Daily Mashriq


اوبور کانفرنس کا کامیاب انعقاد

اوبور کانفرنس کا کامیاب انعقاد

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سرحدوں کی پابند نہیں۔بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین میں بیلٹ اینڈ فورم کا انعقاد تاریخی موقع ہے ، یہ منصوبہ تین براعظموں کو ملائے گا ،اس سے خطے میں دہشتگردی اور انتہاپسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی ، غربت کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ہم اس وقت جیو اکنامک دور میں داخل ہورہے ہیں ہم ون بیلٹ ون روڈکی کامیابیوں کا اعتراف کرنے جمع ہوئے ہیں، منصوبے سے ایشیا، افریقہ اوریورپ کوملانے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ چائنا ریلوے منصوبہ باہمی روابط کا پل ہے،منصوبے سے دنیا کے 65 ممالک استفادہ کرسکتے ہیں،علاقائی روابط کے منصوبوں پربے مثال سرمایہ کاری ہورہی ہے،ممالک کے درمیان تنازعات کی بجائے تعاون فروغ پاناچاہیے۔چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈروڈمنصوبے میںچین اورپاکستان اہمیت کے حامل ہیں،بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے امیراورغریب ممالک کافرق ختم ہوگا۔بیجنگ میں بیلٹ اینڈروڈفورم سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ21ویں صدی کاعظیم منصوبہ ہے،بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے ممالک اوربڑے ادارے ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ دنیا کے امن میں بھی اہم کرداراداکرے گا،منصوبے سے یورپ اورایشیاکوتجارتی فوائدحاصل ہوں گے۔اس موقع پر روس کے صدرپیوٹن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈروڈمنصوبے سے دنیاکامستقبل وابستہ ہے،ترکی چین سمیت تمام ممالک کیساتھ مل کرکام کرنے کیلئے تیار ہے،روس منصوبے میں سرمایہ کاری کے لئے تیارہے۔روسی صدر نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے کئی منصوبے ناکام ہوچکے ہیں، اکیسویں صدی کے چیلنجزسے نمٹنے کے لئے بیلٹ اینڈروڈفورم اہم منصوبہ ہے،یورپی یونین کے ممالک کوبیلٹ اینڈروڈفورم میں خوش آمدیدکہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ روس بیلٹ اینڈروڈکی مکمل حمایت کرتاہے۔چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جسے ہم پاک چین اقتصادی راہداری سے بھی موسوم کرتے ہیں ایک عظیم بین الاقوامی اور اہم منصوبہ ہے جس کی وسعت سرمایہ کاری پاکستان اور سری لنکا میں بندر گاہوں سے لے کر مشرقی افریقہ میں تیز رفتار ٹرینوں اور وسطی ایشیاء سے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں تک ہے۔ چین کاایک پٹی ایک شاہراہ (اوبور) کسی ایک ملک کی اب تک سب سے بڑی سرمایہ کاری متصور ہوتی ہے۔ اوبور دو راستوں پر تجارت کے فروغ کا باعث ہوگا جن میں سے ایک تو قدیم شاہراہ ریشم ہے جو چین سے وسطی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے گزرتی ہوئی یورپ پہنچے گی اور دوسرا راستہ چین کو سمندر سے جنوب مشرقی ایشیاء اور مشرقی افریقہ سے ملائے گا۔ اس نافع منصوبے کی خطے کے ممالک نے نہ صرف مخالفت نہیں کی بلکہ ترکی اور روس اس منصوبے کے ثمرات سمیٹنے پوری طرح میدان عمل میں ہیں۔ البتہ منصوبے میں پاکستان کو فطری طور پر مرکزی اہمیت ملنے اور ثمرات کا زیادہ سے زیادہ حصہ ملنے پر بھارت سیخ پا ضرور ہے۔ بھارت نہ صرف ان ثمرات سے بدک رہا ہے بلکہ اس کی کوشش تھی کہ روس کو بھی اس منصوبے سے دور رکھے۔ نئی دہلی نے ماسکو پر زور دیا تھا کہ وہ اوبور کی سربراہی سطح کے اجلاس میں شرکت نہ کرے لیکن روسی صدر پیوٹن ہی نہیں ترکی کے صدر بھی بڑھ چڑھ کر اوبور سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے۔ معلوم نہیں بھارت اور امریکہ کو اس نافع منصوبے سے بیر کیوں ہے حالانکہ چینی صدر اور وزیر اعظم پاکستان دونوں نے اپنے اپنے خطاب میں کھل کر اس امر کا اظہار کیا کہ اوبور کا نظریہ اور مقصد امن و سلامتی کو یقینی بنا کر غربت و افلاس کا خاتمہ ہے۔ سربراہی اجلاس میں ایک مرتبہ پھر خدشات کو رد کرکے بھارت کو شاخ زیتون پیش کی گئی اور اس امر کی پیشکش کا اعادہ کیاگیا کہ منصوبے میں وسعت کی بہت گنجائش موجود ہے۔ اس موقع پر چین کے جاپان سے اختلافات اور ویت نام سے علاقائی مسائل کے باوجود دونوں ممالک کو مدعو کیا جانا اور ان ممالک کی اعلیٰ سطحی نمائندگی کی موجودگی عملی طور پر اس امر پر دال ہے کہ اس تجارتی و اقتصادی منصوبے میں دیگر معاملات کو ایک طرف رکھ دیا گیا ہے جس طرح جاپان اور ویت نام نے شرکت کی۔ اگر اسی طرح بھارت بھی شرکت کرتا تو خطے میں ایک مثبت تاثر ابھرتا جس سے کشیدگی کے گہرے سایوں کی لمبائی اور گہرائی کی شدت میں کچھ کمی محسوس ہوتی۔ چینی قیادت نے اس منصوبے میں پوری دنیا کو ہمراہ کاب رکھنے کا ایسا انقلابی قدم اٹھایا ہے جس سے خود کو الگ تھلگ رکھنا کسی بھی ملک کے لئے مشکل ہے سوائے ان ممالک کو جو اس منصوبے کے خدا واسطے کے مخالف اور دشمن ہیں۔ بہر حال خوش آئند امر یہ ہے کہ اس منصوبے میں شمولیت کرنے والے ممالک کی تعداد بدستور بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان کو اپنے محل وقوع کی بنیاد پر منصوبے میں از خود مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بنیادی اساس کی بہتری' توانائی کے بحران کا خاتمہ' دہشت گردی کا قلع قمع اور دیگر بنیادی مسائل حل کئے جانے میں خود چینی قیادت کو دلچسپی ہے۔ چینی تعاون کی نوعیت دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر صورت کی حامل ہے جو دوسرے ملک کو اپنا دست نگر بنانے کی بجائے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے امداد لینے والے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ چین کا تعلق ویسے بھی مفادات سے بالا تر ہے اور رہا ہے۔ چین کے فراخدلانہ تعاون سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں نظام مملکت کی اصلاح کی جائے ۔ اہم ملکی شعبوں کو ترقی کے معیار پر لایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رشوت و بدعنوانی ' بد نظمی اور بد گمانیوں کا خاتمہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں