Daily Mashriq


گیا ہے سانپ نکل‘ اب لکیر پیٹا کر

گیا ہے سانپ نکل‘ اب لکیر پیٹا کر

سول ایوارڈز کی بھی اپنی ایک کہانی ہے بلکہ یہ کہانی تہ درتہ مختلف ادوار میں چلتی رہی ہے اور خدا جانے کب تک چلتی رہے گی۔ تازہ ترین پہلو اس کا یہ ہے کہ اداکارہ مہوش حیات کو تمغۂ امتیاز دینے کے اعلان پر شوبز انڈسٹری انگشت بہ دنداں ہے۔ انڈسٹری سے وابستہ افراد نے جہاں اس اعلان پر حیرت کا اظہار کیا ہے وہیں ملک کے سب سے بڑے سول ایوارڈ کو میرٹ سے ہٹ کر دینے کے فیصلے نے حکومت کی تبدیلی مہم کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس حوالے سے جہاں سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان سے معاملے کا جائزہ لینے کی اپیل کی جا رہی ہے وہیں کراچی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما سے اداکارہ کے تعلقات کا بھی تذکرہ ہو رہا ہے۔

لہو لہان تھا میں اور عدل کی میزان

جھکی تھی جانب قاتل کہ راج اس کا تھا

کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی ’’نااہل‘‘ کو ’’جام‘‘ سے نوازا گیا‘ اس سے پہلے لاہورکے ایک مرحوم ادیب‘ شاعر اور ٹی وی اینکر کو جب اسی طرح پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا تھا تو لاہور کے ادبی حلقوں نے اس پر احتجاج کیا تھا مگر جو تیر ایک بار کمان سے نکل جائے اس کے واپس آنے کے امکانات معدوم ہوتے ہیں۔ اس لئے جس طرح کئی برس پہلے کے اس فیصلے کی واپسی کا کچھ نہ بن سکا تھا یقین نہیں کہ یہ فیصلہ بھی واپس ہوسکے گا اور اگر خبر کے مطابق یہ بات درست ہو کہ موصوفہ کا تحریک انصاف کے کراچی کے کسی اہم رہنماء کیساتھ مراسم ہیں تو پھر کراچی شوبز انڈسٹری کیساتھ تعلق رکھنے والے جو لوگ اس فیصلے پر معترض ہیں تو وہ اپنا ٹٹو چھاویں بنیں۔ ان کا ٹٹو خاموشی سے گھاس ہی کھاتا رہے گا‘ اس کے ہنہنانے کی نوبت نہیں آئے گی کیونکہ جس تبدیلی کی جانب اشارہ کرکے اعتراض کیا گیا ہے وہ تبدیلی یہی تو ہے کہ پہلے کسی اور کے اشارہ ابرو پر ایوارڈز (تمام نہیں مگر چند ضرور) تقسیم کئے جاتے تھے تو اب اگر تحریک کے کسی اہم رہنماء نے اپنی مرضی چلا لی ہے تو کیا یہ تبدیلی نہیں یعنی سفارشی تبدیل ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے چند روز پہلے ملک کے نامور اور معتبر صحافی ہارون الرشید نے اپنے کالم میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اس سلسلے میں رد وبدل خود وزیراعظم کے ایک اہم مشیر نے کی ہے۔ سو اسے ہی اصل تبدیلی سمجھ کر قبول کیجئے اور یہ توقع ہرگز مت کریں کہ کوئی اسے روک سکے گا‘ چاہے مخالفین کچھ بھی کریں فضا میں اس نغمے کی گونج سنائی دیتی رہے گی

روک سکو تو روک لو،تبدیلی آئی رے

تبدیلی آئی رے، تبدیلی آئی رے

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جو لسٹ فائنل ہو کر متعلقہ جائزہ کمیٹی کے سامنے پیش کی گی تھی اس میں مہوش حیات کے علاوہ بعض کھلاڑیوں اور لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک اینکر کا بھی کوئی تذکرہ نہیں تھا اور اب جب نام سامنے آگئے ہیں تو نہ صرف ایسے کئی افراد کو شامل کر دیا گیا بلکہ خیبر پختونخوا کے کئی صحافیوں اور ادباء وفنکاروں کے نام نکال دئیے گئے حالانکہ ان کے نام صوبائی حکومت نے اگر تجویز کئے تھے تو ظاہر ہے ان کی خدمات کو سامنے رکھ کر ہی ایسا کیا گیا تھا جو اس صوبے کیساتھ زیادتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس طرح اس سال بعض سفارشیوں کو ایوارڈز کیلئے چھاتوں کی مدد سے اوپر سے نازل کیا گیا ماضی میں بھی ایسے لوگوں پر مہربانیاں ہوتی رہی ہیں‘ خود ہمارے ہاں سے ایک نہیں کئی بار بعض سفارشیوں کے نام تجویز کئے گئے۔ کئی برس پہلے ایک شاعر اور ایک فنکار (دونوں مرحوم ہوچکے ہیں) کے نام ایوارڈز کیلئے بھیجے گئے بلکہ شاعر کی تو اس کے ایک ہم نام کی وجہ سے لاٹری نکل آئی تھی کہ اصل ایوارڈ تو اس نابغہ شخصیت کے نام تھا مگر جیوری میں ہمارے صوبے کی ایک شخصیت ایسی موجود تھی انہوں نے تگڑم لڑا کر جس کے نام ایوارڈ کا فیصلہ ہوا اسی کے ایک ہم نام کی فائل آگے کروا کر اصل حقدار کو محروم اور ایک انتہائی جونیئر بلکہ غیراہم شخص کو ایوارڈ لسٹ میں شامل کرا دیا جبکہ اس فنکار کی سفارش بھی دیگر سینئر فنکاروں کو نظرانداز کرکے کی اور یوں جب ایوارڈ لسٹ میں ان دونوں کے نام آئے تو تب راقم نے اس پر کالم باندھ کر اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ بقول توقیر عاطفؔ

آئین زباں بندی زنداں پہ نہیں لاگو

زنجیر سلامت ہے‘ جھنکار سلامت ہے

سول ایوارڈز کے حوالے سے ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے کہ صدر ضیاء الحق نے ایک بار کچھ لوگوں کے ناموں کی منظوری دی کہ ان کے جہاز کو حادثہ پیش آگیا اور عام انتخابات کے نتیجے میں محترمہ بینظیر بھٹو اقتدار میں آئیں۔ انہوں نے اعلان کردہ ناموں کی لسٹ منگوا کر ان میں سے چند افراد کے نام حذف کردئیے۔ ایک تو نامور صحافی تھے جو بھٹو کے دور سے ہی پیپلز پارٹی کے سخت ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔ ایک مشہور نعت خوان خاتون مرحومہ منیبہ شیخ اور ایک ہمارے ریڈیو کے ساتھی قاری فدا محمد مرحوم بھی شامل تھے اور بھی کئی افراد تھے۔ اس پر محولہ صحافی کی قیادت میں پہلے تمام متاثرین نے صدر مملکت کو خطوط لکھ کر داد رسی چاہی مگر ناکامی کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا اور بالآخر مقدمہ جیت لیا جس کے بعد انہیں ایورڈز دئیے گئے۔ اس لئے ہمیں خدشہ ہے کہ اگر مہوش حیات کا نام ڈراپ کر دیا گیا تو کہیں وہ بھی عدالت سے رجوع نہ کرلیں اس لئے معترضین سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ

خیال زلف دوتا میں نصیرؔ جیتا کر

گیا ہے سانپ نکل‘ اب لکیر پیٹا کر

متعلقہ خبریں