Daily Mashriq


بھتہ خوری کی وارداتوں میں پھر سے اضافہ

بھتہ خوری کی وارداتوں میں پھر سے اضافہ

اگرچہ پولیس اور میڈیا میں اس امر کی رپورٹ کم ہی ہوتی ہے اور ہونے لگی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھتے کی وصولی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ تاجروں' ڈاکٹروں اور مختلف کاروباری افراد کو اب بھی بھتہ کی کالیں آتی ہیں۔ معاملات طے ہوتے ہیں اور لوگ جان جانے کے خوف سے خاموشی کے ساتھ لین دین کرلیتے ہیں۔ پولیس بھی عموماً کال موصول ہونے والوں کو مک مکا کی برادرانہ نصیحت کرکے اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ کال وصول کرنے والے اہل خانہ بھی اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ بھتہ خوروں سے معاملات راز داری کے ساتھ طے کئے جائیں۔ اس طرح کی صورتحال سے بھتہ خوروں کا شیر ہوجانا فطری امر ہے۔ بھتہ کال کرنے والوں کا نیٹ ورک اتنا وسیع ہے کہ اکثر وہ افغانستان کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات بیرون ملک سے بھی کالیںموصول ہوتی ہیں اور اندرون ملک نیٹ ورک سے بھی کالیں ملتی ہیں جن کی اطلاع متعلقہ حکام کو ملتی ہے یا نہیں آپریشن رد الفساد کے د وران بھتہ خور عناصر کے خلاف بھرپور اور خصوصی کارروائی ابھی باقی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جو گروہ ٹکڑوں میں بٹ گئے تھے انہوں نے جرائم پیشہ عناصر سے مل کر اب بھتہ خوری کا طریقہ واردات اپنا لیا ہے۔ پولیس اور حساس اداروں کو بھتہ کی کال ملنے والوں کا تحفظ یقینی بنا کر ان کو بھتہ خوروں کے مظالم سے نجات دلانے پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ شہر میں اکا دکا واقعات بڑھ کر پہلے کی طرح معمول بن جائیں گے جن لوگوں کو کالیں موصول ہو رہی ہیں ان کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کا یقین دلا کر ہی پولیس لوگوں کو ان معاملات کی رپورٹ کرنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ تھانوں میں متاثرہ لوگوں کو خاموشی سے معاملات نمٹانے کی بجائے پوری طرح تحفظ کی فراہمی کا یقین دلایا جائے اور جو شکایت کننددگان پولیس کے پاس جائیں ان ے گھروں اور کاروبار کے مقامات کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ بھتہ خوروں کے خلاف منظم اور سخت آپریشن شروع کیاجائے۔ مشتبہ عناصر کی گرفتاریاں کی جائیں اور جو جو گروہ قبل ازیں اس طرح کی وارداتوں میں مطلوب رہے ہوں ان کی سخت نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑے تو گرفتاریوں سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔

اہالیان کرک کی صدائے العطش العطش

پانی کی عدم دستیابی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف کرک کے تاجروں اور عوام کا سڑکوں پر نکل آنا تنگ آمد بجنگ آمد کے مترادف ہے۔ کرک کے عوام سے تو مفت نلکا نظام لگا کر آبنوشی کی فراہمی یقینی بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا جسے پورا کرنا کجا اب حکومتی عہدیدار عوام کا پلٹ کر حال پوچھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کر رہے ہیں۔ کرک ایک بے آب و گیاہ علاقہ ہے جہاں کے مکینوں کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے جو ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ پانی کی فروخت یہاں کا بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ حکومت جہاں ایک جانب عوام کو پانی بھی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور کرچکی ہے وہاں دوسری جانب بجلی نہ ہونے سے عوام کو قیمتاً بھی پانی نہیں مل رہا ہے۔ ایسے میں اس بے آب و گیاریگستانی علاقے میں زندگی کی مشکلات کیا ہوں گی اس کا اندازہ یخ بستہ کمروں میں بیٹھے حکام اور شہری سہولیات سے مستفید شہری کر ہی نہیں سکتے۔ ایسا لگتا ہے کہ کرک کے عوام کے صبر و تحمل کا امتحان لیا جارہا ہے۔ کرک کے عوام سخت ضرورت کے باوجود پنکھا چلانے کے لئے بجلی کا مطالبہ تو کر ہی نہیں رہے ہیں لیکن کم از کم ان کو اتنی بجلی تو فراہم کی جائے کہ ان کو پانی فراہم کرنے والے پانی نکال کر ان کو فروخت کرسکیں۔ کرک میں پانی کی قدرتی کمی کا مسئلہ اپنی جگہ اور اس کو دور کرنے اور آبنوشی کے انتظامات سے غفلت اپنی جگہ ان جاں بہ لب شہریوں کو اگر مفت نہیں قیمتاً بھی پانی نہ ملا تو عورتیں اور معصوم بچے اس ریگستانی علاقے کی شدید گرمی میں تڑپ تڑپ کر جان دینے پر مجبور نہیں ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو پیسکو حکام سے اس ضمن میں خصوصی طور پر رابطہ کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام بھی اگر سیاست سے بالا تر ہو کر ان پیاسے شہریوں کا مسئلہ حل کروائیں تو یقینا عنداللہ ماجور ہوں گے۔

متعلقہ خبریں