Daily Mashriq

مرے خیال کو اہل نظر کریں گے کیچ

مرے خیال کو اہل نظر کریں گے کیچ

اس میں کوئی شک نہیں کہ کھیل سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستانیوں کا مقبول ترین کھیل کرکٹ نہ صرف سیاست بلکہ زندگی کی معمولات سے بھی قریب تر ہے، آج کل روشنیوں کے شہر کراچی میں پاکستان سپرلیگ کا میلہ لگا ہوا ہے، سیمی فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹر، پشاور زلمی کو ہرا کر فائنل میں پہنچ گئی ہے۔ پشاور زلمی کے پاس ابھی چانس باقی ہے، کرکٹ میں دلچسپی لینے والوں کیلئے یہ خبر اتنی ہی دلچسپ ہے جتنی کہ انہیں کرکٹ کا کھیل پسند ہے۔ جس وقت ہم تک یہ خبر پہنچی ہم نے ہیل کی نہ حجت اور قلم اُٹھایا آج کل کے اس مقبول موضوع پر لکھنا شروع کردیا، عام طور پر ہمارے لکھنے اور لکھ کر روزنامہ مشرق کے ادارتی صفحہ پر چھپنے یا شائع ہوکر آپ کے ہاتھوں میں پہنچنے تک 48گھنٹے صرف ہوتے ہیں اس لئے گمان کیا جاسکتا ہے کہ ان اڑتالیس گھنٹوں کے دوران یہ خبر کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی فتح کہانی سنانے کی بجائے کسی اور ٹیم کی فتح اور نصرت کی کہانی بن جائے کیونکہ ہر لمحہ ہر آن خبریں بدلتی رہتی ہیں اور ہر وہ خبر جو آخری یا حتمی خبر سمجھی جاتی ہے لمحات کے بدلنے کیساتھ اپنی بھی صورت بدلتی رہتی ہے۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

ہر ساعت یا ہر لمحہ خبروں میں آنے والا نت نیا بدلاؤ لیکر طلوع ہوتا ہے۔ اب سے ایک سیکنڈ پہلے ہماری گھڑی کی سوئیاں اس مقام پر نہیں تھیں جہاں وہ اب ہیں اور ایک سیکنڈ بعد اس مقام پر نہیں رہیں گی جس مقام پر پہنچنے کی خبر بن کروہ ہمارے سامنے ہیں۔ گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک ہمیںگزرتے وقت کے ایک ایک سیکنڈ سے آگاہ کرتے ہوئے ہمارے حال کو ماضی کے جھروکوں میں پھینک آنے اور مستقبل کو حال بنا کر ہمارے سامنے لے آنے کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ یہ جو کرکٹ کا کھیل ہے گھڑی کی سوئیوں کی طرح اپنا چولا بدلتا رہتا ہے۔ کرکٹ ہماری، آپ کی زندگی میں آنے والے بدلاؤ کی اچھی خاصی تمثیل پیش کرتا ہے۔ کرکٹ کے شائقین اور ماہرین اس کھیل کو کرکٹ بائی چانس کہہ کر پکارتے ہیں۔ میں نے سن رکھا تھا کہ فٹ بال از بائی پاور، ہاکی از بائی ٹرک اینڈ کرکٹ از بائی چانس۔ لیکن میں اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ کرکٹ میں بھی پاور اور ٹرک کا عمل دخل رہتا ہے۔ اگر پاور طاقت یا قوت کو کہتے ہیں اور انگریزی زبان کے لفظ ٹرک کے معنی چال کے ہیں تو یہ دونوں عوامل کرکٹ کے کھیل میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم اسے اگر اپنی روزمرہ زندگی کے قریب تر نہ بھی کہیں تو زندگی کے شعبۂ سیاست کے بے حد قریب سمجھتے ہیں۔ جبھی تو بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کا یہ مقبول ترین کھیل تھا۔ اس کھیل میں ہر بات کا فیصلہ آناً فاناً نہیں ہوتا۔ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے جہد مسلسل کے لمحات طے کرتے ہوئے منزل کی جانب قدم بڑھائے جاتے ہیں اور کبھی موقع پاتے ہی جارحانہ انداز اپنا کر فتح اور کامرانی کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دھیرے دھیرے ٹھہر ٹھہر کر کھیل کا آغاز کرنے والا جب موقع پاتے ہی چوکے چھکے مارنے لگتا ہے یا جارحانہ انداز اختیار کرنے والا ایک دم سے ہر بال کو محتاط انداز سے کھیلنے لگتا ہے تو ہم کھیلنے والے کے اس بدلتے موسموں جیسے تیور کو یوٹرن کا نام دیتے ہیں۔ جسے کرکٹ اور ملک وقوم کے کپتان عمران خان نے کھیل کے علاوہ سیاست میں بھی جائز قرار دے دیا ہے۔ ایڈولف ہٹلر کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کرکٹ نامی کھیل کو پسند نہیں کرتا تھا۔ہٹلر نے کرکٹ کے کھیل کے ان پہلوؤں کو منفی ہی نہیں وقت کا زیاں گردانا اور بھرے میدان میں وکٹیں بال اور بلے اکٹھے کرکے نہ صرف جلوا ڈالے بلکہ اس کھیل پر پابندی لگا دی لیکن دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے مدمقابل اتحادیوں نے کرکٹ کے اصول، سیاست کے علاوہ میدان جنگ میں بھی استعمال کئے اور یوں وہ ہٹلر اور اس کے اتحادیوں کی عبرت ناک شکست کا باعث بنے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور ایڈولف ہٹلر میں جنگی جنون کے حوالے سے جو مماثلت اور قدر مشترک پائی جاتی ہے وہ کرکٹ کے کھیل سے یکسر مختلف ہے۔ کرکٹ ایک خاص نظم وضبط اور منصوبہ بندی کیساتھ فتح وکامرانی حاصل کرنے کیلئے جہد مسلسل کا نام ہے۔ ایک اچھا کرکٹر اس تاک میں رہتا ہے کہ کب خوش قسمتی اس کے دروازے پر دستک دے گی اور اسے جیسے ہی کوئی سنہری موقع ہاتھ آتا ہے وہ اس کو پورا پورا کیش کر ڈالتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھنے کیلئے ٹیم ورک کی ضرورت پڑتی ہے اور اس ٹیم ورک کا درس ہمیں حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے بتائے ہوئے اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے سنہری اصولوں میں ملتا ہے، وہ اصول جنہوں نے برصغیر پاک وہند کے کروڑہا مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے مالامال کیا، اگر ہم بانی پاکستان کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں کے علاوہ ان کے پسندیدہ کھیل کرکٹ کے اسرار ورموز پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں تو ہم کھیل کھیل میں اپنی تعمیر وترقی کے سفر پر گامزن ہونے کے بہت سے راز حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر سوچ الگ خیال اپنا اپنا ہوتا ہے، ہم نے کرکٹ کے کھیل کو زندگی اور سیاست کے بہت قریب پایا سو اپنا نظریہ پیش کردیا، یہ الگ بات کہ دلاور فگار جیسے شاعر کرکٹ کھیل کو بڑے دھڑلے سے مشاعرہ کہہ گئے ہیں

مرے خیال کو اہل نظر کریں گے کیچ

مشاعرہ بھی ہے ایک طرح کا کرکٹ کا میچ

متعلقہ خبریں