلا نہیں سکی اور اب بھی اس کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا راج باقی رہے جس کی کوئی گنجائش نہیں۔ اصولی طور پر ضم شدہ اضلاع اب خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں جہاں وہی قوانین اور نظام رائج ہونا چاہئے جو صوبے کے دیگر اضلاع میں رائج ہے۔

متعلقہ خبریں