Daily Mashriq


سنجیدہ کالم کی ایک یومیہ رخصت

سنجیدہ کالم کی ایک یومیہ رخصت

فقیر راحموں بتا رہے تھے کہ جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ کے کاروبار میں 27ارب روپے کی کمی ہوئی۔ اسی روز وزیراعظم نے پنجاب میں ارکان اسمبلی‘ وزراء اور مشیروں اور وزیراعلیٰ کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی منظوری پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایف اے کے نصاب کی انگریزی کتاب میں شامل ’’مسٹر چپس‘‘ کو ویٹوکر دیا گیا ہے۔ 199فیصد سے زیادہ غیرملکی اشیاء استعمال کرنے اور ہیروز پر اتراتی مملکت میں کیا ہو رہا ہے‘ کسی کو معلوم نہیں۔ مثال کے طور پر محترمہ مہوش حیات کو تمغۂ امتیاز دینے کی منظوری کس کی سفارش پر ہوئی۔ ارشد شریف کیلئے فون کہاں سے آیا۔ دونوں کی اپنے اپنے شعبہ‘ شوبز اور ٹی وی اینکری میں مہارت کیا ہے۔ کوئی جانتا ہو تو فقیر راحموں کو مطلع فرما کر ثواب دارین حاصل کرے، نابتانے اور بس کڑھتے رہنے والوں کیلئے چند دن بعد حضرت شاہ شمس سبزواریؒ کی خانقاہ پر دعا کی جائے گی۔ دو تین کتابیں کھول کر سامنے رکھی ہیں۔ خیال یہی تھا کہ ان میں سے ایک آدھ پر باتاں کرنے کیساتھ حضرت حافظ شیرازی اور فضیل بن عیاض کیساتھ حاذق کی شاعری سے دل کو تسلی دیں گے کیونکہ مہنگائی اور یوٹیلٹی بلز میں بھرپور اضافے کیساتھ دل کی حالت اچھی نہیں لیکن پھر مشورہ ملا سنجیدہ کالم کی چھٹی۔ آج کل ہمارے محبوب دانشور خورشید ندیم تبدیلی مارکہ اہل دانش کا مرغوب کھابا ہیں۔ برادرم عماد بزدار تو ان کی تحریروں پر ایسی تحقیق فرماتے اور لتے لیتے ہیں کہ اگر ان کی صلاحیتوں کا قبل ازوقت پتہ ہوتا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان انہیں ایٹم بم کی تیاری والے عملے میں شامل کرلیتے۔ ادھر اخلاق مرزا نے ’’گریژن میڈ‘‘ کی اصطلاح ایجاد کرکے نیا رپھڑا ڈال دیا ہے۔ کمرشل لبرل دانشوروں کی طرح یہ گریژن میڈ بھی کھمبیوں کی طرح اُگ آئے ہیں رہنے دیں سانوں کی۔ اپنے فہم کی تین کتابیں پڑھنے اور دو چار کی زیارت کرنے کے بعد دوسرے عقائد کے لوگوں پر لاٹھی چارج کرنے کے شوقین بڑھتے جا رہے ہیں۔ کوئی انہیں سمجھائے کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں عقیدہ پرستی کے سوا۔ عقیدہ بری چیز نہیں اگر اس کی بنیاد دوسروں سے نفرت وحقارت پر نہ ہو۔ یہ خالص ذاتی معاملہ ہے لوگ نجانے تلوار کیوں سونت لیتے ہیں۔

پنجاب میں فیاض چوہان کی جگہ سید صمصام علی بخاری لے چکے۔ اب سنا ہے ہمارے مرحوم دوست چودھری الطاف (سابق گورنر پنجاب) کے عہدساز بھتیجے اور تاریخ کے مقبول ترین وفاقی وزیراطلاعات بھی واپسی کیلئے سامان باندھ رہے ہیں۔ بدھ کے روز انہوں نے اپنے چوتھے قائد ومربی جناب عمران خان سے آستانہ عالیہ بنی گالہ شریف میں گھنٹہ بھر سے زیادہ نیاز حاصل کیا اور پھر میڈیا کو یہ خبر دی کہ جناب عمران خان نے وفاقی وزارت اطلاعات اور ذیلی اداروں میں غیروں کی مداخلت کے حوالے سے ان کے مؤقف کو پسند کیا اور فری ہینڈ دیا۔ فقیر راحموں کے موکلوں نے بتایا کہ فری ہینڈ سامان باندھنے کیلئے دیاگیا تاکہ کوئی چیز رہ نہ جائے۔ مختصر سیاسی زندگی میں چار پارٹیاں‘ پانچ قائد اور چھ مربی تبدیل کرنے والے فواد حسین چودھری کی رخصتی لازم ہوچکی۔ وہ پی ٹی وی کے چیئرمین ارشد خان اور عمران خان کے سابق سیاسی اور حاضر خصوصی مشیر نعیم الحق بارے اندازوں کی غلطیوں کا شکار ہوئے۔ اب بھگتے پھر اپنے موبائل سے فقیر راحموں کا نمبر ڈیلیٹ نہ کرتے تو کم ازکم فون کرکے پوچھ ہی لیتے ہن میں کی کراں فیر (اب میں کیا کروں؟) ہائے یہ عشق ہائے عصری وزارت۔ بندہ دوستوں اور حقیقی مربیوں سے چلا جاتا ہے۔ کوئی انہونی ان کی وزارت بچالے تو بچالے معجزہ رونما نہیں ہوتا۔ البتہ اگر وہ چاہیں تو انہیں پیر دیالو شاہ نامرادی کے آستانہ کا ایڈریس اور فون نمبر بھجوایا جاسکتا ہے۔ دیالو شاہ نامرادی کے پاس بھی جن ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان جنوں کا تعلق جنستان کے شاہی خاندان سے ہے۔ ہاں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چچا چودھری شہباز حسین کے دور تک تعلق، وزارت بچانے میں مدد کو دوڑے آئیں گے تو کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کے معاملات زندگی اور حلقہ دوستاں میں جو اہمیت نعیم الحق اور ارشد خان کی ہے وہ ہمارے فواد چودھری کی اگلے تیس پینتیس برسوں میں بھی نہیں ہوسکتی۔ میڈیا کے محاذ پر جو ان کا اصل میدان ہے وزارت کے طفیل بہت سارے لوگ ان سے ناراض ہیں‘ ورکرز بھی اور مالکان بھی۔ عمران خان نے بدھ کی ملاقات میں اسی لئے ان سے کہا تھا کہ میڈیا آخر حکومت کا امیج بہتر بنانے میں کیوں تعاون نہیں کر رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہیں بتانا چاہئے تھا وہ آپ مجھ سے نہ پوچھیں اور بتاؤں گا بھی نہیں کیونکہ فقیر راحموں نے منع کردیا ہے۔

بھارت میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہوچکی۔ ادھر کرتارپور راہداری کو جلد آپریشنل کرنے پر پاک بھارت اتفاق ہے۔ پنجاب اسمبلی میں تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے حال ہی میں منظور کئے جانے والے بل میں چیئرنگ کراس لاہور کے اسمبلی بھٹہ کے سابق مزدوروں کیلئے تاحیات مفت علاج کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عوام کا فرض ہے کہ اپنے منتخب نمائندوں کا خیال رکھیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 57فیصد عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ 22کروڑ عوام میں سے 5 افراد فقیر راحموں کے گھر پر رہتے ہیں ان میں سے تین تو کھلے ڈھلے پیپلز پارٹی کے حامی ہیں ایک نواز شریف کی تازہ مظلومیت سے متاثر اور ایک شدید متاثرہ مہنگائی۔ مطمئن کون ہے اور وہ 57 فیصد کہاں ہیں سوشل میڈیا پر یقینا ہوسکتے ہیں۔ کوشش کروں گا کہ برادرم عماد بزدار کے پاس اگر ہمارے محبوب دانشور خورشید ندیم کے تعاقب کالمی سے کچھ وقت بچ رہے تو وہ ہمیں ان 57فیصد عوام سے آگاہ کریں جو حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ لیجئے نیب نے سراج درانی‘ لیاقت جتوئی‘ وسیم اختر اور یوسف تالپور کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ کرلیا ہے۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں